شہزاد اکبر: عمران خان کی ایک اور ناکامی

374

صرف ایک اینٹ گری اور عمران خان، پی ٹی آئی، اس کے سلیکٹرز اور اس کی حمایت کرنے والے بکائو میڈیا کی ساری عمارت دھڑام سے گر گئی۔ پی ٹی آئی کے رہنما وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ 22 برس صرف ایک نکتے پر تبدیلی کی ہوا کھلانے کا اعلان کیا تھا۔ ساڑھے تین سال تک پی ٹی آئی احتساب احتساب کا شور مچاتی رہی، اس کا ساتھ میڈیا، فوج، ترقی پسندوں، مطلب پرستوں، مفاد پرستوں سب نے دیا اور جو اس کے خلاف بولے تنقید کرے اس کا منہ بند کردیا جاتا بلکہ اسے ہی مجرم قرار دے دیا جاتا۔ عدالتیں، ادارے سب ان کی پشت پر رہے اور ساڑھے تین سال بعد وزیراعظم نے اپنے مشیر احتساب شہزاد اکبر سے ان کے پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے استعفا دینے کا پیغام پہنچایا اور استعفا قبول کرکے کہا کہ شہزاد اکبر ڈیلیور نہیں کرسکے۔ یہ کیا مذاق ہے؟ پی ٹی آئی کے اہم رکن اسد عمر ملکی سیاست میں بڑے فیصلے سے پوری پارٹی کو بری الذمہ قرار دے کر نواز شریف کی ملک سے روانگی کو تنہا عمران خان کا فیصلہ قرار دے رہے ہیں اور عمران خان شہزاد اکبر کی ناکامی کو صرف شہزاد اکبر کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ گویا کوئی اسٹیج ڈراما ہے ہر اداکار اپنی پرفارمنس دکھارہا ہے کامیاب اور ناکام ہورہا ہے۔ اگر کامیاب ہوگیا تو ڈراما نویس، ہدایت کار، اداکار سب کامیاب اور اگر ناکام ہوگیا تو سب کو الگ الگ ناکام قرار دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم اب تو اپنی ساڑھے تین سالہ جدوجہد کی ناکامی کا اعتراف کرلیں۔ بے سمت بے مقصد شور شرابے کے ذریعے قوم کا وقت اور پیسہ برباد کیا سب کو یہی کہتے رہے کہ اب سارے چور جیل جائیں گے۔ اب سب کو سزا ہوگی۔ کل لوٹی ہوئی دولت آجائے گی اور ملک ترقی کرے گا لوگ بیرون ملک سے ملازمت کے لیے آئیں گے۔ لیکن ساڑھے تین سالہ احتساب کے ڈھول کا پول خود وزیراعظم نے کھول دیا کہ شہزاد اکبر ڈیلیور نہیں کرسکے۔ وزیراعظم کو سیدھی طرح اعتراف کرکے استعفا دے دینا چاہیے تھا کہ میں اور میری ٹیم ڈیلیو نہیں کرسکی۔ اندر کی کہانی بھی باہر آچکی ہے کہ کابینہ کمیٹی کے گزشتہ دنوں ایک اجلاس میں مشیر احتساب نے نواز شریف کی واپس کو مشکل قرار دیا تھا جس پر انہیں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے ہر کام کو اچھا قرار دینے کی قوالی کی مثال یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر وزیر اطلاعات نے فرمایا ہے کہ شہزاد اکبر نے شدید دبائو میں بہترین کام کیا۔ اب عمران خان فواد چودھری سے پوچھیں یا فواد چودھری عمران خان سے پوچھیں کہ بہترین کام کرنے والے کو یہ کہہ کر کیوں ہٹادیا کہ ڈیلیور نہیں کرسکے۔ اور عمران خان فواد چودھری سے پوچھیں کہ جس کو میں نے ہٹادیا ہے اس کو آپ بہترین کام کا سرٹیفکیٹ کیوں دے رہے ہیں۔ شہباز گل نے زبردست بات کی ہے جو حقیقت سے زیادہ قریب ہے۔ کہتے ہیں کہ یا تو کام کرکے تھک گئے یا انہیں کوئی اور اچھا موقع مل رہا ہوگا۔ شہباز گل نے درست کہا کہ یہ سب اچھے موقع کی تلاش میں رہنے والے ہیں۔ ان لوگوں کو جب اچھا موقع ملا تو یہ پی ٹی آئی میں چلے آئے اب دیکھیں کس کو کون سا موقع ملتا ہے۔ وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنی نااہلی کا اعتراف کیا ہے اور برملا یہ کہا ہے کہ شہزاد اکبر سے کوئی اور کام لینا چاہتے تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم کو افراد کی پہچان ہی نہیں، کس سے کیا کام لینا ہے انہیں اگر ساڑھے تین سال بعد یہ پتا چلتا ہے کہ شہزاد اکبر سے کوئی اور کام لینا چاہیے تھا تو پھر انہیں اپنی نالائقی کا اعتراف کرنا چاہیے۔ کپتان کا تو کام ہی یہ ہوتا ہے کہ کس سے کیا کام لینا ہے، اگر اسے میچ ہارنے کے بعد پتا چلے کہ کس سے کیا کام لینا تھا تو پھر اس کی نالائقی کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہوگا۔ اب شنید ہے کہ نئے مشیر احتساب کی تلاش ہے لیکن اس میں بھی بریگیڈیئر کا لاحقہ ہے۔ سننے میں تو لگتا ہے کہ فوجی عہدہ اور فوجی عہدے کا لاحقہ احتساب کرسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جنرل ایوب، جنرل یحییٰ، جنرل ضیا، جنرل پرویز مشرف اور آج کل درجنوں اداروں کے ریٹائرڈ جنرلز اور ریٹائرڈ آفیسرز ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کرچکے ہوتے، لیکن معاملہ یہ ہے کہ وہ سب کے طویل بااختیار ادوار کے باوجود مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق بدعنوان انتہائوں کو عبور کرچکی ہے۔ اب عمران خان یہ شعر دہراتے رہیں گے۔
محتسب کی خیر، اونچا ہے اس کے فیض سے
رندکا، ساقی کا، خم کا، پیمانے کا نام
میں فیض کا کام بھی ہے اور کابینہ، سلیکٹرز اور ساری حکومت کا نام بھی آجاتا ہے۔ فیض کے فیض سے کب تک مستفید ہوتے رہیں گے۔