قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

228

یا پھر مثال کے طور پر اْس شخص کو دیکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی تھی اْس نے کہا: ’’یہ آبادی، جو ہلاک ہو چکی ہے، اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟‘‘ اس پر اللہ نے اس کی روح قبض کر لی اور وہ سوبرس تک مْردہ پڑا رہا پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا: ’’بتاؤ، کتنی مدت پڑے رہے ہو؟‘‘ اْس نے کہا: ’’ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا‘‘ فرمایا: ’’تم پر سو برس اِسی حالت میں گزر چکے ہیں اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو (کہ اِس کا پنجر تک بوسید ہ ہو رہا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اِس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں‘‘ اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہو گئی، تو اس نے کہا: ’’میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘‘۔ (سورۃ البقرۃ:259)

عبدان، عبدان کے والد، شعبہ، ابو اسحاق، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جنگ احزاب کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے، اور میں نے دیکھا کہ آپ کے پیٹ کی سفیدی کو مٹی نے ڈھک لیا تھا آپ فرما رہے تھے کہ: لَولَا اَنتَ مَا اھتَدَتنَا نَحنْ وَلَا تَصَدَّقنَا وَلَا صَلَّینَا فَاَنزِلَن سَکِنَۃً عَلَینَا اِنَّ الاْلَی وَرْبَّمَا قَالَ المَلَا قَد بَغَوا عَلَینَا اِذَا اَرَادْوا فِتنَۃً اَبَینَا اَبَینَا یَرفَعْ بِھَا صَوتَہْ۔ ترجمہ: ’’اگر تو نہ ہوتا، تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ ہم نماز پڑھتے، اس لیے ہم پر سکینہ نازل فرما، بے شک لوگوں نے ہم پر ظلم کیا ہے، جب انہوں نے فتنہ کا ارادہ کیا تو ہم نے انکار کیا، ہم نے انکار کر دیا‘‘۔ اس کو بلند آواز سے فرماتے۔
(بخاری)