متحدہ کی ہنگامہ آرائی پی ایس ایل سبوتاژکرنے کی سازش تونہیں؟ حساس ادارے نے تحقیقات شروع کردی

194

کراچی (رپورٹ خالد مخدومی+اسٹاف رپورٹر )حساس ادارے نے متحدہ ریلی کے طے شدہ روٹ پرجانے کے بجائے وزیر اعلیٰ ہاوس کا رخ کرنے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ وسیم اختر اور محمد حسین نے شرکاءکو بھڑکا کر وزیراعلیٰ ہاوس کی طرف بھیجا۔باخبر ذرائع کے مطابق ریلی جب اپنے اعلان اور طے شدہ پروگرام کے مطابق پریس کلب پہنچی تو ریلی میں موجود متحدہ کی تمام قیادت اچانک منظر عام سے غائب ہوگئی ۔ بتایا جاتاہے کہ تمام اہم رہنما ایک سرکاری نمبر پلیٹ لگی گاڑی اور ایک ہائی ایس میں بیٹھ گئے تھے اسی دوران وسیم اختر کے قریب سمجھے جانے والے کارکنوں نے نعرے لگانے شروع کیے کہ وزیر اعلیٰ ہاوس چلو ا س طرح ریلی کا رخ وزیراعلیٰ ہاوس کی طرف ہوگیا۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس ادارے ا س بات کی تفتیش کررہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران کی جانب سے رابطے کی کوشش کے باوجود متحدہ کے رہنماو¿ں کی جانب سے جوابی رابط کیوں نہیںکیا گیا؟ ذرائع کے مطابق اس بات کی بھی تفتیش کی جارہی ہے کہ متحدہ اپنی سیاسی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے شہر میں جان بوجھ کر امن وامان کی صورتحال بگڑانے کی مز ید کی کوشش تو نہیں کررہی ہے۔ ادارے ا س بات کی بھی تفتیش کررہے ہیں کہ ریلی کو ان ہوٹلوں کی طرف لے جانے اور وہاں ہنگامہ آرائی کو پی ایس ایل سبوتاژ کرنے کی سوچی سمجھی سازش تو نہیں ہے۔ مزید برآں متحدہ قومی موومنٹ کے مقامی عہدے دار محمد اسلم کی موت معمہ بن گئی، لا ش کا پوسٹمارٹم نہ کرائے جانے اور متوفی کے مو بائل فون ریکاڑد نے معاملے کو مزید مشکوک کردیا۔متحدہ نے وزیر اعلیٰ کی درخواست کے باوجود اسلم کی لاش کا پوسٹمارٹم نہیں کرایا۔متحدہ کے مطابق ہلاکت وزیر اعلیٰ ہاو¿س کے قریب ہونے والے پولیس تشدد کے نتیجے میں ہوئی جب کہ پولیس نے محمد اسلم موبائل فون کا پورے دن کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا،جس کے مطابق اسلم واقعہ کے وقت وزیر اعلیٰ ہاوس کے قریب بھی نہیں آیا اور وہ آخر وقت تک پریس کلب کے باہرموجود تھا۔پولیس دعوے کے مطابق پولیس ایکشن کے وقت اسلم وزیر اعلیٰ ہاو¿س پر نہیں بلکہ پریس کلب پر موجود تھا،قانونی حلقوں کے مطابق لاش کا پوسٹمارٹم نہ کرانے سے معاملہ مزید مشکوک بنارہاہے ، اسلم کی موت فیڈرل بی ایریا بلاک 16میں واقع کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیززمیں ہوئی ،جو اسلم کے گھر کے قریب ہی واقع ہے ، قانونی حلقوں کے مطابق گوکہ متحدہ اسلم کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرانے کا کہہ رہی ہے جس میںآئی جی اور وزیراعلیٰ کو نامزد کرے گی تاہم قتل کے کسی بھی مقدمے کی اہم ترین ضرورت او ر تمام تر تفتیش کا دارومدار لاش کے پوسٹمارٹم سے ملنے والے شواہد سے ہوتا ہے ، پوسٹمارٹم نہ کرائے جانے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ متحدہ اپنے عہدے دار کے مبینہ قتل کا مقدمہ درج کرانے یا اس کی تفتیش میں واقعتا کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے متحدہ کے رہنماوفاقی وزیر امیںالحق کو ٹیلی فونگ رابطہ کے ذریعے یقین دہانی کرائی تھی کہ واقعہ کی غیرجانبدارنہ تحقیقات کی جائے گی وزیر اعلی نے امیںالحق سے اپیل کی تھی کہ اسلم کی لاش کا پوسٹمارٹم لازمی طور پر کروایا جائے تاکہ واقعے کی جامع تفتیش ہواور واقعہ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جاسکے ۔علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کارکن محمد اسلم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ نمازہ جنازہ میں ایم کیو ایم کے رہنماو¿ں اور کارکنان کی بڑی تعداد شریک تھی۔اس موقع پر کراچی کے علاقے واٹر پمپ سے عائشہ منزل جانے اور آنے والی روڈ ٹریفک کے لیے بند کردی گئی تھی۔