آمریت کو ہمیشہ پارلیمانی لبادے میں چھپانے کی کوشش کی گئی، حافظ حسین احمد

235

لاہور: جمعیت علماء  اسلام پاکستان کے سینئر رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ماضی کے 74 سالوں میں پاکستان میں’’آدھا  تیتر اور  آدھا  بٹیر‘‘کی طرز پر  نہ تو خالص صدارتی طرز  حکومت  اور نہ مکمل پارلیمانی نظام آسکا- بلکہ اسلام اور سوشلزم میں بھی بھرپور  ملاوٹ کی گئی حافظ حسین احمد نے کہا سکندر  مرزا،سے لیکر  جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء  الحق اور جنرل پرویز مشرف تک نے اپنے غیر آئینی اقدام مارشل لاء￿  اور آمریت کو صدارتی اور  پارلیمانی  لبادے میں چھپانے کی کوشش کی جبکہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد بظاہر آئینی طور پر یہاں پارلیمانی نظام کا فیصلہ کیا گیا مگر عملی طور پربرسراقتدار طبقہ نے نہ صرف پارلیمانی طریقہ کار  بلکہ پارلیمنٹ کے وجود تک کو ہی یکسر نظر انداز کیا جس سے وفاق کی اکائیاں مزید غیر مطمئن رہنے لگیں – حافظ حسین احمد نے کہا کہ 74 سال گزرنے اور وطن عزیز کی اکثریت کی اقلیت  سے علیحدگی کی کاری زخم کھانے کے بعد بھی ہم کسی ایک حتمی نظام پر مکمل عملدرآمد نہ کرسکے بلکہ اب بھی اس حوالے سے نت نئے تجربات کا سلسلہ جاری رکھا گیا ھے۔ انہوں نے کہا کہ ہر آنے والے حکمران طبقہ اور پارٹی کو اپنے غیر آئینی اقتدار کی توسیع اور مضبوطی کے لیے بظاہر کوئی نہ کوئی آئینی پشتی بان کی ضرورت رھی ھے- اس کے لیے پارلیمنٹ سے ایل ایف او کی منظوری اور عدالت عظمیٰ(سپریم کورٹ) سے” نظریہ ضرورت” کا انوکھا اور اچھوتا فیصلہ کروا کر عالمی سطح پر پاکستان کے نظام انصاف کا ایسا ریکارڈ قائم کیا گیا جسے اور کوئی توڑ ہی نہیں سکتا