طالبان حکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

313

افغانستان کے عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے دنیا کی حکومتوں بالخصوص مسلمان ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کی حکومت کو عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم کریں اور افغان حکومت کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک بن جائیں۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ افغانستان میں برے اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے افغان حکومت کو دیگر ممالک سے پہلے عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم کریں۔ افغان وزیراعظم نے عالمی قوتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کے اثاثے بحال کیے جائیں کیوں کہ ملک میں بڑھتا ہوا اقتصادی بحران منجمد اثاثوں کی وجہ سے ہے۔ افغانستان کے اقتصادی بحران سے پوری دنیا واقف ہے، لیکن اس کی ذمے داری عالمی طاقتوں بالخصوص امریکا پر عائد ہوتی ہے جس نے افغانستان میں فوجی طاقت کی ناکامی کے بعد اقتصادی گھیرائو کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ امریکا نے اپنی ناکامی کے بعد بھی طالبان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے پوری دنیا کی فوجوں کو لے کر حملہ آور ہوگئے تھے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور اشرف غنی انتظامیہ کی تحلیل کے بعد افغانستان طالبان کے مکمل کنٹرول میں آگیا ہے۔ طالبان کی حکومت نے افغانستان میں مکمل امن قائم کردیا ہے۔ جب کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد خانہ جنگی کا خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ افغانستان کے اقتصادی بحران کی ذمے داری امریکا اور عالمی اداروں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے امریکی بینکوں میں موجود افغانستان کے اثاثے منجمد کردیے ہیں۔ ملک کی عسکری قیادت نے اس عرصے میں جتنی ملاقاتیں بیرونی مہمانوں سے کی ہیں، اس میں انہوں نے افغانستان کے اقتصادی بحران خاص طور پر غذائی قلت سے خبردار کیا ہے۔ افغان وزیراعظم اور ان کی حکومت کی نظر میں افغانستان کا اقتصادی گھیرائو سب سے بڑا سبب ہے۔ امریکا افغانستان سے اپنی فوجیں تو نکال کر لے گیا ہے لیکن طالبان کی حکومت کو مذموم عزائم کے سبب تسلیم نہیں کررہا۔ امریکی پیروی میں دیگر علاقائی طاقتیں بھی خاموش ہیں۔ افغان وزیراعظم کا مسلم ممالک سے مطالبہ بروقت ہے کہ وہ سب سے پہلے افغانستان کی عبوری حکومت کو تسلیم کریں اور اس سلسلے میں پیش قدمی کریں۔ اس بارے میں سب سے زیادہ ذمے داری حکومت پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ وزیراعظم یہ تاثر دے رہے ہیں کہ انہوں نے امریکی ڈکٹیشن لینے سے انکار کردیا ہے اور برملا ’’نو مور‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت کو پاکستان کیوں تسلیم نہیں کررہا ہے۔ کیا پاکستان میں مقامی امریکی نمائندے اس فیصلے کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ کہیں نہ کہیں تو رکاوٹ ہے اس کو ختم کرنا ہوگا۔ پاکستانی عوام تو دل و جان سے افغان عوام کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن اس مرتبہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور ادارے ایک پیج پر نہیں ہیں۔