اسٹیٹ بینک کا یوٹرن

287

عالمی بینک کے نمائندے کے گورنر اسٹیٹ بینک بننے کے نتائج سامنے آنے لگے، پاکستان میں اسٹیٹ بینک کی پوری تاریخ کا سرسری جائزہ بھی لیں تو سب کے سامنے یہ حقیقت آجائے گی کہ اسٹیٹ بینک نے ایوب خان سے لے کر کسی آمر جابر کے سامنے بھی اپنی پالیسی نہیں بدلی۔ حکومت کے اقدامات سے قطع نظر اسٹیٹ بینک مالیاتی پالیسیوں کے اثرات پر بے لاگ تبصرے کرتا رہا ہے اس نے جنرل ضیاء اور جنرل پرویز کے زمانے میں بھی مالیاتی پالیسیوں کے نتائج سے آگاہ کیا غلط پالیسی ختم کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن جب سے اسٹیٹ بینک میں عمران کے چہیتے گورنر آئے ہیں اس کے بعد سے رفتہ رفتہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹوں کی زبان کا جھکائو حکومت کی طرف ہوتا جارہا ہے پیر کے روز جاری ہونے والی مانیٹری پالیسی بالکل اسی طرح کے سبز باغ دکھارہی ہے جس طرح کے عمران خان نے دکھائے ہیں۔ بینک کے مطابق معاشی نمو مستحکم ہے، مہنگائی کا زور کم ہورہا ہے مزید کمی آئے گی۔ اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ منی بجٹ سے مالی خسارہ کم ہوگا لیکن یہ کیوں نہیں بتایا کہ اس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ یہ کون سے ملک کی رپورٹ ہے جہاں مہنگائی کا زور کم ہورہا ہے اور مزید کمی ہوگی۔ پاکستانی عوام سے پوچھیں تو کہتے ہیں کہ اگر کل تک ہم سو روپے میں 6چیزیں خرید سکتے تھے تو ہر آنے والے دن ان چیزوں میں سے ایک کم ہوجاتی ہے۔ تو پانچ دن بعد آپ سو روپے میں صر ف ایک چیز خرید سکیں گے۔ انڈے ، ڈبل روٹی، دودھ، آٹا، خوردنی تیل، مٹی کا تیل، گیس پٹرول وغیرہ تو روزمرہ استعمال کی چیزیں ہیں۔ دیکھتے دیکھتے 65روپے والا پٹرول 150کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک پٹرول مہنگا ہونے کی خبر دے رہا ہے اور عالمی مارکیٹ پیٹرول سستا ہونے کی اطلاع۔ 45روپے والی ڈبل روٹی 75روپے کی ہوگئی جو ہر گھر میں روزانہ ایک ضرور استعمال ہوتی ہے انڈے بھی اسی طرح مہنگے ہوئے ہیں پہلے تو اسٹیٹ بینک اسی طرح رپورٹ دیتا تھا اور حکومتوں کو متنبہ کرتا تھا لیکن تازہ مالیاتی پالیسی سے محسوس ہوتا ہے کہ اسٹیٹ بینک پہلے آزاد اور خودمختار تھا اب نہیں رہا۔