سعودی عرب اور ایران میں قربت

285

مشرق وسطیٰ کے دو اہم ممالک کے درمیان سرد جنگ یا کشیدہ تعلقات میں کچھ بہتری کی خبریں آئی ہیں ۔ پہلے تہران ٹائمز نے اطلاع دی تھی کہ دونوں ملک تعلقات بہتر بنانے پر تیار ہیں ۔ اب ایران نے سرکاری سطح پر تصدیق کر دی ہے کہ انہوں نے اپنا سفیر بھی ریاض بھیج دیا ہے یہ ایک بڑی پیش رفت ہے لیکن یہ بہت سادہ معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں کئی پیچیدگیاں ہیں ۔ کہیں یہ امریکی ہدایت پر بڑھنے والے تعلقات تو نہیں ہیں ۔ کیونکہ ایران میں امریکی مداخلت کے لیے سفارتی ذرائع آسانی سے استعمال ہو سکتے ہیں ۔مشرق وسطیٰ کے حالات اسرائیل کی بڑھتی ہوئی قبولیت ، عرب حکمرانوں کا تاش کے پتوں کی طرح ڈھیر ہو جانا ۔ یہ سب چیزیں تو کچھ اور بتا رہی ہیں ۔ کچھ عرصے قبل تک سعودی عرب مطالبہ کرتا آ رہا تھا کہ ایران کو خطے کے ممالک میں مداخلت ترک کرنا ہو گی ۔ تو کیا ایران اس پر تیار ہو گیا ہے ۔ سعودی عرب کو ایران سے تعلقات میں اب کیا فائدہ ہو گا ۔ ان تعلقات سے ایران ضرور فائدہ اٹھائے گا کیونکہ ایرانیوں کے پاس ہزارسال کی سیاست اور حکمرانی کا تجربہ ہے ۔ جبکہ سعودی عرب کی موجودہ خاندانی بادشاہت کو100 برس ہوئے ہیں اور اس کا نظام بھی اب ڈھیلا ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ دونوں ملکوں کے اچھے تعلقات امریکا کو پسند نہیں تھے ۔ اب سعودی عرب بھی برائے راست امریکی اثر میں ہے اور ایران بھی اس سے مکمل باہر نہیں دیکھنا یہی ہے کہ اس پیش رفت سے کیا برآمد ہوتا ہے ۔ اگر یہ دونوں ممالک کی خالص کوشش ہے تو امریکا اور اس کے اشارے پر چلنے والا کوئی بھی ملک یا تنظیم ان تعلقات کو پروان نہیں چڑھنے دے گی ۔ اور اگر امریکی اشارے پر ہیں تو اس کے نتائج اُمت مسلمہ کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔