ڈاکٹر عافیہ کا مسئلہ کس نے بگاڑا

370

پاکستانی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے کو مزید بگاڑنے کے لیے ٹیکساس میں ایک شخص نے یہودیوں کی عبادت گاہ میں گھس کر لوگوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ اس کا مطالبہ تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کیا جائے۔ امریکا سے پاکستان تک ردبہ عمل آنے والا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ملزم کو اسی وقت قتل کردیا گیا۔ امریکی میڈیا بھی کسی تصدیق کے بغیر ملزم کو ڈاکٹر عافیہ کا بھائی قرار دیتا رہا۔ یہاں امریکی میڈیا بھی غیر ذمے داری کی انتہا پر پہنچا ہوا تھا۔ کیوں کہ معاملہ مسلمان کا تھا۔ عافیہ صدیقی کا معاملہ کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے۔ اس کو امریکا کے حوالے کرنا غلط، اس کا مقدمہ غلط، اس کی سزا غلط، عدالت غلط، جج غلط، سب غلط تھا۔ اسے صرف ایک حکم کے ذریعے رہا کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ عافیہ کو یہاں تک پہنچانے والے پاکستانی حکمران، جرنیل، خفیہ ایجنسیاں، امریکی حکمران اور ایجنسیاں سب خود یرغمال ہیں۔ ان ذہنی یرغمال لوگوں کو صرف ایک نکتہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عافیہ کو گرفتار ہی غلط کیا گیا تھا۔ اس کا سارا کیس الٹ جائے گا۔ اب اتنا وقت گزر گیا ورنہ پاکستان میں سنجیدہ عدالتی نظام ہوتا تو جنرل پرویز، آئی جی سندھ پولیس، خفیہ اداروں سب کو الٹا لٹکایا جاچکا ہوتا۔ لیکن عدلیہ کا بس چلتا ہے تو قانون کی پابندی کرنے والے عوام پرجو سولہ اداروں کا این او سی دیکھ کر فلیٹ خریدتے ہیں اور جج بڑے مزے سے پوری عمارت گرادینے کا حکم دے ڈالتے ہیں۔ پاکستانی چیف جسٹس جاتے جاتے عافیہ صدیقی کے معاملے میں تو نوٹس لیں، طلبی، ثبوت، گواہ اور جرح کی ضرورت نہیں امریکی کینگرو کورٹ کا فیصلہ بھی عافیہ کی بے گناہی ثابت کرتا ہے۔ امریکیوں سے کسی قسم کے انصاف کی توقع تو نہیں ہے۔ ہمارے چیف صاحب اگر کچھ کرسکتے ہیں تو کر ڈالیں۔ انہیں یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ عافیہ کا کیس کس نے بگاڑا ہے، ہمارا مسئلہ تویہ ہے کہ عافیہ کے معاملے کو پاکستانی حکمرانوں نے بگاڑا ہے۔ اورقوم کو حقائق سے واقف نہیں ہونے دیا ،خود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 2009ء تک یہی نہیں جانتے تھے کہ عافیہ پاکستانی ہے یا امریکی شہری، وہ تو اسے امریکی شہری قرار دے کر اس پر احسانات کا ذکر کرتے رہے تھے۔