عورت فائونڈیشن کا پروگرام

115

عورت فائونڈیشن نے تشدد اور لیبر سے متعلق مسائل کی رپورٹنگ کے چیلنجز کے بارے میں گزشتہ دنوں کو لیجسلیٹیو واچ گروپ کے تحت ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ پاکستانی معاشرے میں عورتوں، ٹرانس جینڈرز اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ کھلے عام اور بلا خوف و خطر ہو رہا ہے۔ عوامی جگہوں پر عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، مشتعل ہجوم مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کو سر عام قتل کر دیتا ہے۔ خواتین رپورٹرز یہاں تک کہ لیڈی پولیس بھی اپنے فرائض کی ادائیگی کے وقت خود کو محفوظ تصور نہیں کرتی ہیں۔ دوسری طرف فیکٹریوں میں صحیح حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے سبب صنعتی حادثوں کے نتیجے میں مزدور مرتے رہتے ہیں۔ جس طرح فیکٹریوں کے اندر حفاظتی انتظامات ہونے چاہئیں، اسی طرح رپورٹنگ کے لیے جانے والوں کے لیے حفاظتی انتظامات ہونے چاہئیں۔ میڈیا اور فیکٹری مالکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں۔ گزشتہ سال پیش آنے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ میڈیا، ٹک ٹاک، ولاگرز اور پولیس میں کام کرنے والی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری طرف تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے میڈیا معاملے کی حساسیت اور ضابطہ اخلاق کی پابندی نہیں کرتا۔ ریپ کے واقعات کی رپورٹنگ میں جو حساسیت درکار ہے وہ نظر نہیں آتی۔