سودی مالیاتی نظام سے متعلق کیس، عدالت نے معاملہ پر معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا 

216

اسلام آباد: وفاقی شرعی عدالت میں سودی مالیاتی نظام سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی نے ریمارکس دئیے ہیں کہ اس وقت ملک میں اسلامی بینکنگ سسٹم کے ساتھ سودی بنکاری سسٹم بھی رائج ہے، اسلامی بینکنگ سسٹم کی خلاف ورزی پر شکائت کا فورم موجود ہے، ہم بینک بند نہیں کر سکتے,اسلامی بینکنگ سسٹم کے لئے حکومت اور مالیاتی ادارے اتفاق رائے پیدا کرے تو یہ کام آسان ہو سکتا ہے،حکومت اور حکومتی ادارے اس ضمن میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔ معاملہ کی سماعت چیف جسٹس شرعی عدالت نور محمد مسکانزئی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت اسٹیت بینک کی طرف سے اسلامی بنکاری نظام کے لیے اقدامات کی مفصل رپورت پیش کی گئی۔اسٹیٹ بینک کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک بلا سود لین دین کا نظام قائم کرنے میں سنجیدہ ہے،اسلامی بینکنگ سسٹم راتوں رات قائم نہیں ہوسکتا،یہ ایک ارتقائی عمل ہے،یہ کام آسان نہیں قانونی دشواریاں بھی درپیش ہیں،یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اسلامی بینکنگ نظام پالیسی معاملہ ہے یا عدالت کے حکم کے تابع ہوگا۔ وکیل نیشنل بینک نے عدالت کو بتایا کہ الائیڈ پیپر ملز عدالتی فیصلے کے آڑ میں قرض واپس نہیں کررہا، جس پر چیف جسٹس نے کہا ہم نے سود کے خلاف حکم امتناعی جاری  نہیں کیا ہے، جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے ایک موقع پر ریمارکس دئیے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے اور پارلیمنٹ نے قانون بنادیا ہے کہ قوانین اسلامی شریعت کے مطابق ڈالے جائیں گے،اب تو مالیاتی نظام میں آئی ایم ایف کا بھی کردار ہے،جب حکومت خود اسلامی بنکاری نظام کی طرف جارہی ہے تو پھر رکاوٹ کیوں،اب تو آسٹریلیا جیسے غیر اسلامی ممالک میں سود کے بغیر بنکاری سسٹم قائم ہو رہا ہے،جب تک قانون سازی نہیں ہوگی تب تک کوئی نظم نہیں چل سکتا.ربا فوری ختم نہیں کیا جاسکتا۔نمائندہ تنظیم اسلامی نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ اس وقت دو متوازی بینکنگ سسٹم چل رہے ہیں، متوازی نظام کی موجودگی میں اسلامی بینکنگ سسٹم ترقی نہیں کر سکتا۔بعد ازاں وفاقی شرعی عدالت نے معاملہ پر معاونت کے لئے اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہو? کیس کی سماعت یکم فروری تک ملتوی کر دی ہے۔