سانحہ مری کی رپورٹ چھپانے کی کوشش

285

سانحہ مری کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ کے کچھ مندرجات کا انکشاف ہوگیا ہے اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورے سانحے کی ذمے دار حکومت ہے۔ برف ہٹانے والی گاڑیوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ 20 گاڑیاں ایک جگہ کھڑی تھیں، ان کا عملہ بھی غائب تھا، اگر تحقیقاتی کمیٹی اس کا انکشاف نہ بھی کرتی تو یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ کو نظرانداز کیا گیا۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ ان کے سروں میں اتنا دماغ بھی نہیں کہ وہ یہ سمجھ سکتے کہ پانچ چھ روز مسلسل شدید برفباری کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ مشین غائب ہونا ہی حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے۔ اگر وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کے پروٹوکول کی گاڑیوں میں سے کسی ایک کی لائٹ بھی خراب ہو تو پولیس یا سیکورٹی کے متعلقہ افسر کو لائن حاضر کردیا جاتا ہے جب کہ اس پروٹوکول میں درجنوں گاڑیاں اور بھی ہوتی ہیں۔ یہاں پورے مری کو بے یارومددگار چھوڑ کر حکمراں سوتے رہے۔ اب تجویز دی جارہی ہے کہ کار پارکنگ نہ رکھنے والے ہوٹلوں اور شاپنگ سینٹرز کو سیل کردیا جائے اور تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا جائے۔ اپنی تجویز پر عملدرآمد میں یہ شق بھی شامل کی جائے کہ کار پارکنگ کے بغیر ہوٹل اور شاپنگ سینٹر بننے کی اجازت دینے والے افسران کو بھی سخت سزا دی جائے۔ صرف ہوٹل یا شاپنگ سینٹر سیل کرنا کوئی سزا نہیں ہے۔ تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت کے اہلکار اپنی ہی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے گرینڈ آپریشن کریں گے، خوب توڑ پھوڑ ہوگی اور پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اب جتنی توڑ پھوڑ ہونی ہے حکومت میں اور اس کے افسران میں ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ہوٹلوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ اگرچہ کسی قسم کی رپورٹ کے بغیر ہی حکومت کو سزا کے طور پر برطرف کردیاجانا چاہیے تھا، لیکن اب یہ کھیل کھیلا جائے گا کہ حکومت پنجاب کے خلاف تحقیقات کی رپورٹ اس حکومت کے وزیراعلیٰ کو پیش کی جائے گی۔ پھر کیا انصاف ہوگا اور کیا مسئلہ حل ہوگا۔ یہ تحقیقات تو عدلیہ کے ذریعے ہونی چاہیے تھی۔ لیکن چوں کہ اوپر سے نیچے تک یہی نظام چل رہا ہے کہ ہر بااختیار ادارہ، حکمراں اور اعلیٰ افسر اپنے ہی خلاف تحقیقات کرتا ہے اپنے ہی حق میں فیصلہ کرتا ہے۔ سانحہ مری کے لیے کسی کمیٹی کی ضرورت نہیں اس پر حکومت پنجاب کو خود استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا ورنہ اسے نہیں تو وزیراعلیٰ پنجاب اس سے متعلق تمام وزرا کو تو فارغ کریں۔اب خبر آ گئی ہے کہ یہ رپورٹ فی الحال وزیر اعلیٰ کو نہیں دی گئی ۔گویا رپورٹ پر بھی مٹی پائو والا عمل شروع ہو گیا ہے ۔ اس سے تو لگتا ہے کہ رپورٹ میں بھی کچھ تو ضرور تھا ۔