سیدنا صدیقِ اکبرؓ

231

تمام مسلمانوں کا عقیدہ اور نظریہ ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ ان کے سروں کے تاج ہیں، لیکن جو اعزاز اور سر بلندی سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کے نصیب میں آئی، وہ کسی اور کے حصّے میں نہ آسکی۔ پیدائش کے وقت والدین نے آپ کا نام عبدالکعبہ ’’کعبے کا بندہ‘‘ رکھا، مگر اسلام قبول کرلینے کے بعد نبی کریمؐ نے آپ کا نام بدل کر عبداللہ ’’اللہ کا بندہ‘‘ کردیا، ابوبکر آپؓ کی کنیت، صدیق اور عتیق لقب تھے۔ آپؓ زیادہ تر اپنی کنیت اور لقب صدیق سے مشہور ہوئے۔ ایمان کی دولت سے سر فراز ہونے کے بعد اپنا مال ودولت، اسلام کی اشاعت اور مظلوم مسلمان غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کرتے رہے۔
اسلام کے پہلے موذّن سیدنا بلالؓ کو بھی سیدنا صدیق اکبرؓ ہی نے اُن کے ظالم آقا اُمیہ سے خرید کر آزاد کیا تھا۔ ہجرتِ مدینہ کے سفر میں صدیق اکبرؓ ہی نبی کریمؐ کے رفیق سفر تھے، دورانِ سفر کئی بار ایسے جذبہ محبت والفت کے مظاہر سامنے آئے کہ جن کی مثال مشکل ہے، پھر غارِثور میں نبی کریمؐ کی خاطر داری کا اعزاز بھی نصیب ہوا، غار کے اندر تمام سوراخ بند کرنے کے بعد جب ایک سوراخ بند نہ ہوسکا اور نبی کریمؐ آپؓ کے زانو پر سرِاقدس رکھ کر سوگئے تو کیڑے مکوڑے اور سانپ بچھو سے حفاظت کے لیے اُس ایک سوراخ پر صدیق اکبرؓ نے اپنی ایڑی رکھ دی، اُس میں ایک سانپ تھا جس نے انہیں ڈس لیا، شدتِ تکلیف کے باوجود پہلو نہ بدلا کہ آپؐ بے آرام نہ ہو جائیں، مگر آنسووں کے چند قطرے بے اختیار نکل کر نبی کریمؐ کے چہرہ مبارک پرجاگرے، جس سے آپؐ جاگ گئے، وجہ پوچھی اور پھر آپؐ نے اپنا لعابِ دہن آپ کے پیر کے زخم پر لگایا جس سے اسی وقت تکلیف کافور ہوگئی۔
سیدنا ابوبکرؓ کی صحابیت اور شرف کی گواہی قرآن کریم نے دی ہے کہ جب وہ دونوں غار میں تھے۔ آیت صاف بتاتی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓصدیق اپنے لیے خوف زدہ نہ تھے، بلکہ نبیؐ کے حوالے سے بے چین تھے کہ کہیں دشمن آپؐ کو نقصان نہ پہنچادیں۔
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے دو یتیم بچوں سے خریدی گئی زمین کی قیمت بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ادا کی۔ اس طرح قیامت تک مسجد نبوی ابوبکر صدیقؓ کے لیے صدقہ جاریہ کا باعث بنی رہے گی۔ سماجی اور رفاہی خدمات کے ساتھ ساتھ دیگر دینی و مذہبی سرگرمیوں میں بھی سیدنا ابوبکرؓ پیش پیش تھے، غزوہ بدر ہو یا اُحد، خیبر ہو یا دیگر معرکے، آپ نبی کریمؐ کے ساتھ ساتھ تھے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا ابوبکرؓ اپنا سارا مال ومتاع لے کر نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، جب نبی کریمؐ نے فرمایا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے تو عرض کیا، اُن کے لیے اللہ اور اُس کے رسولؐ کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا یہ ایثار دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ آپ سے آگے کوئی نہیں بڑھ سکتا۔ نبی کریمؐ کے وصال کے بعد جب صدیق اکبرؓ کی خلافت پر مسلمان جمع ہوئے اور بیعت عام ہوئی تو اس کے بعد صدیق اکبرؓ نے تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا کہ لوگو، اللہ کی قسم، نہ میں کبھی امارت کا خواہاں تھا، نہ اس کی طرف مجھے رغبت تھی اور نہ کبھی میں نے خفیہ یا ظاہراً اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کی، لیکن مجھے خوف ہوا کہ کوئی فتنہ نہ برپا ہوجائے، اس لیے اس بوجھ کو اٹھا نے کے لیے تیار ہوگیا، امارت میں مجھے کوئی راحت نہیں، بلکہ یہ ایسا بوجھ مجھ پر ڈالا گیا ہے کہ جس کی برداشت کی طاقت میں اپنے اندر نہیں پاتا اور اللہ کی مدد کے بغیر یہ فرض پورا نہیں ہوسکتا۔ کاش میری بجائے کوئی ایسا شخص خلیفہ مقرر ہوتا جو اس بوجھ کو اٹھانے کی مجھ سے زیادہ طاقت رکھتا، مجھے تم نے امیر بنایا، حالانکہ میں تم میں سے بہتر نہیں ہوں، اگر اچھا کام کروں تو میری مدد کرنا اور غلطی کروں تو اصلاح کرنا۔ جب تک میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کروں، تم میری اطاعت کرنا اور اگر میں ان کے خلاف کرو ں تو میرا ساتھ چھوڑ دینا‘‘۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں لشکر اُسامہؓ کی روانگی، فتنہ ارتداد، منکرین زکوٰۃ اور جھوٹے نبیوں کی سرکوبی کے بعد عرب میں امن واستحکام کے ساتھ ساتھ ایران پر فوج کشی کا حکم دیا، اسی طرح شام اور روم کی طرف بھی پیش قدمی کی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ اپنی وفات سے قبل وصیت فرمائی کہ بیت المال سے ان ڈھائی برس میں جتنا روپیہ بطور وظیفہ مجھے ملتا رہا، وہ سب میری زمین بیچ کر واپس بیت المال میں جمع کرایا جائے، مجھے پرانے کپڑوں میں ہی سپرد خاک کردیا جائے کہ نئے کپڑے کے زندہ زیادہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔ 63 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔ سیدنا عمرؓ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور نبی اکرمؐ کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔