جماعت اسلامی کا دھرنا،سیاسی جدوجہد کی ایک نئی مثال

296

جماعت اسلامی کراچی کا احتجاجی دھرنا طوفانی ہواؤں، سخت سردی اور تیز بارشوں جیسے حالات کو برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اردو لغت میں دھرنا اس عمل کہا جاتا ہے جو مقروض سے قرض واپس لینے کے لیے کیا جائے یا مقروض کے دروازے پر قرض کی واپسی تک بیٹھا جائے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمن کراچی کے شہریوں کا قرض واپس لینے کے لیے 31 دسمبر سے سندھ حکومت کے دروازے یعنی سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجاً اپنے ساتھی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ کراچی کا قرض جو اس کا حق ہے کیا ہے؟ یہ بات حقوق سے محروم تین کروڑ آبادی کے حامل شہر کے باسی جانتے ہیں، یا وہ ظالم سندھ کے حکمران اس سے واقف ہیں جنہوں نے اس پر ڈاکا ڈالا ہوا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کو جو منی پاکستان بھی کہلاتا ہے اس کے حقوق سے محروم کرنے کے لیے صوبائی کی سہولت کار وفاقی حکومت اور اس کے ادارے بنے ہوئے ہیں، جنہوں نے 2017 کی مردم شماری میں کراچی کی مجموعی آبادی کو جو بلا شبہ تین کروڑ سے زائد ہے اس نصف گنا۔ جس کا بنیادی مقصد کراچی کو اس کے جائز فنڈز یا مالی حصے سے محروم کرنا ہے۔
کراچی جہاں سے ٹیکس اور دیگر مدات میں پورے ملک کا نظام چلانے کے لیے 86 فی صد ریونیو حاصل کیا جاتا کروڑوں کی آبادی رکھنے کے باوجود حقوق، پانی، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ، مواصلات، صفائی ستھرائی، تفریحات، کھیل کے میدانوں، اور ضروریات کے مطابق تعلیمی نظام سے بھی محروم ہے، آج چلا چلا کر اپنی بپتا سنانے پر مجبور ہیں۔ پی آئی اے، پاکستان شپ یارڈ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، سپارکو، محکمہ موسمیات اور دیگر اہم اداروں کے دفاتر کراچی میں تو موجود ہیں مگر ان اداروں میں کراچی کے لوگوں کے لیے روزگار نہیں۔ کراچی کے اصل باشندے پاکستان بنانے والوں کی اولادیں تو ہیں مگر وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے جائر حقوق کے حقدار بھی نہیں۔
کراچی سے کھربوں اور اربوں روپے آمدنی حاصل کرکے پورے پنجاب اور دیگر صوبوں میں بھی ماس ٹرانزٹ کا نظام بچھادیا گیا لیکن کراچی کو 2016 کے بعد سے بھی ایک گرین لائن بس ریپڈ سروس کا مکمل نظام تک نہیں دیا جاسکا۔ افسوس کی بات تو یہ کہ جو شہر ہر طرح کی سہولت بہم پہنچانے کے لیے کم ازکم پورے ملک کی ایک چوتھائی آبادی کا بوجھ اپنے کاندھوں پر برداشت کر رہا ہے وہاں کے حقیقی باشندوں کو تعلیم اور روزگار کی سہولتیں بھی کوٹے کی شکل میں دیکر بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے فرزند انجینئر حافظ نعیم الرحمن ’’حق دو کراچی کو‘‘ کے سلوگن کے تحت گزشتہ تقریباً تین سال سے فعال ہیں۔ جبکہ طویل عرصے سے جماعت اسلامی کے الیکٹرک، نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی اور شہری اداروں کے ہاتھوں پریشان حال لوگوں کا مقدمہ تن تنہا لڑ رہی ہے۔ جماعت اسلامی ملک کے سب سے بڑے شہر اور اس کے لوگوں کو درپیش مسائل کا سدباب کرنے کے لیے اس لیے کوشاں ہیں کہ ملک اور صوبے کی بیش تر سیاسی جماعتیں لوگوں کو درپیش مسائل کا سدباب کرانے میں ناکام رہی ہیں بلکہ سچ تو یہ بھی ہے کہ کسی اور سے اسی جماعت نے اس جانب بھرپور طاقت سے نا آواز اور نہ ہی احتجاج کیا۔ کراچی کے حقوق کا دعویٰ کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ نے تو گزشتہ بتیس سال کے دوران شہریوں اور شہر کے ساتھ حکمران جماعتوں کے ساتھ مل کر جو کھیل تماشا کیا وہ اب کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی متحدہ قومی موومنٹ حکومت کے ساتھ ان کی حمایتی پارٹی کے طور پر موجود ہے مگر شہر کے مسائل ہے کہ کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ ایسے میں ماضی کی طرح اس بار بھی صرف جماعت اسلامی شہر کے مسائل کے سدباب کے لیے کوشاں نظر آ رہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں گزشتہ 13 سال سے اقتدار پر جمہوری یا غیر جمہوری تقاضوں کے تحت آمرانہ طرز حکمرانی کے طور پر قابض ہے۔ اپنے آپ کو جمہوری پارٹی قرار دینے والی پیپلز پارٹی سندھ خصوصاً کراچی میں جس طرح شہریوں کے حقوق پر بھوکے کتوں کی طرح حملہ کر رہی ہے اس سے پورے صوبے کے لوگ ہی پریشان ہیں، حقیقت تو یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی کے گڑھ لاڑکانہ اور نوابشاہ تو آوارہ کتوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے یہ کتے گزشتہ برسوں کے دوران سیکڑوں بچوں کو کاٹ کر زخمی اور ہلاک کر چکے ہیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ پارٹی غیر جمہوری طریقوں سے صوبے کے کراچی سمیت تمام ہی شہروں کے حقوق چھین لے گی۔ اس مقصد کے لیے اس نے بلدیاتی قوانین میں من مانی ترامیم کرکے صوبے کے لوگوں میں نفرت سے پیدا کرنا چاہ رہی ہے۔ جس کا ایک مقصد صوبے خصوصاً کراچی میں امن و امان کے مسائل پیدا کرکے لوگوں کی مجموعی مشکلات میں اضافہ کرنا اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا ہے۔ لیکن چونکہ امیر جماعت اسلامی کراچی انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے سائنسی بنیادوں پر پرامن احتجاج کررہے ہیں اور یہ احتجاج سندھ حکومت کے متنازع کالے قانون کو ختم کرکے دیگر حقوق کے حصول تک جاری رہے گا اس لیے یقین ہے کہ جماعت اسلامی اپنے پلیٹ فارم سے صرف کراچی ہی نہیں بلکہ ملک کے سب ہی مسائل کا مرحلہ وار سدباب کردے گی۔ بس اس کے لیے پوری قوم کو جماعت اسلامی کے ارادوں کی جدوجہد کا ساتھ دینا چاہیے کیوں کہ جمہوری ملک میں عوام کے تعاون کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔