پیپلز پارٹی کے ہر دور اقتدار میں پولیس سیاسی دبائو کا شکار رہتی ہے

284

کراچی (رپورٹ: خالد مخدومی) قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں میں اعتماد اور اعتبار قائم نہ ہونے بھی جرائم کے سدباب میں رکاٹ ہے ،سزا و جزا میں دہرا معیار اپنایا جائے تو جرم کو پنپنے کا موقع مل جاتاہے،جرائم کے سدباب میں پولیس کی ناکامی کی بڑی وجہ ناقص اور بوسیدہ نظام ہے، پیپلز پارٹی کے ہر دور اقتدار میں پولیس سیاسی دبائو کا شکار رہتی ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تفتیش کے جدید ترین طریقوں سے ناآشنا ہیں، اہم مسئلہ حکومتی رٹ قائم نہ ہونا ہے۔ ان خیالات کااظہار سٹیزن پولیس لائزنگ کمیٹی کے سابق سربراہ شرف الدین میمن ، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ اور ممتاز تجزیہ نگار عمیر حبیب نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں دیاجس میں ان سے پوچھا گیاتھاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی میں جرائم کے سدباب میں کیوں ناکام ہیں۔ ممتاز تجزیہ نگار عمیر حبیب کے مطابق ہمارے ملک میں برطانوی دور قوانین اورسسٹم آج بھی چند تبدیلیوں کے ساتھ کام کررہا ہے جب کہ ضروری امر یہ ہے کہ صرف نئی اصلاحات متعارف نہ کرائی جائیں بلکہ پاکستانی معاشرے کی ٖضرورت کے مطابق ایک ٹھوس اور جامع پالیسی مرتب کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سیاست داںاور حکمراں اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے قانون سازی کریں اور سزا و جزا میں دہرا معیار اپنایا جائے، اختیارات کا ناجائز استعمال ہونے لگے تو جرم کو پنپنے کا موقع مل جاتاہے۔جدید دنیا اورتہذیب یافتہ معاشروںمیں ریاست کا تصور ایک ماںجیسا ہے، جو ہر دکھ، ہر مشکل اور ہر موقع پر عوام کا ساتھ دیتی ہے، ان کا خیال رکھتی اور ان کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ قانون کی بالادستی یقینی اور عدلیہ کی آزادی کااحترام کیا جاتا ہے،لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے ، سیاسی مفاد کی تکمیل اورمخصوص طبقے کوفائدہ دینے کے لیے قوانین کا نفاذجس کا بوجھ پولیس اور عدالتی نظام پر پڑتا ہے اور دونوں ہی اپنے اصل مقاصد سے کنارہ کشی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جرم 2 طرح کے ہیںایک معمولی نوعیت کا اوردوسری قسم کو غیرمعمولی یا بڑے جرائم کہہ سکتے ہیں۔ عدالتی کارروائیوں کے دوران یا بعد میں ملزم یا مجرم کو جیل بھیج دیا جاتا ہے جہاں ان کی اصلاح کرنے اور جرم سے نفرت دلانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ جیل کا ماحول اور ہمارا سسٹم اسے مزید بگاڑ کرکچھ عرصے یا چند سال بعد دوبارہ اسی معاشرے میں دھکیل دیتا ہے۔ عمیر حبیب کے مطابق پولیس سیاسی دبائو کے علاوہ وسائل اورتفتیش کے جدید ترین طریقوں سے ناآشنا ہیں،یہاں دراصل جرم اور مجرم کے تعاقب کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی،کوئی ایسا ادارہ موجود ہی نہیں جو اس مختلف قسم کے جرائم کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیق کرے۔ عمیر حبیب نے زینب مڈر قتل کیس کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ اور دیگر معصوم زندگیاں بھی اسی نوعیت کے جرائم کی لپیٹ میں آئیں، مگر تحقیقات روایتی طریقے سے آگے بڑھاتے ہوئے صرف جرم اور اس کا ارتکاب ثابت کیا گیا، اس کے محرکات،اسباب جاننے کے لیے سائنسی طریقے اپنانے اور کسی ماہر نفسیات سے مدد لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔ عمیر حبیب کا کہنا تھاکہ شہر میں جرائم اہم مسئلہ حکومتی رٹ قائم نہ ہونا ہے جس کی بنیادی وجہ اختیارات پر مرکزی کنٹرول برقرار رکھنا ہے جب کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی نہ ہونے سے حکومت کی رٹ قائم ہونے بھی نا ممکن ہوتاہے۔ لندن کی مثال لے لیجیے ، وہاں پولیس کمشنر تک میئر کے کنٹرول میں رہتا ہے، جرائم یا عوامی مسائل کو قانون ساز اداروں تک جانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔اس کی ایک مثال ہم مشرف دورسے دے سکتے ہیں جس میں میئر کراچی کے اختیارات اور اقدامات سے کون واقف نہیں۔ شہری مسائل کو اس دور میں مقامی سطح پر حل کیا جاتا رہا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مغربی ممالک میں موجود نظام اور پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ملکی سطح پرپولیس اور عدالتی نظام کو بہتر بنایا جائے اور اصلاحات کی جائیں۔ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے جسارت کے سوال پر شہری کے قتل میں ملوث پولیس اہلکار فرزند علی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی پولیس کا اہلکار جو پندرہ بیس برس سے مختلف جرائم میں ملوث تھا ، جیل بھی گیا معطل بھی رہا ہے اس کے باوجود ا س کی نوکری برقرار رہی جو پولیس کے نظام کی خرا بی کی نشاندہی کررہاہے اور یہی جرائم کے سدباب میں پولیس کی ناکامی کی بڑی وجہ ہے ۔ان کاکہناتھاکہ سفارش پر لوگ بھرتی ہیں، اْن میں جرائم پرقابو پانے کا جذبہ نہیں ہے اور نہ اتنی صلاحیت ہے کہ وہ کسی جرم کی صحیح تفتیش کرسکیں،حلیم عادل شیخ کا مزیدکہناتھاکہ پیپلز پارٹی کے ہر دور اقتدار میں پولیس سیاسی دبائو کا شکار ہوتی ہے اور وہ اپنا کام قانون کے مطابق کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے دبائو میں آکر کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس کے دو حاضر ڈیوٹی آئی جیز کو اپنے حکم کے مطابق چلانے کی کوشش کی جس کو میڈیا سامنے لا چکا ہے۔ سی پی ایل سی کے سابق سربراہ شرف الدین کے مطابق جرائم میں اضافے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پولیس کو سائنسی بنیاد پر کھڑا نہیں کیا جارہا۔ سیاسی لوگ سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے پولیس پر دبائو ڈال کر اسے غیر قانونی اقدامات پر مجبور کرتے ہیں۔ اس سے پولیس بھی کرپٹ ہوتی ہے۔ پولیس کو جب رشوت، سفارش، سیاسی اور گروہی مقاصد کے لیے بھرتی کیا جائے گا تو پولیسں کی توجہ عوام کی حفاظت کے بجائے نوکری دلانے والوں کے مفادات کو پورا کرنے پر لگی ہوگی۔ یہی عناصر کرپٹ پولیس افسروں اور اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس کلچر کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، تبھی پولیس کرپشن سے بہت حد تک پاک اور عوام کی خادم ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے امن وامان کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ اسٹریٹ کرائم کا ہے۔ یہ ڈھائی تین کروڑ آبادی کا شہر ہے جس میں صرف 35 ہزار پولیس والے کام کررہے ہیں۔ 7 ہزار پولیس والے انتہائی اہم شخصیات کی حفاظت اور خدمت پر لگا دیے جاتے ہیں۔ باقی 28 ہزار نفری میں سے8 ہزار تو حساس عمارتوں کی نگرانی پر بھی مامور ہوںگے۔ باقی 20 ہزار کی نفری جس کے پاس بہتر ہتھیار ہیں نہ مناسب تعلیم و تربیت، ان کے حالاتِ کار بھی اچھے نہیں ہیں۔ ایسی پولیس کیسے بہترین کارکردگی دکھا سکتی ہے ان کا کہناتھاکہ پولیس کی جانب سے فنڈز کا بہت زیادہ تذکرہ کیا جاتاہے ، لیکن پولیس کے لیے اربوں کھربوں کے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں جتنے فنڈز پولیس کو ملتے ہیں اْن سے پولیس کی صلاحیت، اہلیت اور کارکردگی میں بہت اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہناتھاکہ ماضی دہشت گردی کے پْرتشدد واقعات کی طویل لہر نے کراچی کی معاشی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا تھا جس سے روزگار کے مواقع نہایت کم ہوگئے ہیں نتیجتاً نوجوان اور پڑھا لکھا طبقہ بھی اسٹریٹ کرائم اور چوری ڈکیتی میں ملوث ہوگیا، کراچی کو جرائم کی دلدل سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ شہر کی معاشی ترقی کے لیے کام کیا جائے۔ شرف الدین میمن کا مزید کہناتھاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں میں اعتماد اور اعتبار نہ ہونا بھی جرائم کے سدباب میں رکاٹ ہے، پولیس شہریوں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ آج بھی شہری شکایت لے کر تھانے جانے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ ایک اور پریشان کن صورتِ حال کا کراچی والوں کو سامنا ہے، وہ یہ کہ جس شہر میں مجرمانہ سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک لاکھ بارہ میگا پکسل کے اسٹریٹ کیمروں کی اشد ضرورت تھی وہاں ہماری حکومت نے دو یا تین میگا پکسل کے پانچ ہزار کی تعداد میں نہایت معمولی کیمرے لگائے، جن میں سے اکثر خراب رہتے ہیں۔ اس انداز سے شہر میں کس طرح مجرموں کو قابو کیا جاسکتا ہے۔