ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں

250

’’اور یادو کرو اس واقعے کو، جب کہ ابراہیم نے کہا: اے میرے پروردگار! اس شہر کو پُرامن شہر بنادے اور مجھ کو اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ اے میرے پروردگار! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے، تو جس نے میری اتباع کی، وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی، تو یقینا تُو بخشنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی ذریت میں سے، بعض کو بن کھیتی کی وادی میں بسا دیا ہے۔ تیرے محترم گھر کے پاس۔ ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے اور ان کو پھلوں کا رزق عطا کر، تاکہ وہ شکرگزار بنیں۔ اے ہمارے پروردگار! یقینا تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں اور اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی ہے۔ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ سب تعریفیں اور شکریے، اللہ ہی کے لیے ہیں، جس نے مجھے میرے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاقؑ عطا کیے، یقیناً میرا رب دعائیں سننے والا ہے۔ اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنادے اور میری اولاد کو بھی، اور اے ہمارے پروردگار! میری دعا قبول فرمالے۔ اے ہمارے پروردگار! میری دعا قبول فرمالے۔ اے ہمارے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو، اس روز جب کہ حساب ہوگا‘‘۔ (ابراہیم 35-41)
ابراہیم علیہ السلام کی ان دعائوں سے ایک حقیقت واضح طور پر ثابت ہورہی ہے کہ دعائوں میں کسی کو واسطہ اور وسیلہ نہیں بنانا چاہیے۔ بلکہ کسی کو واسطہ اور وسیلہ بنانا، اللہ کو اپنے سے دور سمجھنے کے مترادف ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ کسی انسان کو وسیلہ بنانے کا یہ مطلب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان راجوں اور مہاراجوں اور دنیا کے حکمرانوں کی طرح مغرور اور بْرا ہے جو کسی کی التجا سنتے ہی نہیں، جب تک سازشیں نہ ہوں، جب تک کہ رشوتیں نہ دی جائیں، جب تک وسیلے اور ذریعے اختیار نہ کیے جائیں۔ حالاں کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے اور اپنی مخلوق پر انتہائی شفیق اور مہربان ہے۔ سب کی سنتاہے اور بلاواسطہ اور بغیر وسیلہ سنتا ہے۔ اس لیے ابراہیم علیہ السلام نے اپنی تمام دعائوں میں براہ راست اللہ کو پکارا ہے اور کسی کو وسیلہ نہیں بنایا ہے، کسی کو واسطہ نہیں بنایا، کسی کی جاہ اور مرتبے اور طفیل کے ذریعے دعا نہیں کی۔
انبیاء علیہم السلام اور دیگر داعیان اسلام کی صداقت اور سچائی کا یہ بھی ثبوت ہے کہ وہ جس فکر وخیال اور عقیدہ و مذہب کی اور فکر وعمل کی اور جس دین و شریعت کی دوسروں کو دعوت دیتے ہیں اسی کو اپنی اولاد اور نسل کے لیے بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ آدمی کی فطرت ہے کہ وہ اپنی اولاد کا برا نہیں چاہتا اور ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ میری اولاد دین ودنیا ہر اعتبار سے کامیاب وکامران بنے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے نماز قائم کرنے والا بنانے کی جو دعا اپنے لیے کی، وہی اپنی اولاد کے لیے بھی کی۔ اقامت صلوٰۃ ایک ایسی عبادت اور ذریعۂ تربیت ہے کہ اقامت دین کا فریضہ اقامت صلوٰۃ کے بغیر انجام نہیں پاسکتا۔ کیوں کہ نماز انسان کے ذہن و فکر اور عقیدہ وخیال اسلامی بناتی ہے۔ آدمی کے اخلاق و عادات اور اس کے کردار و سیرت کو اسلامی بناتی ہے۔ اس کی معاشرت اور اس کے سماجی تعلقات، معاملات اور اس کے مشاغل، اس کی مصروفیات اور طور طریقوں کو اسلامی بناتی ہے۔ نماز آدمی کو کمائی کے حرام ذرائع سے بچاتی اور محفوظ رکھتی ہے۔ نماز آدمی کو حرام اور ناجائز جگہوں میں اور ناجائز طریقوں سے خرچ کرنے سے روکتی اور باز رکھتی ہے۔ غرض کہ نماز ہر قسم کی ذہنی، اخلاقی معاشرتی اور سیاسی خرابیوں سے بچاتی ہے۔ مگر یہ سب اسی وقت ہوتا ہے، جب نماز کاحق ادا کیا جائے یہ صرف پڑھی نہ جائے۔ بلکہ قائم کی جائے۔ اسی لیے ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے بھی، نماز قائم کرنے والی اولاد بنانے کی دعا مانگی۔ دعائیں اور التجائیں کرنا اور اللہ تعالیٰ کو حل مشکلات کے لیے پکارنا جس قدر ضروری ہے اسی قدر یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ ہی سے دعائیں قبول کرنے کی بھی التجا کی جائے۔ سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہنا سنت ہے۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ قبولِ دعا کی بھی التجا اللہ ہی سے کرنا چاہیے۔ ابراہیم علیہ السلام نے یہ بھی دعا کی تھی کہ میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی بخش دے۔ اصل مسئلہ آخرت ہی کا ہے۔ اسی لیے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لیے اور اپنے والدین کی مغفرت کی دعا کی اور جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن تھا تو آپؑ نے باپ کے دعا کرنے سے تبّری کا اظہار کیا۔
اللہ کے سچے اور اطاعت گزار بندے خصوصاً اللہ پیغمبرخود غرض نہیں ہوتے، وہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ کافروں کے لیے ہدایت کی اور مومنوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ آمین