شوگر بلڈپریشر ،کولیسٹرول اور آرام پسندی امراض قلب کے اہم اسباب ہیں

650

کراچی (رپورٹ: محمد علی فاروق) امراض قلب کے اسباب میں بنیادی طور پر شوگر ، بلڈ پریشر اور کو لیسٹرول کا مرض اہم کرادار ادا کرتا ہے‘ امراض قلب کی سب سے بنیادی وجہ انسانی مثبت سر گرمیوں کا محدود ہونا اور جسم سے فاضل مادوںکا اخراج نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے دل اپنا کام درست انداز میں نہیںکرتا۔ ان خیالات کا اظہار معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر خالد مشتاق، ماہر امراض قلب ڈاکٹر فواد فاروق اور اولمپک کونسل آف ایشیا (IOC) سے کوالیفائیڈ اسپورٹس ایڈمنسٹریٹر مارشل آرٹ کے ماہر تائیکو انڈولیجنڈ گرینڈ ماسٹر رضوان مصطفی زبیری نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ’’ملک میں امراض قلب بڑھنے کے اسباب کیا ہیں؟‘‘ ڈاکٹر خالد مشتاق نے کہا کہ سب سے بڑی وجہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورۃ الصف کی آیات 2اور 3میں بتا دی ہے کہ اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ، تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے‘آپ دیکھیں مجموعی طور پر معاشرے کی کیفیت یہ بنتی جا رہی ہے، سیاسی یا مذہبی جماعتوںکی اعلیٰ قیادت کی اکثریت اس مرض میں مبتلا ہے‘ یہ اعلیٰ قیادت کہتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے اس کی مثال اس طرح سمجھ لیںکہ یہ امریکا مردہ باد اور امریکا کو اسلام اور مسلمانوںکا دشمن کہتے ہیں‘ پھر ان کی اولادیں ان کے ہی ملک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہیں اور وہاں وہ کاروبار اور ملازمتوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ ڈاکٹر خالد مشتاق نے کہا ہے کہ اس طبقے کی اکثریت کہتی ہے کہ مال کو چھوڑدو مگر سب سے زیادہ مال کی محبت اسی طبقے میں پائی جاتی ہے جب انسان میں مال کی محبت بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ لازم ہے کہ خود غرضی بھی جنم لیتی ہے‘ اسی خود غرضی کی وجہ سے انسان میں جو سب سے بڑی تبدیلی رونما ہوتی ہے وہ پرتعیش زندگی اور بسیار خوری ہے یعنی انسان آرام پسند زندگی اور اپنی ذات تک محدود ہوجاتا ہے‘ ہوٹلوںکی مرغن غذائیں کھانے اور عیاشی کی زندگی گزارنے سے اس میں جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ایسے انسانوںکی اکثریت امراض قلب اور ذہنی تناؤ میں مبتلا ہوجاتی ہے‘ دراصل خود غرضی ہی ذہنی اور امراض قلب کی وجہ ہے۔ڈاکٹر فواد فاروق نے کہا کہ اسلام زندگی کو سمجھتے ہوئے احکامات دیتا ہے اور جب انسان کا اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان ہوجاتا ہے تو پھر وہ اسلام کے بنیادی ارکان پر سختی سے عمل کر تا ہے‘ رات جلد سونا اور فجر میں جلد اٹھنے سے انسان کو روحانی اور جسمانی فوائد حاصل ہوتے ہیں‘ اس کے نتیجے میں دل کو بھی اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے‘ دراصل انسان معاشی طور پر پریشان ہے معاشرے میں بے شمار مسائل ہیں جن کا شکار ہوکر انسان ذہنی دباؤ اور پریشانیوں میں مبتلا رہتا ہے‘ زندگی کا طر ز عمل بگڑ گیا ہے ‘حالیہ دور میں انسان اپنی غذا، جسمانی ورزش اور سونے جاگنے کا خیال نہیں رکھ پا تا اور وہ بنیادی طور پر شوگر ، بلڈ پریشر ، کو لیسٹرول کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے جو امراض قلب کی بیماری کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ رضوان مصطفی زبیری نے کہا کہ امراض قلب کی سب سے بنیادی وجہ انسانی مثبت سر گرمیوں کا محدود ہوجانا ہے‘ جسم سے فاضل مادوںکا اخراج نہیں ہو رہا اور دل اپنا کام درست انداز میں نہیںکر رہا ‘ انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کر تا ہے تو انسانی جسم سے توانائی کا اخراج ہو تا ہے‘ حرارت کی وجہ سے جسم سے پسینہ خارج ہوتا ہے‘آج کا المیہ یہ ہے کہ انسان کے جسم سے پسینے کا اخراج کم ہوگیا ہے‘ کھیلوںکے حوالے سے جب بچوں کے والدین ہمارے پاس آتے ہیں تو ان میں اور بچوں میںقوت مدافعت کی بہت کمی نظر آتی ہے‘ اگر کار پوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کو مثبت سرگرمیوں پر راغب کیا جائے تو ان کی شریانیں کھل جائیںگی اور خون کی روانی درست ہونے سے دل کی دھڑکن بھی ٹھیک کام کرنے لگے گی۔ رضوان مصطفی زبیری نے کہا کہ ہماری کوشش بھی یہی ہے کہ عوام کو جدید سائنسی بنیاد پر نئے طریقوں کو متعارف کر واکر ذہنی تناؤ کو کم کیا جائے‘ مثبت سرگرمیوں میں راغب کر کے طاقت کے توازن کو بحال رکھا جائے‘ دراصل لوگوں کی خوراک زیادہ جنک فوڈ یا بازاری کھانو ں پر منتقل ہوگئی ہے جس میں مرغن غذائوں کی وجہ سے دل کی شریانوں میںآکسیجن نہیں پہنچ رہی اور شریانیں سکڑ جاتی ہیں‘ شریانوں میں چکنائی جمنا شروع ہو جاتی ہے‘ آکسیجن کی وہ مقدار جس کی دل کو ضرورت ہوتی ہے وہ دل تک نہ پہنچنے سے دل کی صلاحیت میں کمی آتی ہے اور دل دھڑکنا کم ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جسم میں خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے‘ آج انسان امراض قلب میں مبتلا ہوکر جلد دنیا سے رخصت ہو رہا ہے‘ اگر انسان اپنی خوراک اور جسمانی ورزش یا مشقت پر توجہ دے تو وہ امراض قلب اور ذہنی تناؤ جیسے مرض سے محفوظ رہ سکتا ہے۔