قنبر علی خان، سرکاری اراضی سے قبضہ چھڑا نے کیلیے آپریشن کی تیاری

95

 

قنبر علی خان(نمائندہ جسارت) آپریشنل کمانڈر ڈی آئی جی لاڑکانہ ڈویژن رینج مظہر نواز شیخ نے کہاہے کہ لاڑکانہ ڈویژن رینج کے اضلاع میں اربوں روپے کی مالیت کی زرعی اراضی کا قبضہ چھڑانے کیلیے پولیس نے لاڑکانہ ڈویژن کے اضلاع شکارپور اور کشمور سمیت دیگر اضلاع میں گرینڈ آپریشن کیلیے بہترین حکمت عملی تشکیل دے دی ہے اور اس سلسلے میں قبل پولیس نے ضلع کشمور کے پی ایس حاجی خان شر کی حدود میں ایک زبردست پولیس انٹیلی جنس نیٹ ورک کے تحت مسلح ڈاکوؤں کا گھیرا تنگ کرکے سند ھ وبلوچستا ن کے خطرناک ڈاکوؤں کے سرغنہ پندرہ لاکھ روپے انعام یافتہ ڈاکونذر عرف نذروو شر کو ان کے دو ساتھی ڈاکوؤں دس لاکھ روپے انعام یافتہ ڈاکو جنید شر اور ڈاکو افراد خان عرف سرور سمیت تین مسلح خطرناک ڈاکوؤں کو ایک مقابلے میں ہلاک کرکے ان کے قبضے سے تین کلاشنکوف اور بھاری مقدار میں راؤنڈز اور میگزین برآمد کرلیے ہیں۔ یہ بات انہوں نے ایک پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتائی۔ انہوں نے بتایاکہ ہلاک شدہ تینوں ڈاکو اغوا برائے تاوان ، مسلح ڈکیتی ،قتل اورپولیس مقابلوں سمیت دیگر سنگین وارداتوں میں مختلف پولیس تھانوں کو مطلوب تھے۔ ڈی آئی جی مظہر نواز شیخ نے بتایاکہ ہمیں ہر صورت میں علاقے کو مسلح ڈاکوؤں سے کلیئر کرانا ہے اس کیلیے چاہے ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے اس سلسلے میںوز یر اعلیٰ اور آئی جی پولیس سندھ نے جنگلات سے ڈاکوراج کے خاتمے کے ساتھ پولیس کو ڈاکوؤں کے قبضے سے اربوں روپے کی زرعی اراضی واگزار کرانے کیلیے ہمیں خصوصی ٹاسک اور فری ہینڈ دیا ہے انہوںنے کہاکہ مسلح ڈاکوؤں نے مقامی لوگوں کی زرعی زمینوں کے علاوہ سرکاری اراضی پر بھی اپنے قبضے جماکر اپنے مورچہ قائم قائم کر رکھے ہیں اور پورے علاقے کو نوگو ایریا بناکر علاقے میں خوف کی صورتحال پیدا کررکھی ہے مگر چند ماہ کے اندر پولیس نے گرینڈ آپریشن کے ذریعے ڈرون اور نائٹ وژن کیمروں کا استعمال کرکے مسلح ڈاکوؤں کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھ کر ان کے خفیہ ٹھکانوں اور مورچوں کو تباہ کردیا ہے اور آہستہ آہستہ علاقے کو کلیئر کرنے کا عمل تیزی کے ساتھ شروع کردیا ہے اور وہا ں نئی پولیس چوکیوں اور افسران کی کیمپ کا قیام عمل میں لاکر پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کیا جارہاہے۔ انہوںنے کہاکہ ڈاکوؤں کی مکمل سرکوبی تک آپریشن جاری رہے گا۔