خان صاحب خلق خدا زیادہ خطرناک ہے

313

وزیراعظم عمران خان نے دھمکانے والے انداز میں کہا ہے کہ حکومت سے باہر نکل آیا تو میں زیادہ خطرناک ہوجائوں گا۔ اپوزیشن کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ وہ مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کررہی تھی، اس سے کوئی مفاہمت نہیں کرنی۔ وہ آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ پروگرام میں براہ راست عوام کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن کا گلیوں میں پیچھا کرنے کی دھمکی دی۔ لیکن ایک سوال پر یہ بھی کہنے لگے کہ مہنگائی کی وجہ سے نیند نہیں آتی گیس کے بعد اشیائے خور و نوش کا بحران بھی آنے والا ہے وزیراعظم نے کہا کہ رات کئی مرتبہ اٹھتا ہوں مہنگائی راتوں کو جگاتی ہے پاکستان میں مہنگائی ہے سب سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہوا ہے لیکن ان ساری باتوں کے باوجود وزیراعظم کہتے ہیں کہ ہماری موجودہ حکومت بھی مدت پوری کرے گی اور اگلی حکومت بھی ہماری ہوگی۔ یہ بات کوئی ہوشمند انسان نہیں کہہ سکتا اس قسم کی گفتگو کوئی بھی کرے اس کی ذہنی صحت کے بارے میں شبہات پیدا ہوجاتے ہیں لیکن ساری خرابیوں اور تباہیوں کے باوجود ان کو یہ امید کس بنیاد پر ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ مدت اقتدار پوری کریں گے بلکہ اگلی مدت میں حکومت بھی ملے گی اور وہ بھی مدت پوری کرے گی۔ گزشتہ ساڑھے تین برس کی کارکردگی میں ایسا کون سا کارنامہ ہے جس کو وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی بنیاد پر انہیں ووٹ ملیں گے اور وہ اور ان کی پارٹی کامیاب ہوجائے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکتا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم کو اپنی حکومت کی کارکردگی نہیں سلیکٹرز سے امیدیں ہیں کہ وہی انہیں لاکر پھر موقع دیں گے۔ وہ ایسا کیوں کریں گے اس کا جواب تو سلیکٹرز کے پاس ہوگا کیونکہ گزشتہ ساڑھے تین برس میں عمران خان نے اپوزیشن کے دو خاندانوں کے پیچھے گلیوں اور بین الاقوامی اداروں سمیت ہر جگہ دوڑ لگائی ہے صرف زبانی توپیں چلائی ہیں اور بیانات دیئے ہیں تقریروں میں کئی مرتبہ نواز شہباز، زرداری سب کو جیل میں ڈال چکے ہیں۔ ملکی معاملات سے وزیراعظم کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور لاتعلقی بتارہی ہے کہ وہ اقتدار میں رہتے ہوئے عوام کے لیے زیادہ خطرناک ہیں نواز، شہباز، مریم نواز کے لیے اور آصف زرداری یا ان کے ساتھیوں کے لیے وہ بالکل خطرناک نہیں ہیں عمران خان کے تمام اقدامات کا نقصان صرف عوام کو ہوا ہے جو شخص حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کا کچھ نہیں بگاڑ سکا جسے وہ چور کہتے ہیں بلکہ عوام ہی کا بگڑا ہے وہ حکومت سے باہر ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے، حکومت میں رہتے ہوئے انہوں نے ڈالر کو پر لگادیا اور باتیں بے پر کی کرتے ہیں اسٹیٹ بینک عملاً عالمی بینک کے حوالے کردیا ملک کو آئی ایم ایف کی شرائط پر چلایا جارہا ہے اور ہر طرح سے عوام کا ناطقہ بند کرنے والے کام ہورہے ہیں مزید مہنگائی کی اطلاع دی جارہی ہے ایسے بیانات دیئے جاتے ہیں جیسے یہ اپوزیشن لیڈر ہیں یا محکمہ موسمیات ہیں اور الرٹ جاری کررہے ہیں بات بات پر ترقی یافتہ ممالک اور دنیا کے دوسرے ممالک سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک میں مہنگائی ضرور ہوئی ہے لیکن انہوں نے اپنے عوام کو بہت ساری سہولتیں بھی دی ہیں۔ گھر بیٹھ کر لوگوں نے بیروزگاری الائونس بھی وصول کیا ہے ان ملکوں میں سے کسی ملک میں 1244ارب روپے کورونا امدادی فنڈ کے ادھر ادھر نہیں ہوئے۔ دنیا بھر میں کاروبار تباہ ہو اہے لیکن پاکستان میں حکومت کا وجود کہیں نہیں نظر آیا ہر چیز پر حکومت اور اس کی مشینری نے مال بنایا ہے۔ لاک ڈائون کرنے اور کھولنے دونوں کاموں میں پیسے وصول کیے گیے ہیں پولیس نے ٹھیلے والوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ سندھ اور وفاق میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مہم چلتی رہی کورونا جیسی وبا کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ایسے حکمران ایوان اقتدار میں ہوں تو عوام کے لیے بہت خطرناک ہوتے ہیں وزیراعظم عمران خان کی نیندیں مہنگائی، عوام کی مشکلات یا معاشی تباہی کی وجہ سے نہیں اڑی ہیں انہیں کھلے اشارے مل چکے ہیں کہ ان کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ ڈوبتے جہاز سے چوہے نکل نکل کو پانی میں چھلانگ لگارہے ہیں اقتدار جانے کی فکر سے تو نیند بھی اڑے گی۔ وزیراعظم کو کئی مرتبہ مشورہ دیا گیا کہ آپ نے نواز شریف کو ملک سے باہر بھیج دیا، زرداری اور مسلم لیگ (ن) میں فاصلہ کردیا اب آپ عوام کی فلاح کے کاموں میں لگ جائیں اب اپوزیشن منقسم ہے آپ کو نقصان نہیں پہنچاسکتی لیکن وہ مسلسل ان دو خاندانوں کے پیچے پڑے ہوئے ہیں اپنے ملک کی فکر نہیں اور افغانستان میں قحط کی صورتحال سے خوفزدہ ہیں جس طرح انہوں نے فون کالز پر عوام سے براہ راست بات کی ہے اسی طرح ذرا ایک دفعہ بھیس بدل کر بازاروں کا چکر تو لگائیں اس کی ہمت نہیں تو اپنے قریبی دوستوں سے پوچھیں کہ جن گلیوں میں وہ اپوزیشن کو بھگانے کی بات کررہے ہیں ان گلیوں میں انہیں کس نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ خلق خدا ابھی تو غائبانہ سب کچھ کہ رہی ہے جس دن یہ خلق خدا باہر نکلی تو وہ اقتدار کے اندر اور باہر والے عمران خان سے زیادہ خطرناک ہوگی۔
۔