اسٹیٹ بینک کی بے پناہ خودمختاری ملکی سالمیت کے لیے خطرناک ہے

359

کراچی (رپورٹ :قاضی جاوید) اسٹیٹ بینک کی بے پناہ خودمختاری ملکی سالمیت کے لیے خطرناک ہے‘ ریاست مفلوج ہونے کا عمل شروع ہوچکا‘اسٹیٹ بینک نے او آئی سی کااعلان کردہ افغان امداد اکاؤنٹ کھولنے سے انکارکر دیا ‘ آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک پر قابض ہو گیا جوقرضہ دے گاوہ یہ بھی معلوم کرے گاکہ آپ اس کو ادا کیسے کریں گے۔ان خیالات کا اظہار ماہر معیشت قیصر بنگالی،حکومت پنجاب کے منصوبہ بندی، ترقی اور اقتصادی امور کے مشیر ڈاکٹر سلمان شاہ ،بینکر منیر کمال، ڈاکٹر حفیظ پاشا،سابق وزیرِ خزانہ اور ریونیو عبدالحفیظ شیخ، میاں زاہد حسین اورسابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ اسٹری شارق ووہرا نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے قانون سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں؟‘‘ قیصر بنگالی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک سے متعلق ترامیم منفی انداز سے بنائی گئی ہیں‘ اس کی خود مختاری کے نام پر ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے جس سے ملک کو خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا اقرار خود وزیراعظم نے بھی کیا ہے‘ اسٹیٹ بینک آرڈیننس منظور ہوا تو خدانخواستہ ملک ٹوٹ سکتا ہے اور ریاست مفلوج ہو سکتی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا مگر اب اس کی شروعات ہو چکی ہے‘ او آئی سی نے افغانستان کی جس امداد کا اعلان کیا ہے اس کے لیے اسٹیٹ بینک نے اکاؤنٹ کھولنے سے منع کر دیا ہے‘ ریاست کے پاس پولیس اور فوج کی تنخواہ دینے کو بھی پیسے نہیں ہوں گے‘اسٹیٹ بینک اس کے لیے رقم نہیں دے گا‘ سلطنت عثمانیہ بھی ایسی شرط لگا کرہی توڑی گئی تھی ‘اسٹیٹ بینک کی بے پناہ خودمختاری ملکی سالمیت کے لیے خطرناک ہے ” آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک پر قابض ہو گیا ہے ” اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری کا مطلب یہ ہے اب یہ ہماری حکومت کا اسٹیٹ بینک نہیں ہے وہ مکمل طور پر خود مختار ہے اور آئی ایم ایف کا ہے‘ اس کی وجہ سے شرحِ سود کے بڑھنے کا امکان واضح ہے اس سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک یہ کام کرے گا‘ شرح سود بڑھنے سے بینکوں کی جانب سے دیا جانے والا قرضہ مزید مہنگے نرخوں پر حاصل ہو گا جو کاروباری شعبوں کی لاگت کو بڑھا کر ان کی تیار کردہ مصنوعات کو مہنگا کر دے گا‘ اسی طرح آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بجلی کے نرخ میں اضافہ اگلے 3 برس تک ہوتا رہے گا جو ایک عام آدمی کو شدید متاثر کرے گا‘حکومت 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو ہمیشہ سبسڈی دے کر اضافے کے مہنگائی کے اثر کو زائل کرتی رہی ہے تاہم آئی ایم ایف مختلف شعبوں میں دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ چاہتا ہے ‘ اسٹیٹ بینک سے متعلق ترامیم کے بعد حکومت کا کردار ختم ہو جائے گا اور اسٹیٹ بینک بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو قرض ادا کرے گا۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ ان ترامیم کے تحت اسٹیٹ بینک اور اس میں کام کرنے والے ہر قسم کی جوابدہی سے بالاتر ہو جائیں گے اور ان کے اقدامات کو قانون کے شکنجے میں نہیں لایا جا سکتا۔ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے قانون میں ترامیم کر کے اسے خود مختار بنایا گیا ہے اور آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے یہ ترامیم متنازع بنائی جا رہی ہیں ورنہ ان ترامیم میں ایسی کوئی قباحت نہیں جس پر شور مچایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا کردار مالیاتی نظام میں استحکام لانا اور مہنگائی اور ایکسچینج ریٹ کی نگرانی کرنا ہوتا ہے اور یہ ترامیم ان کے اس کردار کو زیادہ مضبوط بنا رہی ہیں۔ انہوں نے ترامیم کے تحت کسی حکومتی ادارے کو اسٹیٹ بینک کے کام پر ایکشن نہ لینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا یہ مقصد نہیں کہ احتساب نہیں ہو گا‘ بینک کا داخلی طور پر احتساب کا نظام ہو گا تاہم یہ نہیں ہو سکتا کہ ا سٹیٹ بینک کا کوئی بندہ مانیٹری پالیسی اور ایکسچینج ریٹ پر فیصلہ لینے سے اس لیے کترائے کہ اسے نیب کا خوف ہو۔ منیر کمال نے کہا کہ معقول حد تک اسٹیٹ بینک کی خود مختاری ہونی چاہیے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں تاہم ترامیم پر پارلیمان میں مزید بحث کرانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے خود مختاری کو متنازع بنایا جا رہا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ جیسے اسٹیٹ بینک اگلے100 سال کے لیے آئی ایم ایف کے حوالے کیا جا رہا ہے۔’آئی ایم ایف پروگرام تو 2، 3 سال میں ختم ہو جائے گا تو پھر خود مختاری ان کے فائدے میں کس طرح جائے گی۔‘ انتہائی حیران کن ہے کہ اب لوگ اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں کہ نیب اور دوسرے ادارے اسٹیٹ بینک کے اقدامات کے خلاف کارروائی کے مجاز نہ ہوں گے۔ ’اپوزیشن والے خود کہتے ہیں کہ نیب کارروائیاں نہ کرے‘ اب اس کا کردار ختم کیا گیا ہے تو انہیں پھر اعتراض ہے۔ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی بے پناہ خودمختاری کامطلب یہ ہے اسٹیٹ بینک ملکی معیشت کو مکمل کنٹرول کر سکے گا اس سے سلامتی کو خطرہ اسی صورت میں ہو گا جب ہم قرض میں بے تحاشا اضافہ کرلیں‘ حکومت نے اس سال افراط زر کا ٹارگٹ7 سے9 فیصد کے درمیان رکھا تھا تاہم اب تک اوسطاً افراط زر کی شرح 8 سے9 فیصد کے درمیان چل رہی ہے اور آنے والے دنوں میں یہ10 فیصد کی شرح پر پہنچ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے کلیدی شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری رکھا ہے جن میں اسٹیٹ بینک کی خود مختاری، پاور سیکٹر میں اصلاحات، کارپوریٹ ٹیکس وغیرہ شامل ہیں۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی بے پناہ خود مختاری ملک کی اقتصادی بقا اور سلامتی کے لیے ضروری ہے اور اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ اس سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے‘جو قرض دے گا اس کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ آپ سے یہ بھی معلوم کر ے کہ آپ اس کو ادا کیسے کریں گے اور یہ سب کچھ حکومتِ پاکستان کی اجازت اور قانونی پیچیدگیوں کو ختم کر کے کیا گیا ہے ان ترامیم سے اسٹیٹ بینک آزادانہ ماحول میں شرح سود کا تعین کرسکے گا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ آئی ایم ایف کی حکومت میں خطرہ تو ہونا ہی ہے اسٹیٹ بینک کے لیے اگر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے گورنر اسٹیٹ بینک کا انتخاب کیا جاتا ہے تو اس صورت میں اسٹیٹ بینک کی خودمختاری میں کوئی برائی نہیں ہے۔شارق ووہرا نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو خودمختار بے لگام بنایا گیا ہے‘ اس سے ملکی معیشت اور قومی سلامتی دونوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے‘ آئی ایم ایف یہ چاہتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک مرکزی بینک کے بورڈ میں ارکان کو آئی ایم ایف کی مرضی سے رکھنا درست نہیں ہے‘ اس سے اسٹیٹ بینک خودمختار نہیں بے لگام ہو جائے گا اور ملک کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔