بیلاروس کی سرحدوں سےتقریبا 4000 عراقیوں کی وطن واپسی

177

بغداد:عراق نے حالیہ ہفتوں میں یورپی یونین کے رکن ممالک پولینڈ، لِتھوینیا اور لٹویا کے ساتھ واقع بیلاروس کی سرحدوں پر پھنسے ہوئے اپنے قریبا 4000 شہریوں کووطن واپس منتقل کیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق عراقی وزیرخارجہ فوادحسین نے لِتھووینیا کے ہم منصب کے ساتھ بغداد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 18 نومبر سے عراقی حکومت نے اپنے شہریوں کی وطن واپسی کے لیے بغداد اوربیلاروس کے درمیان 10 پروازوں کا اہتمام کیا۔

انھوں نے کہا کہ ہم پولینڈ، لتھوینیا اور لٹویا کے ساتھ واقع بیلاروس کی سرحدوں پر پھنسے ہوئے قریبا 4000 عراقیوں کو واپس لانے میں کامیاب ہوگئے ۔وزارت خارجہ کے ترجمان احمد الصحاف نے بعد میں بتایا کہ 3817 عراقی تارکینِ وطن کو بیلاروس سے اور 112 کو لتھووینیا سے واپس لایا گیا ہے۔انھیں پہلے پروازوں کے ذریعے عراق کے خود مختارعلاقے کردستان میں پہنچایا گیا ہے کیونکہ ان میں بیشتر کا تعلق کردستان ہی سے تھا۔ وہاں سے ملک کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والیعراقیوں کو بغداد منتقل کیا گیا ہے۔

احمد الصحاف نے بتایا کہ کچھ عراقی اب بھی بیلاروس میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن خراب موسم اور پیچیدہ صورت حال میں ان کی تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے۔لتھووینیا کے وزیرخارجہ گیبریلیئس لینڈزبرگس نے بغداد میں عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی سے بھی ملاقات کی ہے،انھوں نے کہا کہ وہ عراق کے ساتھ نئے خیالات پرمبنی تعاون چاہتے ہیں۔