جماعت کا دھرنا، پیپلز پارٹی کا سیاسی مستقبل خطرے میں

362

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کو پیپلز پارٹی ہلکا لے رہی ہے اور یہ سمجھ رہی ہے کہ یہ لوگ جب تھک جائیں گے تو خود ہی اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے یا موسم کی سختی بھی انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے ایک رائے یہ بھی ہے کہ طویل دھرنے کے نتیجے میں ان کی پارٹی کے اندر بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی ان سب مفروضوں سے اپنے آپ کو بہلا رہی ہے، اس کو شاید یہ نہیں معلوم کہ جماعت کے کارکنان انتہائی سخت جان ہوتے ہیں یہ دھرنا چاہے دنوں اور ہفتوں کے بجائے مہینوں پر محیط ہو جائے جماعت کے کارکنان سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے، جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے پیپلز پارٹی خود دبائو کا شکار ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے گھبراہٹ ان کے چہروں سے عیاں ہے، پیپلز پارٹی کے ایک اپنے اجلاس میں ان کے کراچی سے تعلق رکھنے والے دو، رہنمائوں کے درمیان شدید قسم کا جھگڑا ہوا ہے جس کی اطلاع بلاول زرداری کو ہوئی تو انہوں نے درمیان میں پڑ کر دونوں رہنمائوں میں صلح و صفائی کروادی۔
اس وقت ملک کی سیاسی صورتحال یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں 2023 کے انتخابات پر لگی ہوئی ہیں آصف زرداری کئی بار یہ کہہ چکے ہیں ملک کا اگلا وزیر اعظم بلاول زرداری ہو گا، اس کے لیے وہ پنجاب میں اپنی پارٹی کو سیاسی طور پر مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ابھی پچھلے دنوں پنجاب میں ایک ضمنی انتخاب ہوا یہ نشست تو ویسے ن لیگ کی تھی اور ضمنی انتخاب میں ن لیگ ہی جیتی، لیکن اس ضمنی انتخاب میں دو ایسی چیزیں سامنے آئیں جس نے پی پی پی کو بہت حوصلہ دیا پہلی بات تو یہ ہوئی کہ اسی نشست پر 2018 کے عام انتخابات میں پی پی پی کو پانچ ہزار ووٹ ملے تھے لیکن اس ضمنی انتخاب میں پی پی پی نے بتیس ہزار ووٹ حاصل کیے جو ایک اچھی سیاسی پیش رفت ہے پیپلز پارٹی پنجاب اس پر خوشی کے شادیانے بجا رہی ہے دوسری اہم بات یہ ہوئی کہ ن لیگ ویسے تو کامیاب ہو گئی لیکن اس کو 2018 کے عام انتخاب کے مقابلے میں کم و بیش پچاس ہزار ووٹ کم ملے اس سے یہ انداز لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں دلچسپ صورتحال بن سکتی ہے ن لیگ اس پر سوچ بچار کررہی ہے۔
جماعت اسلامی کا دھرنا پیپلز پارٹی کے لیے پنجاب میں بڑی مشکلات پیدا کر سکتا ہے، وہ کیسے اس پر بعد میں بات کریں گے۔ اب سے بیس پچیس برس قبل کی بات ہے ایم کیو ایم پنجاب میں اپنی تنظیم سازی میں مصروف تھی لیکن کراچی میں اپنے سیاسی مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ بھی اور بوری بند لاشوں کا سلسلہ بھی عروج پر تھا ایسے میں اسلامی جمعیت طلبہ نے یہ پروگرام بنایا کہ اس کے جو ساتھی شہید ہوتے یہ کراچی میں تو احتجاج کرتے ہی لیکن ان کا یہ احتجاج پورے ملک میں ہوتا پنجاب کی جمعیت پوری قوت سے ایم کیو ایم کے خلاف مہم چلاتی اور صوبہ سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں یہ باور کرایا جاتا کہ ایم کیو ایم سیاسی پارٹی نہیں بلکہ یہ ایک مافیا ہے جو اپنے سیاسی مخالفین کو برداشت نہیں کرتی پورے ملک میں ایم کیو ایم کے خلاف شدید احتجاج کے نتیجے میں ایم کیو ایم بیک فٹ پر چلی جاتی اور وہاں پر پھر وہ مختلف وضاحتیں کرتی کہ جمعیت تعلیمی اداروں میں غنڈہ گردی کرتی ہے اور اپنے مخالفین کا ناطقہ بند کردیتی ہے جبکہ جمعیت پورے پاکستان میں لوگوں کو یہ باور کراتی ایم کیو ایم متحدہ قومی موومنٹ نہیں بلکہ یہ مہاجر قاتل موومنٹ ہے ایم کیو ایم پھر مصالحت پر اتر آتی وہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد پر دبائو ڈالتی کہ وہ جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور سے بات کریں اور جمعیت کا اور اے پی ایم ایس او کے درمیان مصالحت کرادیں اس کے لیے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد پروفیسر غفور صاحب کے گھر تک چلے جاتے۔ ایم کیو ایم کو جب پنجاب میں اپنی سیاسی ساکھ خطرے میں نظر آتی تو وہ منت سماجت پر آتی اور کچھ عرصے کے لیے ٹارگٹ کلنگ رک جاتی۔
جو صورتحال ایم کیو ایم کی بتائی گئی ہے بالکل وہی سیاسی صورتحال اس وقت پیپلز پارٹی کی ہے کہ وہ پنجاب میں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے اور اس کے سیاسی اثرات کو ن لیگ کے مقابلے پر لانے کے لیے جدوجہد کررہی ہے آصف زرداری کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ اب پنجاب میں اپنا ڈیرہ جمائیں گے اور یہ بات بھی بار بار کہہ چکے ہیں اگلی باری پیپلز پارٹی کی ہے ایسی سیاسی جدو جہد کے راستے میں جماعت اسلامی کو دھرنا بہت بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے یہ دھرنا صوبہ سندھ تک تو پھیل گیا اور سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہروں میں کراچی کے دھرنے کی حمایت میں مختلف مقامات پر دھرنے دیے جارہے ہیں اور اب یہی دھرنا صوبے سے نکل کر پورے ملک میں پھیلنے جارہا ہے، اور جب پنجاب اور دیگر صوبوں میں یہ پیغام جائے گا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کے بلدیاتی اختیارات پر ڈاکا ڈالا ہے اور اپنی اکثریت کی بنا پر صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے ایسی ترمیمات منظور کرائی ہیں جس سے کراچی ایک یتیم و یسیر شہر بن کر رہ جائے گا جماعت اسلامی کراچی کے شہریوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے جدوجہد کررہی ہے یہ دھرنا جب پورے ملک میں دیا جائے گا پی پی پی جو پنجاب میں اپنے سیاسی اثرات میں اضافے کیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے جماعت کا یہ دھرنا پی پی پی کے سیاسی مستقبل کو تاریک کرسکتا ہے لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ صوبہ سندھ کی حکومت جماعت کے دھرنے کو ہلکا نہ سمجھے اور جتنی جلد ممکن ہو سکے وہ جماعت کے ساتھ با معنی مذاکرات کرکے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ ویسے اتوار 23جنوری کو دھرنے کی جگہ پر جو جلسہ عام ہوا ہے موسم کی سختی کے باوجود ایک بہت بڑا جلسہ تھا اس میں امیر جماعت سالامی سراج الحق نے چیف جسٹس سے بھی اپیل کی ہے کہ کراچی کے بلدیاتی حقوق پر جو ڈاکا ڈالا گیا ہے اس کا ازخود نوٹس لیں۔