پیپلزپارٹی کی تعصب کی سیاست نچلی سطح سے ابھرتی قیادت کا راستہ روکنے کیلئے ہے

494

کراچی (رپورٹ: محمد علی فاروق) پیپلز پارٹی کی حکومت کے آغاز سے ہی جاہلیت اور تعصبات کا دور شروع ہوگیا تھا، پیپلز پارٹی نے لسانی سیاست کو سندھ میں آخری پناہ گا ہ کے طور پر رکھا ہوا ہے اگر وفاق میں سیٹیں نہ بھی ملیں تب بھی سندھ کی سیا ست ہاتھ سے نہ نکلنے پائے ،پیپلز پارٹی سے ملک کو دولخت جیسے کسی بھی عزائم کی امید رکھی جاسکتی ہے ،اس کی ایک بہت بڑی واضح مثال جئے سندھ کی سیاسی پشت پناہی ہے، پیپلز پارٹی دو منہ والی سیاست کرتی ہے ،پیپلز پارٹی کو بنیادی طور پر اس بات کا گھمنڈ ہے کہ ان کا کوئی کچھ نہیںبگاڑ سکتا، پیپلز پارٹی سندھ کار ڈ کو زندہ کر کے اپنے لیے مراعات سمیٹ رہی ہے اور اپنے جرائم پر پردہ ڈال کر تمام وسائل اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے، پیپلز پارٹی صوبے میں ایسا لو لا لنگڑا نظام دینا چاہتی ہے جس کے نتیجے میں اچھی قیادت نہ ابھر سکے ، پیپلز پارٹی اور بیوروکریسی امیر سے امیر ہوتی جارہی ہے ،یہ ارب سے کھرب پتی ہورہے ہیں اور سندھ کی عوام تبا ہ ہورہے ہیں پیپلز پارٹی دعویٰ نہیںکرتی مگر جماعت کے افراد کا رویہ تعصب پسندہے اسی عصبیت کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا۔ ان خیالات کا اظہارجماعت اسلامی کراچی پبلک ایڈ کمیٹی کے سر براہ سیف الدین ایڈ ووکیٹ ، ایم کیو ایم کے سابق سیاسی رہنما وسیم آفتاب اور ڈی ایچ اے صفہ یو نیورسٹی سے وابستہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کی پروفیسر سدرہ احمد نے جسارت سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ چیئر مین پبلک ایڈ جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے قیام کے اول روز سے ہی دو چہرے رکھتی ہے ایک چہر ہ وفاق میں سوشل ازم اور دوسرا چہر ہ سندھ صوبے میں لسانی ہے، پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں ہی پاکستان دو لخت ہوا تھا اس سانحہ میںزیادہ حصہ بھی پیپلز پارٹی کا ہی تھا، ایک جانب بھٹو پورے پاکستان کے وزیر اعظم تھے اور اسلامی سوشل ازم کا نعرہ لگا رہے تھے دوسری جانب سندھ میں حکومت سازی کے لیے ایسے نمائندوں کو منتخب کیا گیا جو عیاش اور متعصب تھے ، پیپلز پارٹی کی حکومت کے آغاز سے ہی جاہلیت اور تعصبات کا دور شروع ہوگیا تھا، شہر بھر میں اس تعصبانہ رویے پر احتجاج بھی ہوا، اخبارات میں شہ سرخیاں بھی لگائی گئیں، پیپلز پارٹی نے لسانی سیاست کو سندھ میں آخری پنا گا ہ کے طور پر رکھا ہوا ہے کہ اگر وفاق میں سیٹیں نہ بھی ملیں تب بھی سندھ کی سیا ست ہاتھ سے نہ نکلنے پائے ،ظاہر ہے سندھ میں تعصبات کی سیاست کے ذریعے ہی حکومت بنانا ایک آسان طریقہ ہے، اسی لیے سندھ میں دیگر تعصب پسند جماعتوں کو تقویت دی گئی، ایم کیو ایم اردو بولنے اور پیپلز پارٹی سندھ بولنے والوں کی ترجمانی کرکے ایک عرصے تک ڈھونگ رچاتے رہے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور لڑائی جھگڑے کرکے لسانی بنیادوں پر ووٹ حاصل کیے گئے۔ سیف الدین ایڈ ووکیٹ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت میں آنے کے بعد شہری اداروں پر قبضہ جما لیا تاکہ ارکان اسمبلیوں کو نوکریاں فروخت کر نے کے ساتھ کر پشن کے ذریعے رقم بٹورنے کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم ہو۔ پیپلز پارٹی کی اس ہی طریقے کی وجہ سے نوکری ملنے کے بعد اس کا پورا خاندان نہ صرف ووٹر بن جاتا ہے بلکہ وہ اور اس کا خاندان پیپلز پارٹی کے لیے تاحیات رضا کارنہ خدمت گار بن جا تا ہے۔ پیپلز پارٹی کا تیسرا رخ وڈیروں اور جاگیرداروں پر مشتمل ہے ان افراد کو اپنے مزارعوں اور عا م افراد سے ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں انہیں ڈرا دھماکا اور ان افراد کو سرکاری نوکروں میں بھرتی کیا جاتا ہے تاکہ یہ ہمیشہ ان کے احسان مند رہیں انہی افراد کو بعد ازاں لسانی سیاست میںاستعمال کیا جاتاہے ۔پیپلز پارٹی نے سرکاری نوکریاں بیچنے کے سوا کبھی کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا اور نہ ہی سندھ کے عوام کو کبھی کوئی بہتر منصوبہ نہیں دیا۔ ایم کیو ایم کے سابق سیاسی رہنما وسیم آفتاب نے کہا کہ جماعت اسلامی اس نازک صورت حال کو بھانپ گئی ہے جو اپنے بنیادی اصولوں سے ہٹ کر عوامی چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لیے میدان میں اتری ہے، پیپلز پارٹی سے ملک کو دولخت جیسے کسی بھی عزائم کی امید رکھی جاسکتی ہے اس کی ایک بہت بڑی واضح مثال جئے سندھ کی سیاسی پشت پناہی کی جارہی ہے، وہ اندرون سندھ کے علاوہ اب کراچی میں بھی منظم انداز میں کام کر رہے ہیں کھلم کھلا شہر کراچی میں پاکستان مخالف نعرے لگائے جارہے ہیں، جمہوریت کے دعویدار یہ نہیںچاہتے کہ عوام چھوٹے چھوٹے مسائل سے باہر آئیں ، بس وہ چاہتے ہیں کہ ہماری اجارہ داری قائم رہے،حالیہ پیپلز پارٹی کی پوری قیادت اور بیوروکریسی سب کے مقدمات نیب میں موجود ہیں ، اس صورت حال میں وفاق اور ریا ست کو فیصلہ کرنا ہوگا ایسا نہ ہوکہ کہیںدیر ہوجائے اور پیپلز پارٹی پھر ایک اور سانحہ کو جنم دے۔ ان کا وزیر اعلیٰ اسمبلی کے فلو ر پر کہہ رہا ہے کہ ہمیں نہ چھیڑا جائے اور ہمیں کسی اور راستے کی طرف نہ لے کر جایا جائے ،پیپلز پارٹی سندھ کار ڈ کو زندہ کر کے اپنے لیے مراعت سمیٹ رہی ہے اور اپنے جرائم پر پردہ ڈال کر تمام وسائل اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے ۔جماعت اسلامی سڑ کو ں پر نکلی ہے میںاس بات پر جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کر تاہوں ،ہماری تلخیاں ختم ہونی چاہئیں تاکہ ملک کو ایک اور سانحہ کے رونما ہونے سے بچایا جاسکے ۔ سیاسی رہنما وسیم آفتاب نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں نئی سیاسی قیادت جنم لے، اگر پاکستان کے 4 بڑے شہروںمیں ایک ایماندار، دیانتدار شخصیت کی صورت میں مخلص میئر لائے جائیں جو با اختیار بھی ہوں اور عوام کو سہولیات مہیا کر سکیں تو اس کے نتیجے میں ان کی حیثیت خود بخود بڑھ جائے گی مگر پیپلز پارٹی چھوٹے ذہن کی جماعت ہے یہ کسی گاؤں ، دیہات ، محلے ، یا ٹاؤن میں نئی قیادت کے جنم سے ہی خوف زدہ ہے ،پیپلز پارٹی صوبے میں کوئی اچھا نظام نہیںدینا چاہتی وہ تو ایسا لو لا لنگڑا نظام دینا چاہتی ہے جس کے نتیجے میں نہ تو اچھی قیادت ابھر سکے اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کی کو ئی سہولیات مہیا ہوسکے ۔پیپلز پارٹی کو بنیادی طور پر اس بات کا گھمنڈ ہے کہ اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اسی لیے عوام کو غلام بنا کر رکھا جائے، اس نظام میںتمام ادارے بشمول پولیس بھی ان کے گھر کی لونڈی بنی ہوئی ہے۔ صفہ یو نیورسٹی سے وابستہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کی پروفیسر سدرہ احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں قوم پرستی کی تاریخ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور اب بلاول رزداری تک پہنچ چکی ہے ،پیپلز پارٹی کا ڈھانچا بظاہر سوشل ازم پر کھڑا ہے جس میں یہ اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی دعویٰ نہیںکرتی مگر جماعت کے افراد کا رویہ تعصب پسند ہے عصبیت کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا، ان لو گوں کی جانب سے ہمیشہ کوشش کی جاتی رہی کہ پاکستان ٹوٹنے کا الزام ریاستی اداروں پر ڈال دیا جائے جبکہ پاکستان کے ٹوٹنے میں بہت بڑا حصہ انہی کی سیاسی جماعت میں بیٹھے وڈیروں اور جاگیرداروں کا تھا، لگتا یہی ہے کہ پیپلز پارٹی کا پاکستان کو ٹکروں میں باٹنے کا ایک خاص ایجنڈا ہے جس پر یہ جماعت مخصوص لائن پر گامزن ہے یہ لوگ عوام میں تعصبات ابھار کر قوم کو تقسیم در تقسیم کر رہے ہیں ، یہ سیاست کے چمپئن بنتے ہیں، پیپلز پارٹی کی جماعت فرنچائز بن گئی ہے ،اس جماعت کی شہرت بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔ پروفیسر سدرہ احمد نے کہا کہ ان کی جماعت میں بھی اپر کلا س، مڈل کلاس اور لوئر کلاس کی واضح تقسیم نظر آتی ہے ان کی جماعت میں اچھے اوصاف باقی نہیں رہے جبکہ وڈیرے اور جاگیردار وں کا قبضہ ہے اسی کلاس کے ہاتھوں میں فیصلہ سازی کا اختیار ہے۔ آج پیپلز پارٹی پورے ملک میں اسمگلنگ ،منی لانڈرنگ ، کرپشن ، لوٹ مار ، بدمعاشی ، غنڈہ گردی ،لینڈ گریبنگ ، رشوت ستانی ، کیٹ بیگ جیسے گھناؤنے جرائم سے جانی اور پہچانی جاتی ہے ، ان کی جماعت کا کوئی مستقبل نہیں ہے، لگتا ہے 2023ء کا الیکشن ان کی جماعت کا آخری الیکشن ثابت ہوگا۔