نوجوانوں میں نشے کا بڑھتا رجحان لمحہ فکر ہے، شوریٰ ہمدرد

136

کراچی(اسٹاف رپورٹر)شوریٰ ہمدرد کا آن لائن اجلاس ’منشیات کا بڑھتا رجحان ، ذمہ دار کون؟‘ کے موضوع پر گزشتہ روز اسپیکر شوریٰ ہمدرد کراچی جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت منعقد ہوا ، جس میں اراکین شوریٰ نے ملک میں منشیات کے بڑھتے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نشہ آور اشیا ء کی دستیابی کو سختی سے روکے۔ اجلاس میں صدرہمدرد فائونڈیشن سعدیہ راشد نے بھی بذریعہ ’زوم‘ شرکت کی۔ابتدائی کلمات میں جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کہا کہ یہ موضوع ملکی سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔ خصوصاً نوجوان طبقے میں نشہ آور اشیاکا بڑھتا استعمال لمحہ فکر ہے ۔ لاکھوں طلبہ اس خوفناک لت کا شکار ہوگئے ہیں ، ملک میں منشیات فروشوں کا نیٹ ورک مضبوط ہورہا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے سدباب میں ارباب اختیار کے عملی اقدامات کاواضع فقدان نظر آرہا ہے۔ مقررین نے کہاکہ منشیات کھلے عام بکتی ہے، ایسا ممکن ہی نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروںکے چند افسران اس مکروہ کام میں ملوث نہ ہوں۔ سماجی رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ بہت سی نشہ ا?ور اشیاء￿ جیسے پان چھالیہ گٹکا شیشہ کے استعمال کو بْرا ہی نہیں سمجھا جاتا۔ حالانکہ ان کی وجہ سے حالیہ کچھ عرصہ میں ملک میں منہ اور جبڑے کے سرطان کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ طلبہ میں نشہ ا?ور اشیاء کا استعمال کی بڑی وجہ ذہنی دبائو اور ڈپریشن ہے۔تعلیمی اداروں میں باقاعدگی سے ایسے لیکچرز کا اہتمام کرنا ہوگا جس میں بچوں کو نشہ ا?ور اشیاء کے استعمال سے پیدا ہونے والے منفی جسمانی و ذہنی اثرات واضع بیان کیے جائیں۔شوریٰ ہمدرد سے ڈاکٹر رضوانہ انصاری، ڈاکٹر تنویر خالد،کرنل (ر) مختار احمد بٹ، انور عزیز جکارتہ والا،انجینئر انوار صدیقی،کموڈور (ر) سدید انور ملک،ظفر اقبالاورمسرت اکرم نے بھی خطاب کیا۔ محترمہ سعدیہ راشد نے اجلاس میں شرکت پر مقررین وسامعین کا شکریہ اداکیا اور کہا کہ نوجوانوں میں منشیات کا استعمال بڑھنا ایک خطرناک امر ہے۔