تیونس کے ساتھ تعلقات مشترکہ عقیدے، بھرپور ثقافتی ورثے کی بنیاد پر استوار ہیں، شاہ محمود قریشی

162
نفرت انگیز بیانیے کو لگام دینی چاہیے، وزیر خارجہ 

اسلام آباد:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کو ناگزیر سمجھتا ہے، پاکستان کے تیونس کے ساتھ تعلقات مشترکہ عقیدے، بھرپور ثقافتی ورثے کی بنیاد پر استوار ہیں

وزیر خارجہ تیونس کے سفیر سے گفتگوکررہے تھے جس نے وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے دو طرفہ ملاقات کی، ترجمان دفتر خارجہ کے مطاق پاکستان میں تعینات جمہوریہ تیونس کے سفیر “بورہین ال کامل” نے وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی، اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان، تیونس کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے، پاکستان کے تیونس کے ساتھ تعلقات مشترکہ عقیدے، بھرپور ثقافتی ورثے کی بنیاد پر استوار ہیں۔

وزیر خارجہ نے تیونس کے صدر جناب قیس سعید کی مدبرانہ قیادت میں علاقائی امن اور استحکام کے لیے تیونس کے کردار کو سراہتے ہوئے، اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں غیر مستقل رکن کی حیثیت سے  گذشتہ دو برس کے دوران، تیونس کے مثبت کردار کی تعریف کی۔وزیر خارجہ نے او آئی سی کے پلیٹ فارم پر، بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر اور اسلامو فوبیا جیسے بین الاقوامی مسائل سے نمٹنے کے لیے تیونس کے تعاون کی تعریف کی،انہوں نے اقوام متحدہ کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے تیونس کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی اصولی اور غیر متزلزل حمایت کو سراہتے ہوئے تیونس کی قیادت کا  شکریہ ادا کیا۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ  پاکستان، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کو ناگزیر سمجھتا ہے، پاک تیونس جوائنٹ کمیشن کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے مارچ 2021 میں خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان منعقدہ دو طرفہ سیاسی مشاورت کے تیسرے اجلاس کا خیرمقدم کرتے ہوئے، وزیر خارجہ نے 2022 کے دوران اسلام آباد میں دسویں اجلاس کے جلد انعقاد کی ضرورت پر زور دیا،وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تیونس کے ہم منصب عثمان آل جارندی کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔