صحت عامہ کی اسلامی بنیادیں

315

سرمایہ دارانہ نظام میں زندگی کی ہر ضرورت کی فراہمی اور خدمت حتی کہ علاج معالجہ، اسپتال اور ادویات سب منافع بخش کاروبار اور دولت آفرینی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ اس نظام میں سود ایک بہت بڑا قومی قرض پیدا کردیتا ہے جو ہمیشہ بڑھتا ہی رہتا ہے اور ریاست کی آمدنی کا بڑا حصہ کھا جاتا ہے۔ اس معاشی آڈر میں توانائی اور معدنیات جیسے خزانے سرمایہ داروںکے سپرد کردیے جاتے ہیں۔ ریاست کی آمدنی سمٹ کر رہ جاتی ہے جس کے بعد وہ قرضوں کے شیطانی چکر اور سود کی ادائیگی میں پھنس کررہ جاتی ہے۔ یوں حکومت کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں رہتے کہ وہ عوام کو براہ راست مفت علاج مہیا کرسکے۔ صحت کا بیش تر بجٹ نجی اسپتالوں اور انشورنس کمپنیوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ اسلامی نظام معیشت میں کمرتوڑ مہنگائی ہوتی ہے اور نہ ٹیکسوں کا بوجھ۔ اسلام اشیا کی قیمت کے اندر بالواسطہ ٹیکس نہیں لگاتا جس کی وجہ سے جی ایس ٹی، کسٹم، ایکسائز، سرچارج وغیرہ قیمت کا حصہ نہیں ہوتے۔ عام کا روبار میں بھی سودی قرضے نہیں ہوتے جس کے باعث سود کا خرچہ لاگت میں شامل نہیں ہوتا اور کم لاگت کے باعث اشیاء سستی رہتی ہیں۔ یوں عوام کی اکثریت اس قابل ہوتی ہے کہ اپنا علاج خود کراسکے دوسرے اسلام ر یاست کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ عوام کو مفت طبی سہولتیں فراہم کرسکے۔ سید المرسلین محمدؐ کا فرمان ہے کہ ’’امام نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ (بخاری)‘‘
رسالت مآبؐ کو ایک ڈاکٹر تحفہ دیا گیا تو آپؐ نے اسے صرف اپنے لیے مخصوص نہیں کیا بلکہ تمام مسلمانوں کو مہیا کردیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی ریاست میں حکمران صحت کی سہولت کو ہر شہری کے لیے عام کرتا ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ ’’سعد بن معاذؓ خندق کی لڑائی کے دن زخمی ہوگئے تھے۔ ایک قریشی شخص ابن عریقہ کا تیران کے بازو کی درمیانی شریان میں لگا چنانچہ رسول اللہؐ نے ان کی دیکھ بھال کے لیے مسجد میں خیمہ لگایا (بخاری ومسلم)‘‘۔ ڈیوڈ شینز (David W.Tschanz) اپنی تحریر (The Islamic Roots of the Modern Hospital) میں کہتے ہیں: اگرچہ بیمار افراد کے لیے قدیم زمانے سے مراکز موجود تھے لیکن ان میں سے بیش تر سادہ اور بنیادی ضروریات و نگہداشت کے ڈھانچے سے محروم تھے۔ ان سہولتوں میں بہتری کا سلسلہ یونانی عہد (323 تا331 قبل مسیح) میں جاری رہا لیکن یہ سہولتیں بیمار افراد کو محض ایک مخصوص جگہ تک محدود رکھنے سے زیادہ نہ تھیں۔ ابتدائی قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں غالب فلسفیانہ عقیدہ یہ تھا کہ بیماری کی اصل وجوہات مافوق الفطرت ہیں اور اس لیے انسانی مداخلت سے ماورا ہیں، جس کے نتیجے میں اسپتال ایسی جگہ بن گئے تھے جہاں مریضوںکو راہبوں کے حوالے کر دیا جاتا تھا جو جسمانی علاج کرنے کے بجائے روحانی علاج کے ذریعے مریضوں کی نجات کی کوشش کرتے۔ (اس کے برعکس) مسلم معالجین نے بالکل مختلف انداز اختیار کیا۔ اپنے پیغمبر سیدنا محمدؐ کے اقوال (احادیث)، مثلاً امام بخاری کی روایات ’’خدا کبھی کوئی بیماری نہیں بھیجتا جب تک اس کا علاج نہیں پیدا کرتا‘‘ اور ’’بیماری اور شفا دونوں خدا کی طرف سے ہیں‘‘ اور ابودردا کی روایت کہ ’’خدا نے ہر ایک بیماری کا علاج مقرر کیا ہے لہٰذا اپنا طبی علاج کرو‘‘ سے رہنمائی لیتے ہوئے مسلم معالجین نے عقلی اور تجرباتی ذرائع سے صحت کی بحالی کو اپنا مقصد بنا لیا۔ اسلامی تاریخ کا سب سے پہلا اور مشہور طبی نگہداشت کا مرکز سیدنا محمدؐ کی زندگی میں ہی رفیدۃ الأسلمیۃ (مدینہ کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھنے والی پہلی مسلمان خاتون سماجی کارکن، نرس اور سرجن جنہوں نے سیدہ عائشہ سمیت کئی افراد کو طب کی تعلیم دی) نے ایک خیمے میں قائم کیا تھا۔ غزوہ خندق کے دوران انہوں نے زخمیوں کا ایک الگ خیمے میں علاج کیا جو اسی مقصد کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ بعد میں حکمرانوں نے ایسے خیموں کو حرکت پزیر ڈسپنسریوں میں تبدیل کیا جو دوائیوں، کھانا، مشروبات، کپڑے، ڈاکٹرز اور فارماسسٹ سے مکمل لیس ہوتی تھیں۔ ان کا مقصد بیرونی علاقوں کی طبی ضروریات کو پورا کرنا تھا جو بڑے شہروں اور مستقل طبی مراکز سے دور تھے۔ ان ڈسپنسریوں نے خود حکمرانوں کو بھی مختلف سفروں اور مہمات میں طبی سہولتیں فراہم کیں۔ بارہویں صدی کے ابتدائی دور میں سلجوق سلطان محمد سلجوقی کے عہد تک موبائل اسپتال اتنا وسیع ہوچکا تھا کہ اس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی اور حرکت پزیری کے لیے40 اونٹوں کی ضرورت ہوتی تھی۔
مسلم معاشروں میں پہلا باقاعدہ اور مستقل اسپتال آٹھویں صدی کے شروع میں اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دور میں دمشق میں تعمیر ہوا جو صرف کوڑھیوں کے لیے ایک پناہ گاہ کے طور پر بنایا گیا تھا۔ اس میں تعینات معالجین کو بڑی بڑی جائدادوں اور شاہانہ تنخواہوں کی شکل میں معاوضہ دیا جاتا تھا۔ مریضوں کو ایک جگہ محدود کر دیا جاتا (چونکہ جذام ایک متعدی بیماری تھی) مگر نابینا افراد کی طرح انہیں بھی وظیفہ دیا جاتا جس سے ان کے اہل خانہ کی دیکھ بھال میں مدد ملتی۔ پہلا جنرل اسپتال تقریباً ایک صدی بعد 805ء کے بغداد میں خلیفہ ہارون الرشید کے وزیر نے بنوایا تھا۔ اس کی کچھ تفصیلات دستیاب ہیں کہ بختیشو (شامی و ایرانی اطباء یعنی ڈاکٹرز کا ایک خاندان جن کی خدمات ساتویں، آٹھویں اور نویں صدی تک رہیں) کنبے کے ارکان جو جندیشاپور (ایران) میں فارسی میڈیکل اکیڈمی کے سابق سربراہان بھی تھے، انہوں نے درباری معالجین کی حیثیت سے اسپتالوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگلی چند دہائیوں میں اسلامی دنیا میں مزید 34 اسپتالوں کا اضافہ ہوا اور یہ تعداد ہر سال بڑھتی گئی۔ قیروان (موجودہ تیونس) میں نویں صدی میں ایک اسپتال تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مکہ اور مدینہ میں بھی اسپتال قائم کیے گئے۔ ایران میں
کئی اسپتال تھے۔ دسویں صدی عیسوی کے دوران بغداد میں پانچ مزید اسپتال بنائے گئے جن میں سے پہلا نویں صدی کے آخر میں المعتضد باللہ (عباسی خلیفہ) نے قائم کیا تھا اور اس کی تعمیر اور معاملات کی نگرانی الرازی کے سپردکی گئی۔ اس اسپتال میں 25ڈاکٹرز کام کرتے تھے جن میں آنکھوں کا ڈاکٹر، سرجن اور ہڈیوں کے امراض کے ڈاکٹر شامل تھے۔ دسویں صدی کی ابتدا ہی میں عباسی وزیر علی ابن عیسیٰ ابن جرح کے کہنے پر جیلوں میں بندقیدیوں کے لیے اسپتال بنایا گیا۔ بعد کے ادوار میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہا۔ جس انداز میں آج جدید اسپتال بنے ہوئے ہیں یہ اسپتال بھی ایسے ہی مختلف شعبہ جات، مثلاً پورے جسم کو متاثر کرنیوالی امراض (Systemic Diseases)، سرجری، امراض چشم (Ophthalmology)، ہڈیوں کے امراض (Orthopedics) اور ذہنی امراض میں تقسیم تھے۔ ان اسپتالوں کے لیے مالی مدد وقف کے محصول سے ہوتی تھی۔ مخّیر افراد اور حکمران اپنی جائدادیں تعمیر شدہ یا زیرِ تعمیر بیمارستانوں کو عطیہ کردیتے تھے۔ سرکاری بجٹ کا ایک حصہ اسپتالوں کی بحالی پہ خرچ ہوتا تھا۔ مریضوں کے لیے اسپتال کی خدمات مفت تھیں البتہ انفرادی معالجین کبھی کبھار فیس وصول کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں المنصور قلاوون بیمارستان، قاہرہ 1284ء کا پالیسی بیان ملاحظہ فرمائیے: ’’اسپتال تمام مریضوں، مردوں اور خواتین کو اس وقت تک داخل رکھے گا جب تک وہ مکمل طور پر صحت یاب نہ ہوجائیں۔ ان کے صحت یاب ہونے تک کے تمام اخراجات اسپتال برداشت کرے گا، چاہے وہ دور سے آئے ہوں یا قریب سے، خواہ وہ مقامی باشندے ہوں یا غیر ملکی، طاقتور ہوں یا کمزور، تعداد میں کم ہوں یا زیادہ، امیر ہوں یا غریب، ملازم ہوں یا بے روزگار، اندھے ہوں یا اشاروں سے بات کرنیوالے، جسمانی مریض ہوں یا ذہنی اور خواندہ ہوں یا ناخواندہ۔ اسپتال میں داخلے اور ادائیگی کی کوئی شرائط نہیں ہیں۔ عدم ادائیگی پر کسی پر بھی اعتراض یا بالواسطہ (اس شخص کی) نشاندہی کرنے کی بھی اجازت نہیں۔ یہ ساری خدمات خدا کی عظمت کا اظہار ہیں جو بڑا مہربان ہے‘‘۔