پیپلز پارٹی کے وفد کی مصطفی کمال سے ملاقات،تحفظات پر گفتگو

181

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان ہاؤس میں چیئرمین سید مصطفی کمال سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک سرزمین پارٹی نے 2021 ء کے بلدیاتی کالے قانون کے حوالے سے پیپلز پارٹی کو تحفظات سے آگاہ کیا جبکہ پیپلز پارٹی اور پی ایس پی کے وفود نے کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سید مصطفی کمال نے واضح کیا کہ ہم اختیارات اور وسائل وزیر اعلیٰ ہاؤس سے نکال کر سندھ کے گلی کوچوں میں لانا چاہتے ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی نے پیپلز پارٹی پر واضح کردیا کہ 30 جنوری کو ہونے والے احتجاجی پروگرام کا ہر صورت میں انعقاد ہوگا۔ اس موقع پر صدر انیس قائم خانی، اشفاق منگی، سید حفیظ الدین، ارشد وہرا، شبیر قائم خانی، حسان صابر، آسیہ اسحاق جبکہ پیپلزپارٹی کے وفد میں صوبائی وزیر ناصر شاہ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب موجود تھے۔ ملاقات کے بعد پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کو بلدیاتی قانون کے حوالے سے تحفظات سے آگاہ کیا اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ہماری تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ اگر یہ عوامی مطالبہ پیپلز پارٹی مانے گی تو یہ ان کے لیے ہی فائدہ مند ہے، ایک با اختیار بلدیاتی نظام کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہے۔ ہم صرف کراچی ہی نہیں پورے سندھ کے حقوق کی بات کرتے ہیں، شہر کے ساتھ جاری زیادتیوں پر کبھی نہیں کہا کہ سندھی زیادتی کر رہے ہیں بلکہ ہمیشہ کہا کہ پیپلز پارٹی زیادتی کر رہی ہے، لسانی سیاست نے صوبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔