انفرااسٹرکچر کی بہتری کامنصوبہ تیار ہے ، انجینئر صلاح الدین

185

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ واٹر بورڈ کی سروس میں بہتری کے پروجیکٹ پر 1.6 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے، لاگت کا 40 فیصد عالمی بینک، 40 فیصد ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور 20 فیصد سندھ حکومت ادا کرے گی۔ جبکہ یہ منصوبہ 12 سال میں مکمل کیا جائے گا۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) میں خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ کاٹی کے صدر سلمان اسلم، کائیٹ کے سی ای او زبیر چھایا، قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن نگہت اعوان، سینئر نائب صدر ماہین سلمان، نائب صدرسید فرخ قندھاری، سابق صدور سلیم الزماں، گلزار فیروزاور فرخ مظہر سمیت کاٹی کے دیگر ممبران موجود تھے۔ انجینئر صلاح الدین نے مزید کہا کہ کراچی کی صنعتوں سمیت تمام شہریوں کو پانی کی بلا تعطل فراہمی، ادارے کی مالی اور انتظامی کارکردگی سمیت مستقبل میں پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے سروس میں بہتری کا منصوبہ تیار کیا ہے جو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلا مرحلہ 10 کروڑ ڈالر کی لاگت سے 4سال سے زائد عرصہ میں مکمل کیا جائے گا۔ اس سے قبل کاٹی کے صدر سلمان اسلم نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں پانی اور سیوریج کا نظام بری طرح متاثر ہے۔ تاہم واٹر بورڈ سروس امپرومنٹ پروجیکٹ خوش آئند ہے۔ صنعتکارمہنگے داموں واٹر ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔ بیشتر صنعتکار پانی کی قلت کے باعث صنعتیں بند کرکے دیگر شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں۔ صدر کاٹی نے کہا کہ واٹر بورڈ کا عملہ صنعتی علاقے کو ترجیحی بنیادوں پر پانی کی فراہمی یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ کاٹی کورنگی میں پانی اور سیوریج کے نظام میں بہتری کے لیے واٹر بورڈ سے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔ اس موقع پر کائیٹ کے سی ای او زبیر چھایا نے کہا کہ واٹر بورڈ کے ادارے نے نہ صرف کورنگی صنعتی علاقہ بلکہ کراچی کے شہریوں کو ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں لائنوں کے ذریعہ پانی دستیاب نہیں لیکن ٹینکروں کے ذریعہ جتنا چاہیں پانی خرید سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں جگہ جگہ غیر قانونی ہائیڈرینٹس قائم ہیں جو لائنوں کا پانی چوری کرکے ٹینکروں کے ذریعہ عوام کو بیچ رہے ہیں۔ زبیر چھایا نے مزید کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں سیوریج کے نظام کو بہتر بنانے میں واٹر بورڈ فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورنگی میں کائیٹ کے تحت ترقیاتی کام کیے جاتے ہیں لیکن سیوریج کا پانی سڑکوں پر آنے کے باعث سڑکیں جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ تقریب سے کاٹی کی قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن نگہت اعوان کا کہنا تھا کہ کاٹی کے صنعتکاروں کے مسائل وقتاً فوقتاً واٹر بورڈ حکام تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کا سروس امپرومنٹ منصوبہ کراچی میں موجود پانی اور سیوریج کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے میں اہم سنگ میل ہوگا۔ تاہم حکام یہ یقینی بنائیں کہ منصوبہ بروقت مکمل کرلیا جائے گا۔