کھلاڑی کا سرپرستوں سمیت ڈوبنے کی تیاری

351

عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے زرداری اور نواز شریف کو چور اور لٹیرا کہتے رہے اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی ان کا یہی وظیفہ ہے اپنی حکومت کی ہر کمزوری کا الزام انہی دونوں سیاست دانوں پر ڈالتے ہیں۔ ان دونوں کا دور حکومت کوئی آئیڈیل نہیں تھا لیکن عمران خان کا دور یہ حقیقت ہے کہ ان دونوں کے ادوار سے بھی بدتر بلکہ بدترین ہے۔ اتنی بڑی خرابی کے باوجود وہ کرسی اقتدار پر براجمان ہیں کیونکہ وزیر اعظم عمران خان یہ تاثر دینے میں کامیاب ہیں کہ فوج ان کی پشت پناہ ہے اور وہ عددی اکثریت نہ رکھنے کے باوجود ملک پر صرف فوج کی وجہ سے مسلط رہیں گے۔ (ان کی حکومت صرف 7 ووٹوں کے بل پر قائم ہے) اس تاثر کا ثبوت وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا بیان ہے جو انہوں نے گزشتہ دنوں دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ (اپوزیشن والے) چاہتے ہیں کہ جو ہاتھ عمران خان کے سر پر ہے وہ ان کے سر پر ہو، وہ ہاتھ ان کی گردن پر تو آ سکتا ہے سر پر نہیں‘‘۔ یہ بیان صاف ظاہر کرتا ہے کہ شیخ رشید یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو کوئی عوامی حمایت حاصل نہیں ہے بلکہ صرف فوج کی سرپرستی کی وجہ سے ان کی حکومت قائم ہے۔ وزیر اعظم کے الیکٹ ایبلز بھی یہ محسوس کررہے ہیں کہ وزیر اعظم انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ ان کے نزدیک ان تنخواہ دار معاونین خصوصی اہم ہیں جو اگر الیکشن میں جائیں تو ان کے گھر والے بھی انہیں ووٹ نہیں دیں۔ وہ اراکین جن کے ووٹوں کے بل پر عمران خان وزیر اعظم ہیں ان کی عمران خان کی نظر میں ٹکے کی اہمیت نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ انہیں فوج لے کر آئی ہے اور فوج جب تک ان کی حامی ہے وہ اقتدار میں ہیں۔
فوج کو یہ سوچنا ہوگا کہ اگر عوام نے عمران خان کی اس سوچ کے مقابلے میں کوئی رد عمل دکھایا فوج کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔ اس لیے کہ جنرل ایوب خان نے مارشل لا لگایا تھا، قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا، تو عوام میں جنرل ایوب خان کے لیے نفرت پیدا ہونا شروع ہوگئی تھی اور پھر جب ایوب خان کے خلاف جلوس نکلے تو ان میں ایوب کتا ہائے ہائے کے نعرے لگے جسے ایوب خان برداشت نہیں کرسکے۔ جنرل یحییٰ خان کے بارے میں قوم کے کیا احساسات و جذبات ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار میں 1986 میں لاہور میں بے نظیر بھٹو کا نہایت شاندار تاریخی استقبال ہوا تھا جو فوجی حکومت کے خلاف نفرت کا اظہار تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں فوجی اقتدار کے خلاف اس قدر نفرت تھی کہ جی ایچ کیو جانے والے فوجی بھی وردی نہیں پہنتے تھے اور 2007 میں فوجی حکومت ہونے کے باوجود مزاحمت شروع ہوگئی تھی، وکلا تحریک دراصل فوجی آمریت کے خلاف عوامی ردعمل کا اظہار تھا۔ اس لیے اب اگر فوج عمران خان کی پشت پناہی کرتی ہے تو وہ عوامی ردعمل اور مزاحمت کے لیے تیار رہے۔
عمران خان کی حکومت کا چوتھا سال چل رہا ہے، اس عرصے میں انہوں نے عوامی افادیت کا کوئی ایک بھی کام نہیں کیا ہے ان کے پاس بہانے اور الزامات بہت ہیں۔ لیکن ان کے دور میں عوامی افادیت کا کوئی ترقیاتی منصوبہ نہ تو مکمل ہوا ہے اور نہ ہی شروع ہوا ہے۔ یہاں تک کہ کراچی میں گرین لائن بس کا منصوبہ جہاں تک نواز شریف حکومت نے مکمل کیا تھا وہیں تک رہا 4 کلومیٹر کی سڑک کی تعمیر بھی پی ٹی آئی حکومت نہ کرسکی لیکن اس منصوبے پر تحریک انصاف کے جھنڈے ضرور لہرا دیے گئے۔ عمرانی دور حکومت میں صرف پناہ گاہیں ہی بنائی گئی ہیں۔ احساس پروگرام کے نام پر پاکستان کے عوام کو بھکاری بنایا گیا ہے۔ ہیلتھ کارڈ کے نام پر انشورنس کی رقم بٹورنے کا دھندہ کیا گیا ہے۔ کوئی ایسا منصوبہ نہیں بنایا گیا ہے جس سے پاکستان کے عوام کا معیار زندگی بلند ہو، اپنی ناقص اور احمقانہ بلکہ ملک دشمن اقتصادی پالیسیوں سے ملک کو دیوالیہ کردیا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط میں حکومتی اخراجات کو نصف سے بھی کم کرنے کی شرط بھی تھی لیکن اسے دانستہ نظر انداز کیا گیا۔ اس بارے میں گورنر اسٹیٹ بینک باقر رضا نے کہا ہے کہ حکومتی اخراجات آمدنی سے زیادہ ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات بجٹ کا بڑا حصہ کھا جاتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ گریڈ 22 کے سرکاری ملازم کی تنخواہ ڈھائی لاکھ سے زیادہ نہ ہو اور مراعات کی مالیت ایک لاکھ سے زیادہ نہ ہو لیکن اس گریڈ کا ایک افسر حکومت پاکستان کو 50 لاکھ ماہانہ میں پڑتا ہے۔ 350 لیٹر مفت پٹرول، بجلی اور گیس کا بل مفت، ہوائی جہاز کا سفر 25 فی صد پر۔ عدالتوں کے ججوں کی تنخواہیں بھی ان کی صلاحیتوں سے کئی گنا زیادہ ہیں جبکہ لاکھوں مقدمات التوا میں پڑے ہیں اور جو لوگ ان کی عدالت میں انصاف کی خاطر مقدمات لے کر آتے ہیں وہ یہ کہتے رہ جاتے ہیں کہ مٹ جائیں گے ہم تو انصاف کرو گے۔ اس پر مستزاد یہ کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ان کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ وزیر اعظم اور صدر کے اخراجات تو ہیں ہی ضرورت سے زیادہ، اس کے علاوہ 52 افراد کی کابینہ کا بوجھ بھی قومی خزانے پر ہے۔ ان میں 20 غیرمنتخب افراد ہیں ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو عام انتخابات میں شکست کھا چکے ہیں۔ وزراء کی کابینہ کے بعد ان 20 افراد کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی آئین کے مطابق صرف 5 غیرمنتخب مشیران کو کابینہ میں شامل کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن قومی خزانے پر بوجھ ڈالنے کے لیے معاونین خصوصی کا غیر آئینی منصب وضع کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہی نکلا کہ پرویز خٹک چیخ پڑے اور تحریک انصاف کے کئی ارکان ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ جمعرات کو فنانس بل کے حوالے سے اہم پارلیمانی پارٹی اجلاس جاری تھا، کہ ملک میں گیس کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے حماد اظہر اور پرویز خٹک میں تلخ کلامی ہونے لگی۔ پرویز خٹک نے کہا وزیر اعظم صاحب آپ کی موجودگی کا فائدہ اٹھا کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں، ہمارے ارکان کو گیس کے معاملے پر شدید تحفظات ہیں، گیس کی جو اسکیمیں شروع ہوئیں وہ کب مکمل ہوں گی؟ ذرائع کے مطابق حماد اظہر نے گیس کی صورت حال پر 2011 سے بات کا آغاز کیا، جس پر پرویز خٹک نے ٹوکا، آپ کہانیاں نہ سنائیں، یہ بتائیں گیس کب ملے گی۔ حماد اظہر نے جواب میں کہا میں آپ کو وہی بتا رہا ہوں آپ سنیں تو سہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پرویز خٹک تین بار اپنی نشست پر کھڑے ہوئے، پرویز خٹک نے حماد اظہر کے ساتھ شوکت ترین پر بھی سخت تنقید کی، انہوں نے کہا حماد اظہر کو گیس اور بجلی کے مسائل کا علم ہی نہیں ہے، اور شوکت ترین مجھے کابینہ میں بھی مطمئن نہیں کر سکا۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے وزیر اعظم عمران خان سے کہا آپ نے غیر منتخب لوگوں کو آس پاس بٹھایا ہوا ہے، میں یہاں سے جا رہا ہوں، یہ کہہ کر پرویز خٹک نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ وزیر دفاع پرویز خٹک اجلاس سے اٹھ گئے، تو کچھ ہی دیر بعد پھر واپس آ گئے، ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر مراد سعید پرویز خٹک کو واپس منا کر لائے۔
پرویز خٹک نے اجلاس سے باہر نکل کر صحافیوں سے کہا تھا کہ انہوں نے اجلاس میں اپنے حق کی بات کی تھی، لیکن شاید وزیر اعظم عمران خان کو یہ احساس ہی نہیں ہوا ہے کہ ان کے اپنے اراکین عوام کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں کیونکہ عوام ان سے سوال کرتے ہیں اور وہ انہیں مطمئن نہیں کر پاتے اتنے میں شہباز گل، بیرسٹر شہزاد اکبر، فواد چودھری اور شیخ رشید احمد کوئی ایسا بیان دے ڈالتے ہیں جو عوام کو مزید مشتعل کردیتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی پالیسی وزیر دفاع پرویز خٹک نہیں بلکہ امریکی سی آئی کا سابق ملازم معید یوسف بناتا ہے جس نے پاکستان سے وفاداری کا کوئی حلف نہیں اٹھایا ہے۔ یہ نااہل کھلاڑی سیاست اور حکومت کے میدان میں بالکل اناڑی ثابت ہوا ہے۔ وہ تو صاف صاف کہہ رہا ہے کہ وہ فوج کے کندھوں پر سوار ہوکر عوام پر مسلط ہوا ہے اب فیصلہ فوج کے ہاتھ میں ہے کہ وہ عوامی ردعمل کا انتظار کرتی ہے یا اپنا ہاتھ عمران خان کے سر سے ہٹا لتی ہے۔ لیکن فوج یاد رکھے جب اس کا ہاتھ ان کے سر پر نہیں تھا تو انہوں نے کیا کہا تھا۔ ایک انٹرویو میں کہا کہ فوج نیشنل لیڈر شپ کو سامنے نہیں آنے دیتی بلکہ اپنے کتے سامنے لاتی ہے۔ ایک بار تو عمران خان صاحب ایک نجی محفل میں بیٹھے تھے۔ ترنگ میں آ کر کہنے لگے کہ بیس ہزار بندہ اکھٹا کر لو تو جرنیلوں کا پیشاب نکل جاتا ہے۔ اسی طرح خان صاحب کسی بین الاقوامی دورے پر تھے۔ وہاں ایشیا سوسائٹی سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں معصوم عوام کو ذبح کیا۔ عورتوں بچوں کو۔ یہی کچھ بلوچستان میں ہو رہا ہے اور یہی فاٹا کے قبائلی علاقوں میں۔ ایک فوجی کی نفسیات میں عوام سے ڈیل کرنا نہیں ہوتا۔ ان کی ٹریننگ نہیں ہوتی۔ ان کا جب کوئی ساتھی مر جاتا ہے تو وہ دشمن سے بدلہ لیتے ہیں لیکن اس جنگ میں واضح دشمن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماورائے عدالت قتل اور جنسی زیادتیاں کی جاتیں ہیں۔ ایک اور موقع پر طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہماری فوج اپنے ہی لوگوں پر بم برسا رہی ہے۔ اس کے غیر اخلاقی پن کے بارے میں سوچیے کہ یہ کتنا بہیمانہ ہے۔ آپ اپنے ہی لوگوں پر بمباری کیسے کر سکتے ہیں۔ ایک مرتبہ بھارت کے مشہور پروگرام ’آپ کی عدالت‘ میں بیٹھ کر سرِ عام کہا کہ ہم 2002 کا الیکشن اس لیے ہارے کیونکہ جو سیاسی جماعت پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہوتی ہے، اسے کبھی جیتنے نہیں دیا جاتا۔ اس ضمن میں انہوں نے مسلم لیگ نواز کی مثال بھی دی کہ 1997 میں ان کی ملک میں دو تہائی اکثریت تھی مگر جب اسٹیبلشمنٹ ان کے خلاف ہو گئی تو انہیں پورے ملک سے کل ملا کر 17 نشستیں ہی میسر آئیں۔ ایسی بہت سی باتیں ہیں جو عمران خان نے کررکھی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ناکام حکمران ہیں جو اپنے ساتھ اپنے سر پرستوں کو بھی لے ڈوبیں گے۔