اسٹیٹ بینک ترمیمی بل ‘ حکومتی ارکان کا اپوزیشن سینیٹرز سے رابطہ

106

اسلام آباد (صباح نیوز) قومی اسمبلی سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پاس کرانے کے بعد حکومت نے ایوان بالا پر نظریں جمالیں اور حکمت عملی بھی ترتیب دے دی۔ ایک نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایوان بالا سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پاس کرانے کیلیے حکومتی شخصیات نے اپوزیشن سینیٹرز سے رابطے کیے ہیں، جس میں بل کی منظوری کے وقت اپوزیشن کے 3 سے 4 سینیٹرز کو غیر حاضری کا کہا گیا ہے اور ن لیگ کے 2 سینیٹر، 1 پیپلز پارٹی اور ایک چھوٹی جماعت کے ارکان کی غیر حاضری کا امکان ہے۔ دوسری جانب حکومتی سینیٹرز کی جانب سے اپوزیشن سینیٹرز سے رابطوں پر اپوزیشن سربراہوں نے اپنے جماعت کے سینیٹرز کو بہر صورت ایوان بالا میں پہنچنے کی ہدایت دے دی ہیں۔ ایک اپوزیشن رہنما نے ان رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امکان ہے کہ کچھ سینیٹرز قانون سازی کے وقت موجود نہ ہوں۔ یاد رہے کہ ایوان بالا میں اپوزیشن اتحاد کو اکثریت حاصل ہے، ان کے سینیٹرز کی تعداد 51 جبکہ حکومتی اتحاد 48 سینیٹرز پر مشتمل ہے،4 اپوزیشن ارکان کم ہونے پر حکومت کیلیے بل پاس کرانے میں آسانی ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کو ایوان بالا سے پاس کرانے کیلیے 2 فروری تک کی مہلت دی گئی ہے۔