پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی ، ٹرانسپیرنسی، کرپشن کیخلاف سب سے زیادہ اقدامات کیے ، وزیر اعظم

182
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہورہاہے

اسلام آباد +برلن(آن لائن+صباح نیوز+نمائندہ جسارت)پی ٹی آئی حکومت کے کرپشن کے خلاف اقدامات اور دعوے دم توڑ گئے ۔ ملک کے اندر کرپشن میں بڑی حد تک اضافہ ہوا ہے۔بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن سے متعلق سی پی آئی انڈیکس رپورٹ 2021ء جاری کردی ہے،جس کے مطابق کرپشن کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی صورتحال مزید خراب ہوگئی،پاکستان کرپشن کی عالمی درجہ بندی میں بہتری کے بجائے تنزلی کی جانب چلا گیا۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہا کہ حکومتی دعوؤں کے برعکس کرپشن کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 180 ممالک کی عالمی فہرست میں پاکستان کی تنزلی 16 درجے رپورٹ کی گئی ہے۔ پاکستان 28 پوائنٹس کے ساتھ کرپشن کے بارے میں عالمی رینکنگ میں 140 ویں نمبر پر آگیا۔ گزشتہ سال کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 124 تھا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی دنیا بھر میں کرپشن کی عالمی درجہ بندی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن نہ ہونے کے اسکور میں 3 پوائنٹس کی کمی ہوگئی۔انڈیکس کا اسکور کم ہونا کرپشن میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔2021ء میں پاکستان 100 میں سے صرف 28 پوائنٹس حاصل کرسکا جبکہ گزشتہ سال یہ اسکور 31 تھا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق 2018ء میں پی ٹی آئی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا اس وقت پاکستان کا کرپشن انڈیکس میں117واں نمبر تھا۔ 2019ء میں پاکستان درجہ بندی میں 120ویں نمبر پر تھا۔ 2020 ء میں 124 ویں اور اب 2022 ء میں 140 ویں نمبر پر آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان کی 23 درجے تنزلی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق فن لینڈ، نیوزی لینڈ اور ڈنمارک کرپشن کے خلاف 88 اسکور کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے، جنوبی سوڈان نے فہرست میں آخری پوزیشن حاصل کی۔ امریکا 67 پوائنٹس کے ساتھ 27 ویں اور بھارت 40 پوائنٹس کے ساتھ 85 ویں نمبر پر رہا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ گزشتہ 11 برس میں یہ پاکستان کی سب سے بُری درجہ بندی ہے۔ دوسری جانب پلڈاٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ حکومت کوجواب دینا ہوگا کہ چیزیں بہتری کی جانب کیوں نہیں جارہی ہیں؟ کرپشن کے خلاف بیانیہ لے کرپی ٹی آئی حکومت میں آئی تھی۔ ادھر وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی پاکستان سے متعلق رپورٹ پرگفتگو کی گئی۔اس حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ موجودہ حکومت نے کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کرنے والے مقدمات کا سامنا کرنے کے بجائے ملک سے باہر ہیں اور مقدمات میں غیر ضروری التوا کے بہانے بنا رہے ہیں۔وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ کرپشن کے زیرالتوا کیس جلد نمٹانے کے لیے عدالتوں میں مؤثرپیروی کا فیصلہ کیا ہے۔بعد ازاں اسلام آباد میں اے ایچ آفیسرز ریزیڈینشیا اور پی ایچ اے اپارٹمنٹس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمیبینک کے مطابق تمام 4اشاریوں سے ثابت ہورہا ہے کہ پاکستان میں غربت میں کمی آئی ہے،مجھے احساس ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے تنخواہ دارطبقہ مشکل میں ہے مگر اب تنخواہ دار لوگ بھی باآسانی گھر خرید سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرا یہ کے رقم بینکوں کو قسطوں کی صورت میں ادا کر کے کوئی بھی شخص گھر کا مالک بن سکتا ہے، اب اگرآپ کے پاس گھربنانے کی رقم نہیں توبینکوں سے قرضہ حاصل کرسکتے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کوقرضوں کی فراہمی کے لیے بینک اسٹاف تربیت یافتہ نہیں تھا مگر اب بینک کا عملہ تمام لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے، پاکستان میں عام آدمی کے لیے بینک کے ذریعے گھر خریدنے کا کوئی طریقہ رائج نہیں تھا مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فورکلوژرلاپاس کرانے میں ڈھائی سال کا عرصہ لگا، پاکستان میں گھروں کی بہت کمی ہے اس لیے ہم نے ہائوسنگ انڈسٹری پر توجہ دی کیونکہ ہائوسنگ انڈسٹری ملکی معیشت کو کھڑا کردیتی ہے، اس صنعت کے ساتھ 30انڈسٹریز منسلک ہیں۔وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کے لیے88 ہزاریونٹس کا منصوبہ زیرتکمیل ہے،گزشتہ چند مہینوں میں بینکس 124ارب روپے کی ہاوسنگ لون کی منظوری دے چکے ہیں جس میں 40ارب روپے لوگوں کو گھر بنانے کے لیے مل بھی چکے ہیں،بینکس ہائوس لون جبکہ حکومت عوام کو سبسڈی دے رہی ہے تاکہ بے گھر لوگ کرائے کے پیسے قسطوں میں ادا کرکے اپنا گھر حاصل کر سکے، ہماری برآمدات اور ترسیلات زرمیں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، بلومبرگ کہہ رہا ہے پاکستان کی معیشت درست راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ پاکستان کے معاشی حالات مزید بہتر ہوتے جائیں گے،معیشت اٹھ رہی ہے،ٹیکس کلیکشن بڑھ رہی ہے جبکہ کورونا کے باوجود کنسٹرکشن سیکٹرکی گروتھ ہورہی ہے، ہماری سیمنٹ اوراسٹیل کی ریکارڈ سیل ہوئی ہے،مزدوروں اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔