بجلی کی قیمت میں 95 پیسے تک اضافے سے متعلق نیپرا میں سماعت بغیر کسی فیصلے کے مکمل

216

نیپرا نے حکومت کی بجلی کی قیمت میں 95 پیسے اضافے سے متعلق سماعت بغیر کسی فیصلے کے مکمل کرلی۔ چیئرمین نیپرا نے کہا کہ نیپرا حکومتی درخواست پر تفصیلی مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گا۔ پیرکو دوران سماعت نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے درخواست سبسڈی ریفارمز پروگرام کے تحت کی گئی ہے، 6 ماہ 200 یونٹ تک ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے اضافہ نہیں مانگا گیا۔ چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کا کہنا تھا کہ نیپرا کا کام ٹیرف کا تعین کرنا ہے، سبسڈی کا استحقاق حکومت کے پاس ہے،کس سیکٹر کو کتنی سبسڈی دینی ہے وہ حکومت کا کام ہے۔ جوائنٹ سیکریٹری پاورڈویژن محفوظ بھٹی نے کہا کہ حکومت بجلی صارفین کو238ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے کیونکہ یہ بوجھ حکومت کیلئے برداشت کرنا مشکل ہورہا ہے، بجلی میں اضافے کے باوجود بھی بجلی صارفین کو177ارب روپے کی سبسڈی ملے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا گزشتہ سال فیصلہ ہوا کہ صرف مستحق لوگوں کو سبسڈی دی جائے لہذا ہم نے سبسڈی کا بوجھ آہستہ آہستہ کم کرنا ہے۔ چیئرمین نیپرا کا کہنا تھا کہ کمرشل صارفین کو بجلی بلز میں 47 فیصد تک ٹیکسز دینا پڑتے ہیں جس کیلئے میں نے وزارت خزانہ سے بات کی ہے،بجلی کا شعبہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ذریعہ نہیں ہے اور وزارت خزانہ حکام نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ پاور ڈویژن حکام کا کہنا تھا کہ بجلی مہنگی کرنیکی درخواست منظورہوئی تواوسط ٹیرف میں 20 پیسے اضافہ ہوگا تاہم چیئرمین نیپرا نے پیر کو سماعت میں بجلی مہنگی کرنے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا اور کہا کہ حکومتی درخواست پر تفصیلی مشاورت لے کر بعد میں فیصلہ ہوگا۔ واضح رہے حکومت نے نیپرا کو 18 جنوری کو بجلی 95 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دی تھی۔