حکمران وعدے پورے کریں‘ پریم یونین

163

ریلوے پریم یونین کے رہنمائوں چیئرمین ضیاء الدین انصاری، صدر شیخ محمد انور، خیر محمد تونیو، خالد محمود چودھری نے منی بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے منی بجٹ لاکر ملک میں مہنگائی کے خاتمہ اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کے بجائے مہنگائی میں اضافہ کر کے مہنگائی کے مارے ملازمین کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ پی ٹی آئی کو (ن) لیگ اورپیپلز پارٹی کے عبرت ناک انجام سے سبق سیکھنا چاہیے۔ حکمران طاقت میں نشہ میں ایسے اقدامات کرنے سے گریز کریں جو مستقبل میںخود ان کے گلے کی ہڈی ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی خسارہ پورا کرنے کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے دفاعی اور فلاحی ادارے کو نجکاری کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے، مزدوروں کے حقوق کے لیے ہرجگہ آواز اٹھائیں گے، حکومت نے ملازمین کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملک بھر سے ریل مزدور اسلام آباد کا رخ کر لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ توقع تھی کہ حکومت پنے انتخابی وعدوں کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرے گی مگر حکومت نے اپنے انتخابی وعدے فراموش کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دورحکومت میں ایک لاکھ افراد کو بے روزگار کردیا گیا ہے، ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کے دعوے داروں نے ریلوے کی 15 ہزار اسامیوں پر بھرتی کرنے کے بجائے انہیں یکسرختم کردیا ہے۔ حکومت غربت کے خاتمہ کے بجائے غریب کا خاتمہ چاہتی ہے۔ مزدور دشمن پالیسیوں نے حکومت سے وابستہ توقعات کو خاک میں ملادیاہے جس کا خمیازہ اسے آئندہ الیکشن میں بھگتناپڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریلوے میںتمام ایڈہاک ریلیف ختم کرکے انہیں بنیادی تنخواہوں کا حصہ بنایا جائے اور تمام اسکیلوں پر نظر ثانی کی جائے۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتی کے بجائے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے بچوں کا کوٹہ مقرر کیا جائے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ریلوے ملازمین کو ٹی اے اور گریجوٹی کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے جبکہ تعمیراتی فنڈز کے نام پر تنخواہوں سے پانچ فیصد ناجائز کٹوتی کی جارہی ہے، اس کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کا جس پیکیج کا وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے۔ پاکستان ریلوے میں فوری طور پر اس پر عمل درآمد کروایا جائے۔