“کالے بلدیاتی قانون کے خلاف کل حسن اسکوائر پر دھرنا دیا جائے گا”

359

کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے جنرل سیکریٹری منعم ظفر کا کہنا ہے کہ کالا بلدیاتی بل کی منظوری کے بعد سندھ حکومت نے 900 سے زائد اسکولز پر قبضہ کرلیا ہے، پہلے سے جو اسکولز سندھ حکومت کے حوالے ہیں ان میں زیادہ تر گھوسٹ اسکولز ہے، کراچی کے سرکاری اسپتالوں کا حال انتہائی خراب ہے، ان اسپتالوں کے انتظامی معاملات صحیح کرنے کے بجائے ان پر قبضہ کیا جارہا ہے۔

رہنما جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ دھرنے کے بیسویں روز جماعت اسلامی کراچی کے جنرل سیکریٹری نے  شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج جماعت اسلامی کے دھرنے کا بیسواں دن ہے، پورے سندھ میں عوام بنیادی ضروریات سے محروم ہے، شہر کراچی کا شمار میگا سٹی میں ہوتا ہے، دنیا بھر کے  بڑے بڑے شہروں کے انتظامی اختیارات شہری حکومت کے پاس ہوتے ہے۔

منعم ظفر نے کہاکہ لیکن یہاں الٹا نظام ہے، ڈاکٹروں و پیرامیڈیکل اسٹاف کی تنخواہوں کو روکا جارہا ہے، انڈسٹریل ایریا کا انفراسٹرکچر تباہ حال ہے، شہر کراچی کے سارے اختیارات پر قبضہ کیا جارہا ہے، جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام کی بات کی،کے الیکٹرک ہو یا نادرا کا معاملہ ہو، پانی کا مسئلہ ہو یا گیس کا جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام کی ترجمانی کی، جماعت اسلامی کے ذریعے عوامی مسائل حل ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ کراچی میں سندھی،بلوچ،سرائیکی، پختون اور تمام زبان بولنے والے افراد رہتے ہیں، ہم تمام کراچی میں رہنے والوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، کراچی دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے، ملک بھر کا 42 فیصد انکم ٹیکس تو کراچی کے لوگ دیتے ہیں، آج پورا پاکستان جماعت اسلامی کے دھرنے کی پشت پر موجود ہے۔

منعم ظفر کا کہنا تھا کہ یہ دھرنا صرف جماعت اسلامی کا نہیں پوری سندھ کی عوام کا ہے،  کل حسن اسکوائر گلشن اقبال پر خواتین کا بڑا دھرنا ہوگا، جس میں ہر طبقہ فکر کی خواتین شرکت کریں گی۔