اسریٰ یونیورسٹی اسپتال پر قبضے کی جنگ جاری،8 ملزمان زیر حراست

139

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) اسریٰ یونیورسٹی اسپتال پر قبضے کی جنگ جاری ۔دو روز قبل اسریٰ یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی کے حوالے سے موقف دیتے ہوئے یونیورسٹی چانسلر ڈاکٹر حمید اللہ قاضی نے کہا ہے کہ ادارے کو متنازع بناکر اسے تباہ کیا جارہا ہے، قابض گروپ کی ہٹ دھرمی کے باعث اس معیاری تعلیمی ادارے اور طبی سہولیات کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔حیدرآباد
میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حمید اللہ قاضی نے کہاکہ ڈاکٹر نذیر اشرف لغاری کا اسریٰ یونیورسٹی اور ہسپتال سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم نے انہیں بطور ملازم وائس چانسلر تعینات کیا تھا جنہوں نے اس ادارے کو تباہ کیا ہے، ادارے پر قبضہ کرلیا ہے، یہ ادارہ اسریٰ اسلامک فا¶نڈیشن کے ماتحت چلایا جاتا ہے جس پر بدنیتی کے ذریعے قبضہ کیا گیا ہے، انہوں نے کہاکہ عدالت میں بھی ہمارے حق میں فیصلہ آگیا ہے اس کے باوجود یونیورسٹی پر نذیر اشرف لغاری نے قبضہ کیا ہوا ہے اور ان کے مسلح افراد نے یونیورسٹی کے بنیادی اراکین کا داخلہ بند کردیا ہے، یہ غیر قانونی اجلاس کرکے اپنی من مانی کررہے ہیں ہم انہیں تسلیم نہیں کرتے۔علاوہ ازیںہٹری پولیس نے ہالاناکہ پر اسریٰ یونیورسٹی میں فائرنگ، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج کرکے 8 افراد کو حراست میں لے لیا۔ اب تک یونیورسٹی انتظامیہ نے کوئی مقدمہ درج نہیں کرایا۔ اسریٰ یونیورسٹی میں دو روز سے جاری ہنگامہ آرائی، توڑپھوڑ، فائرنگ کا مقدمہ انتظامیہ پر درج کرنے کے بجائے ہٹری پولیس نے اپنے طورپر درج کرلیا ہے جس میں ملزمان کو نامعلوم ظاہر کیا گیا ہے۔ پولیس نے 8 افراد کو حراست میں بھی لیا ہے جن کے بارے میں پولیس معلومات فراہم کرنے سے گریز کررہی ہے۔ ادھر یونیورسٹی میں کشیدگی کے بعد ایک ہفتے کےلیے یونیورسٹی کو بند کردیا گیا ہے اس کے باوجود وہاں صورتحال تاحال کشیدہ ہے۔ یونیورسٹی کی موجودہ اور سابقہ انتظامیہ دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔