آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ قوم کی آواز ہے،سینیٹر مشتاق احمد خان

266

پشاور: امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے دیر پائین میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ کی تائید اور مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ قوم کی آواز ہے۔

الیکشن کمیشن آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ کی روشنی میں وزیراعظم، وزریر اعلیٰ، وفاقی اور صوبائی وزراء کے دوروں، ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات، بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ، من پسند افراد کی تعیناتی اور نوکریوں کی بندر بانٹ جیسی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔تمام اضلاع جن میں بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں ان میں وزیراعظم، وزیراعلیٰ ، صوبائی یا وفاقی وزراء کی آمد پر مزاحمت کریں گے۔

الیکشن کمیشن قواعد و ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنائے اور بلدیاتی انتخابات کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے دھاندلی زدہ ہونے سے بچانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ الیکشن کمیشن کے نوٹس کے بعد بھی اگر وزیر اعظم، وزیر اعلی، وفاقی و صوبائی وزرا دوروں سے باز نہیں آئے اور الیکشن کمیشن کے قوانین کی دھجیاں اڑاتے رہے تو عوامی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے بزور طاقت ان کے پروگرامات کا گھیراؤ کریں گے اور ان کو روکیں گے۔ حالات کی خرابی کی ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے المرکز الاسلامی پشاور سے جاری کئے گئے بیان میں کیا۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے انتظامات، پولیس اور صوبائی انتظامیہ کے کردار پر الیکشن کمیشن کی جانب سے شدید تحفظات سے حکومت وقت کی بدنیتی عیاں ہوتی ہے۔ دوسرے مرحلے کے انعقاد کے لیے فوج کی تعیناتی کی سفارش الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت پر عدم اعتماد ہے۔

انھوں نے کہا کے یہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے کہ الیکشن شیڈول کے اجرا کے بعد وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزرا متعلقہ اضلاع جہاں الیکشن ہونے جارہے ہوں وہاں دورے کرتے اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کو بطور سیاسی رشوت استعمال کرتے رہیں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں بھی تحریک انصاف کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیاں کی تھیں جس کی جانب بار بار الیکشن کمیشن کی توجہ مبذول کرائی گئی۔ اب دوسرے مرحلے میں تحریک انصاف اپنی ناقص پالیسیوں شدید مہنگائی، بیروزگاری، بد امنی اور کرپشن کی وجہ سے مسترد ہونے کے خوف سے سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال، پری پول رگنگ اور ترقیاتی کاموں کو بطور سیاسی رشوت استعمال کر رہی ہے۔ انھوں نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ الیکشن شیڈول کے اجرا کے بعد بیوروکریسی میں بڑے پیمانوں پر کئے گئے تبادلوں کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے اس کو واپس کریں۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی آئین و قانون کی بالادستی، صاف و شفاف الیکشن کے انعقاد اور جمہوریت کے استحکام پر یقین رکھتی ہے ۔ ہم کسی کو بھی عوام کے مینڈیٹ کو چوری کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔