طاقتور کو قانون تلے لانا سب سے بڑا جہاد ہے ، وزیر اعظم

153
لڑکیوں کو حجاب پہننے سے بھارتی عدالت کا منع کرنا اسلامو فوبیا ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد ( آن لائن+اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طاقت ور کو قانون کے نیچے لانا آج کا سب سے بڑا جہاد ہے، جب تک معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا خوشحالی نہیں آئے گی،90 لاکھ اوورسیز پاکستان میں انویسٹ کرنا شروع کردیں تو ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ فوجداری قانون میں اصلاحات سے متعلق اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ باہر ممالک کے قانونی نظام ٹیکنالوجی کی مدد سے بہتر ہوتے رہے جبکہ پاکستان کا نظام انگریز کے جانے کے بعد سے نیچے جاتا رہا،طاقتور اور عوام کے لیے علیحدہ پاکستان بن گیا، جسٹس سسٹم صرف طاقتور کو فائدہ پہنچانے لگا اور عام آدمی جیلوں میں بھرے جاتے رہے،کئی قیدیوں کا جرم صرف ان کی غربت ہے، تعلیم اور انصاف کا سسٹم شروع سے خراب ہوتا رہا، پرائیوٹ انگریزی اسکول اوپر جاتے رہے اور گورنمنٹ اسکول زوال کا شکار ہوگئے، اسی طرح سرکاری اسپتالوں کا حال بھی خراب ہوتا گیا اور نجی اسپتال آتے گئے، امیر ملک سے باہر جاکر علاج کرانے لگے۔انہوں نے کہا کہ آج جو سسٹم متارف کرایا ہے اس کا مقصد عام آدمی تک انصاف کی رسائی ہے، مدینے کی ریاست کا تصور صرف جمعے کے خطبوں تک محدود ہوگیا ہے، اس سے بہترین ماڈل دنیا کی تاریخ میں کوئی نہیں جس نے انقلاب برپا کیا، اسلامی فلاحی ریاست کا ماڈل مدینہ کی رہاست ہی ہے، ہیلتھ انشورنس جیسا قدم کئی خوشحال ممالک میں بھی موجود نہیں ہے، مفت انشورنس ہر خاندان کو دینا فلاحی ریاست کی جانب اہم قدم ہے۔وزیراعظم کے بقول ریاست مدینہ کے ابتدائی سالوں میں خوشحالی نہیں تھی لیکن قانون کی بالادستی سب سے پہلے قائم کی گئی، انصاف کی عدم فراہمی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، سوئٹزرلینڈ رول آف لا انڈیکس میں سب سے اوپر ہے، ہمارے ناردن ایریاز سوئزرلیند سے بہتر ہے لیکن رول آف لا نہ ہونے کی وجہ سے ہم سیاحت سے100 بلین ڈالر بھی کما نہیں پاتے،سوئزلینڈ میں چپڑاسیوں کے اکاونٹ میں اربوں روپے نہیں نکلتے، ان کا معاشرہ ہمارے لیے مثال ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم ایم کیو ایم کے مظاہرین پرپولیس کے تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ ، چیف سیکرٹری سندھ اور آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ رپورٹ ملنے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔