!دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ

479

عدالت عظمیٰ کے عالی مرتبت جج صاحبان نے کراچی کی ایک مسجد کے کیس کے دوران مساجد اور دیندار طبقات کے بارے میں افسوس ناک اور نازیبا ریمارکس دیے، مثلاً: ’’یہ یوٹیلٹی بلز ادا نہیں کرتے، مکانات بنالیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ‘‘۔ آج کل معزز جج صاحبان شرعی حدود وقیود سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے اپنے فیصلوں میں شرعی فتوے بھی صادر فرماتے رہتے ہیں، حالانکہ یہ اُن کا شعبہ نہیں ہے۔ الحمد للہ علیٰ احسانہٖ! ہم اہل ِ مدارس ومساجد باقاعدگی سے یوٹیلٹی بلز ادا کرتے ہیں، مقررہ تاریخ سے پہلے ادا کرتے ہیں، حتیٰ کہ ٹی وی فیس بھی مسجد کے بل میں شامل ہوتی ہے، عدالت چاہے تو کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس سے ریکارڈ طلب کرسکتی ہے، اِکّا دُکّا نادہندگی یا تاخیر سے ادائیگی کے چند واقعات ہوسکتے ہیں۔ ہمارا فتویٰ ’’تفہیم المسائل‘‘ اور اخبار میں طبع شدہ موجود ہے کہ دینی پروگراموں کے لیے واجبات ادا کیے بغیر یا متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر کنڈا لگاکر بجلی لینا ناجائز ہے۔
لیکن عدالت نے عُمومیّت یعنی Generality کے ساتھ ریمارکس دیے ہیں، کیا کسی تحقیق وتفتیش اور ثبوت وشواہد کے بغیر کسی شعبۂ حیات یا طبقۂ زندگی کو عمومیت کے ساتھ ہدفِ طعن بنانا شریعت، آئین، قانون اور اخلاق کی رو سے جائز ہے۔ مساجد کے ساتھ امام وخطیب اور مؤذن و خادم کے لیے رہائش ضروری ہے، کیونکہ یہ اقامتی منصب ہے، کسی بھی وقت ان کی خدمات کی ضرورت پڑ سکتی ہے، یہ مکانات شخصی نہیں ہوتے، منصب پر فائز شخص کے استعمال کے لیے ہوتے ہیں۔ کیا معزز جج صاحبان کے لیے رہائشی کالونیاں اور لاجز نہیں ہوتے، انہیں تو بعض اوقات ایک سے زائد من پسند پرائم لوکیشن پر قیمتی پلاٹ بھی الاٹ کیے جاتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس حوالے سے ایک کیس زیرِ سماعت ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ انہیں یہ سہولتیں عوام کے ٹیکسوں سے فراہم کی جاتی ہیں جو حکومت جبراً وصول کرتی ہے، جبکہ دینی کاموں کے لیے مسلمان رضاکارانہ طور پر اللہ کی رضا کے لیے عطیات دیتے ہیں، اس میں کسی جبر کا عنصر نہیں ہوتا، اس لیے بصد ادب عرض ہے:
اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ
جسٹس (ر) ثاقب نثار سرکاری کارپوریشنوں کے چیف ایگزیکٹیوز کے بڑے مشاہروں پر اہانت آمیز ریمارکس دیتے رہے، تبصرے کرتے رہے، کھڑے کھڑے انہیں معزول کرتے رہے، مگر جاتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے عالی مرتبت جج صاحبان پر مشتمل انتظامی اجلاس بلاکر اپنی پنشن ڈبل کردی، وہ ناجائز تھا اور یہ جائز قرار پایا، صدیق ضیاء نے کہا ہے:
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں تھی
کیا عدالت نے کوئی ایسا ضابطہ مقرر کر رکھا ہے کہ مسجد کتنے فاصلے پر ہونی چاہیے، پانچوں اوقات میں معمر لوگ کتنے دور تک پیدل جاکر مسجد میں نماز باجماعت پڑھ سکتے ہیں، کیا پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیوں اور سرکاری ہائوسنگ اسکیموں کے لیے کوئی ضابطہ موجود ہے کہ کتنے نفوس پر مشتمل کسی ہائوسنگ اسکیم کے لیے مسجد، پارک، اسپتال، قبرستان، اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے لیے قطعہ ارضی مختص ہونا چاہیے۔ ایسے رہائشی یا رفاہی پلاٹ جو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہورہے ہیں یا ہوتے رہے ہیں، ان کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے، نیز ایسی بھی مثالیں مل جائیں گی کہ رہائشی پلاٹوں کو ضروری واجبات وصول کرنے کے بعد تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی رہی ہے،صبا لکھنوی نے کہا ہے:
آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
کئی عدالتی فیصلے ایسے ہیں کہ اُن کے سبب ریاست وحکومت پرعالمی ثالثی عدالتوں نے ناقابلِ تصور جرمانے عائد کیے ہیں، آسٹریلیا کی ٹیتھیان کمپنی کے ساتھ رکوڈک معاہدے کی یک طرفہ منسوخی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ چھے ارب ڈالر (تقریباً پونے گیارہ کھرب روپے) جرمانہ عائد کیا گیا ہے، کیا اس پر کسی سے مواخذہ ہوا، اسی طرح ’’کارکے‘‘ رینٹل پاور کمپنی کے معاہدے کی یک طرفہ منسوخی پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاچکا ہے، کیا اس طرح کے فیصلے صادرکرنے سے پہلے ہماری عدالت عظمیٰ کے عالی مرتبت جج صاحبان نے عالمی قوانین اور ان کے نتیجے میں مرتّب ہونے والے اثرات کا مطالعہ کیا تھا۔ ایک راوی کے مطابق پاکستان اسٹیل کراچی کی پرائیویٹائزیشن کے معاہدے کی منسوخی پر اب تک حکومت پاکستان عوام کے ٹیکسوں سے تقریباً اسّی ارب روپے کی ادائیگی کرچکی ہے، کیا اس پر کسی سے کوئی مواخذہ ہوا۔ جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں ججوں کی ہائی کورٹ سے عدالت عظمیٰ ترقی کے لیے سینیارٹی کا اصول وضع کیا گیا تھا اور اس وقت کی بے نظیر حکومت کا ناطقہ بند کردیا گیا تھا، اب اُسی اصول کو خود سپریم جوڈیشل کونسل پامال کر رہی ہے، یہ کس اصول کے تحت ہے یا اس کے لیے کون سا نیا اصول وضع کیا گیا ہے، تو پھر کیا ذاتی پسند وناپسند معیار بن جائے گا۔
خود اعلیٰ عدالتیں بارہا کہہ چکی ہیں کہ عدلیہ کی توہین تونہیں کی جاسکتی، لیکن عدالتی فیصلوں، پالیسیوں اور اقدامات پر مثبت یا منفی تبصرہ کیا جاسکتا ہے، ہم نے عدالت کے عطا کردہ اسی اصول کے تحت یہ گزارشات پیش کی ہیں۔
’’دی ورلڈ جسٹس پروجیکٹس رول آف لا انڈیکس 2021‘‘ کے سروے کے مطابق دنیا کے 139ممالک میں پاکستان کے عدالتی معیار کو آخر سے 130نمبر دیا گیا ہے، الغرض دنیا بھر میں عدالتی معیار کے زوال کے اعتبار سے ہمارا نمبر دسواں ہے، یعنی پاکستان کا اسکور 0.39 ہے، انصار عباسی کی یہ رپورٹ 19اکتوبر 2021 کو ’’دی نیوز‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔
سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار سیٹھ مرحوم نے بی آرٹی پشاور میں کرپشن کی انکوائری کی بابت تفصیلی فیصلہ دیا تھا اور اس کے لیے ایف آئی اے کو باقاعدہ ٹی او آر کے ساتھ انکوائری کے احکامات جاری کیے تھے، اس پر عدالت عظمیٰ نے ایک سے زائد مرتبہ اسٹے آرڈر دیا اور آج تک انکوائری نہ ہوسکی۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جناب قاسم سوری کو الیکشن ٹرائبیونل نے نا اہل قرار دیا، اس پر عدالت عظمیٰ نے ستمبر 2019 میں اسٹے آرڈر دیا اور آج تک وہ اسی اسٹے آرڈر پر اپنے منصب پر برقرار ہیں، مقدمے کی کارروائی شروع ہی نہیں ہوئی اور اب اُن کی رکنیت کے پانچ سالہ دورانیے کی تکمیل میں کم وبیش ڈیڑھ سال کا عرصہ باقی ہے۔
اسلام میں قضا کا منصب نہایت مقدس ومحترم ہے، لوگوں کے حقوق کا مدار عدل وانصاف پر ہے، اسی لیے خلفائے راشدین نے بھی اپنے آپ کو عدالت کے سامنے جواب دہ ٹھیرایا۔ امیر المؤمنین سیدنا علیؓ جب ایک مقدمے میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور قاضی نے آپ کو آپ کی کنیت ’’ابوالحسن‘‘ سے اور آپ کے فریقِ مخالف کو اُس کے نام سے پکارا، تو آپ نے فرمایا: ’’یہ آپ نے امتیاز برتا‘‘، کیونکہ اہل عرب میں کنیت سے پکارنا اکرام کی علامت تھی،
اسی طرح قاضی نے آپ کو اپنے برابر بٹھانا چاہا، تو آپ نے اُسے بھی ردّ فرمایا اور نا انصافی سے تعبیر فرمایا۔
امیر المؤمنین سیدنا علیؓ ایک نصرانی کے مقابل اپنی زِرہ کے مقدمے میں قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوئے۔ قاضی شُریح کو آفتاب نصف النہار کی طرح یقین تھا کہ زِرہ سیدنا علی کی ہے اور وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں، لیکن اسلامی قانونِ عدل کے مطابق ان کے پاس گواہ نہیں تھے، کیونکہ آپ نے اپنے بیٹے حسن اور غلام قنبر کو بطور گواہ پیش کیا، قاضی نے کہا: بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں اور غلام کی گواہی آقا کے حق میں معتبر نہیں ہے، اس لیے اُن کے خلاف فیصلہ دیا۔ یہ منظر دیکھ کر نصرانی حیران ہوگیا کہ مسلمانوں کا خلیفہ ایک غیر مسلم کے مقابل مساوی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوا، قاضی نے اُس کے خلاف فیصلہ صادر کیا اور انہوں نے اس فیصلے کو خوشدلی سے قبول کیا۔ اس پر نصرانی نے اعترافِ جرم کیا کہ آپ نے یہ زِرہ لشکر کے کسی آدمی سے خریدی تھی اور پھر آپ کے خاکستری اونٹ سے یہ گر گئی اور میں نے اِسے اٹھالیا۔ مثالی عدل کا یہ منظر دیکھ کر نصرانی ایمان لے آیا، کلمہ ٔ شہادت پڑھا، سیدنا علی نے وہ زِرہ اُسے ہبہ کردی اور اس کا دو ہزار درہم وظیفہ مقرر کیا۔ پھر وہ سیدنا علیؓ کے ساتھ رہا یہاں تک کہ جنگِ صفین میں جامِ شہادت نوش کیا، (اَلسُّنَنُ الْکُبْریٰ لِلْبَیْہَقِی)‘‘۔ نوٹ: یہاں مشابہت صرف خلیفہ کے عدالت میں پیش ہونے کے اعتبار سے ہے، ورنہ آج کے حکمرانوں کو سیدنا عمر اور سیدنا علیؓ سے وہ نسبت بھی نہیں جو ذرّے کو آفتاب اور قطرے کو سمندر سے ہے۔ یہ خلفائے کرام خود عدالت میں پیش ہوئے تاکہ ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ قانون کی نظر میں حاکم اور رعایا برابر ہیں۔
حدیثِ پاک میں ہے: ’’عبدالرحمن بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے سجستان کے قاضی عبیداللہ بن ابی بکرہ کو یہ ہدایت نامہ لکھوایا: ’’غصے کی حالت میں (کبھی بھی) دو اشخاص کے درمیان فیصلہ نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہؐ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’تم میں سے کوئی بھی شخص غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے، (مسلم)‘‘۔
منصبِ عدالت وراثتِ نبوت ہے، آپؐ نے اسے بہت تکریم عطا کی ہے، فرمایا: عادل حاکم کا (انصاف کرنے میں گزرا ہوا) ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ایک حد، جو حق پر قائم کی جائے، زمین کو اتنا پاک کرتی ہے جو چالیس سال کی بارش بھی نہ کرسکے، (المعجم الکبیر للطبرانی)‘‘۔ یہ اس لیے کہ ساٹھ سال عبادت کرنے والا اپنی فلاح کی فکر میں سرگرداں رہتا ہے اور لوگوں کے حقوق کی حفاظت اور مظلوموں کی داد رسی کرنے والاعادل حاکم دوسرے انسانوں کے لیے بارانِ رحمت کی مانند فیض رساں ہوتا ہے اور مظلوموں کی دعائیں لیتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ’’جب حاکم اپنی پوری علمی و فکری صلاحیت کو کام میں لاکر فیصلہ کرے اور اس سے (خدانخواستہ) خطا بھی ہوجائے، تب بھی اسے ایک اجر ملے گا، (بخاری)‘‘۔ یعنی یہ وہ شعبہ ہے جس میں غیر ارادی خطا پر بھی اجر ہے۔