متحدہ عرب امارات پر حملے

312

متحدہ عرب امارات ابوظبی میں یمن کے حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں میں ایک پاکستانی شہری سمیت تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ حملے ابوظبی کی آئل ریفائنریز پر کیے گئے۔ حملے کے بعد ہی اسرائیل نے عرب امارات کو دفاع کے معاملات میں اپنی خدمات پیش کر دیں۔ دنیا بھر میں عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی گئی۔ حوثی باغیوں نے ان حملوں کو چنددن قبل عرب اتحادی فوج کی جانب سے یمن میں ہونے والی ایک ایسی زمینی اور فضائی کارروائی کا جواب قرار دیا جس میں کئی اہم علاقے حوثیوں کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ جس طرح عراق کی جنگ کا تندور طویل المیعاد مقاصد کے لیے دہکایا گیا تھا اور اب تک ان مقاصد کی تکمیل کی کوششیں جا ری ہیں اسی طرح یمن کا محاذ بھی کئی نادیدہ کرداروں کے لیے اسپیس فراہم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ عراق میں صدام حسین سے امریکا کی خاتون سفیر نے ملاقات کی اور چند دن بعد ہی عراق کی فوجیں معمولی سا بہانہ بنا کر کویت میں داخل ہو گئیں اور یوں صدام حسین ’’لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا‘‘ کی عملی تصویر بن گئے۔ سوشلسٹ مزاج اور نظریات کی حامل بعث پارٹی کے سربراہ صدام حسین مزاجاً امریکا مخالف اور سوویت یونین کے حامی تھے۔ اس لیے امریکا صدام حسین سے چھٹکارہ چاہتا تھا۔ پہلے صدام حسین کو ایران کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا جونہی مقاصد پورے ہوئے تو صدام حسین کو نشانے پر رکھ لیا۔ کویت پر حملے نے ایک جواز فراہم کیا اور یوں امریکا نے اپنا پائوں مستقل طور پر صدام حسین کی گردن پر رکھ لیا۔ پہلی خلیجی جنگ کے بعد دوسری چھڑ گئی اور یوں یہ طویل المیعاد کھیل اپنے اختتام کو پہنچا۔
حوثی باغیوں نے عرب بہار کی لہروں سے اس وقت طاقت حاصل کی تھی جب کئی وقت گزیدہ عرب حکمرانوں کا تختہ سوشل میڈیا کے نئے ہتھیار کے ذریعے اُلٹا جا رہا تھا۔ حوثیوں نے ایران کی حمایت سے یمن کی حکومت کا تختہ عرب بہار کے انداز میں اُلٹنے کی کوشش کی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسے ایرانی اثر رسوخ میں حتمی اضافے کے زاویے سے خطرے کی گھنٹی سمجھا اور یمن کی حکومت کا کلہ مضبوط کرنے کے لیے فوج داخل کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ اسی دوران 35ممالک پر مشتمل اسلامی فوجی اتحاد بھی قائم کیا گیا مگر پاکستان نے اس اتحاد کی سربراہی کے لیے اپنے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بھیجنے کی ہامی تو بھر لی مگر اس کے پلیٹ فارم سے یمن کے اندر فوجی کارروائیوں کا حصہ بننے سے انکار کیا جس کے بعد اتحاد کی حیثیت علامتی رہی اور یہ اسلامی کے بجائے چند عرب ملکوں کا اتحاد ہی رہا۔ اس فیصلے پر عرب ممالک پاکستان سے خفا بھی ہوئے اور عرب امارات کے وزرا تو اعلانیہ دھمکیوں پر اُتر آئے۔ 2015 سے یمن سعودی عرب اور ایران کے درمیان پراکسی جنگ کا مرکز بن گیا ہے۔ یمن کے باغی سعودی عرب کو میزائل حملوں کا نشانہ بناتے چلے آرہے ہیں۔ ایران حوثیوں کی اعلانیہ حمایت کرتا ہے۔ انہیں افرادی قوت اور اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب اور اتحادی حوثیوں کے خلاف یمن حکومت کی مدد سے زمینی اور فضائی حملے کررہے ہیں۔ اب حوثیوں نے اپنی جنگ کا دائرہ سعودی عرب سے بڑھا کر متحدہ عرب امارات تک وسیع کر لیا۔ اس کھیل میں سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کا ہے۔ اسرائیل حوثیوں سے بچائو اور تحفظ کے نام پر متحدہ عرب امارات میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑھ سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات پہلے قائم ہو چکے ہیں اور اب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نئی بلندیوں کی راہ پر گامزن ہیں۔ متحدہ عرب امارت اگر اس طرح کے کسی خطرے کا شکار ہوجائے تو وہ مجبور ہو کر اپنے دفاع کا ٹھیکہ بھی اسرائیل کو دے سکتا ہے۔
اسرائیل کی خواہش تو یہی ہوگی جس ملک کو مسلمانوں کے لیے خطرہ کہا جا رہا ہے وہ فلسطینیوں کی قبروں اور لاشوں پر چڑھ کر اپنا قداس قدر اونچا کرے کہ مسلمان ملک اسے اپنا محافظ سمجھنے لگیں۔ اس تبدیلی کا آغاز متحدہ عرب امارات سے ہو سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات جدیدیت کے باعث لبرل مسلمانوں کے لیے نمونہ اور آئیڈیل ہے۔ متحدہ عرب امارات پر یہ حملہ ایسے وقت میں بھی ہوا جب سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات اور روابط کے ٹوٹے دھاگے دوبارہ جوڑنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ایران نے او آئی سی کے سیکرٹریٹ کے لیے اپنے نمائندے ریاض بھیج دیے ہیں۔ مذاکرات کا یہ سلسلہ ابھی ابتدائی مرحلے میں اور اس کو پٹڑی سے اُتارنے والی قوت بھی کہیں دور نہیں علاقے میں ہی موجود ہے اور وہ بھی اسرائیل ہے۔ اسرائیل کبھی نہیں چاہیے سنی مسلمانوں کے ٹھیکے دار سعودی عرب اور شیعہ مسلمانوں کے ٹھیکیدار ایران کے درمیان تعلقات بہتر ہوں کیونکہ ایران کے خطرے کا ہوا کھڑا کرکے ہی اسرائیل کا عرب مسلمانوں کے محافظ کا رول بن سکتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب ایران کشمکش ہو یا حوثیوں کی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مسلح کارروائیاں ہر دو صورتوں میں اسرائیل کا فائدہ ہے۔