شور مچا کر لوٹنے والا ٹولہ

357

 

وفاقی حکومت ،اس کی منقسم اپوزیشن اس کے حلیف اور بات بات پر ناراض ہونے والوں نے ہنگامہ غل غپاڑہ کرکے منی بجٹ، اسٹیٹ بینک آرڈیننس اور قومی سلامتی جیسے امور کبھی کابینہ میں کبھی خصوصی اجلاس میں منظور کرکے بھر پور تعاون کیااور اب پھرشور شرابے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ اس جانب پہلے بھی توجہ دلا ئی گئی تھی کہ عوام کی جیبیں صاف کرنے اور ان کو حقوق سے محروم کرنے کے لیے یہ ٹولہ پہلے شور شرابا کرتا ہے، دو گروپ بناتا ہے ایک دوسرے کے خلاف نعرے، جگت بازیاں اور بڑھکیں مارنے کا سلسلہ دراز کیا جاتا ہے، پھر کہا جاتا ہے کہ اب حکومت کا آخری دن آگیا۔ بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے لیکن بجٹ منظور ہوجاتا ہے۔ متنازعہ قوانین کی منظوری کے وقت اعلان ہوتا ہے کہ اسے منظور نہیں کرنے دیں گے۔ لیکن یہ بھی منظور ہوجاتا ہے۔ پھر اسٹیٹ بینک آرڈیننس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی منظوری سے ملک غلام ہوجائے گا، ق لیگ بھی ناراض ہوگئی اور ایم کیو ایم بھی ناراض تھی لیکن یہ قانون بھی منظور ہوگیا، اب اسی شور شرابے میں منی بجٹ منظور ہوگیا۔ پی ٹی آئی حکومت کے آغاز میں ہی پاک فوج کے ترجمان نے سیاست میں براہ راست مداخلت کرتے ہوئے اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں کو حکم دیا تھا کہ چھ ماہ تک حکومت کی تعریفیں کی جائیں۔ حکومت پر تنقید نہ کی جائے۔ ایسا پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ اگر کوئی سیاسی رہنما اٹھ کر یہ کہہ دے کر ایک سال تک پاک فوج پر تنقید کی جاسکتی ہے اس کے بعد تنقید نہ کی جائے۔ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے بعد مدت ملازمت میں توسیع پر سیاستدان ایک گھنٹے اسے کم تنقید کریں۔ تو وہ سیاستدان غدار، ملک دشمن، بھارتی ایجنٹ اور اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوجاتے لیکن سیاست میں براہ راست مداخلت کرنے والے صاحب کا تو کچھ نہیں بگڑا۔ ان کی بات ماننے کے نتیجے میں ملک کا بیڑا غرق ہوگیا۔ قومی سلامتی پالیسی مضحکہ خیز انداز میں منظور کی گئی بلکہ مسلط کی گئی اور خود ہی کہا گیا ہے کہ اس پالیسی پر تنقید نہ کی جائے۔ اس پر تنقید کرکے قومی پالیسی پر سیاست نہ کریں۔ گویا سیاست میں مداخلت کرنا تو عین عبادت ہے۔ اور قومی سلامتی پالیسی جس کے کچھ حصے سامنے آئے ہیں بقیہ حسب ضرورت سامنے لائے جائیں گے۔ اس پر تنقید سیاست ہے۔ یہ ٹولہ تو اب عوام کو مجبور کررہا ہے کہ وہ سڑکوں پر آجائے۔ مہنگائی میں اضافہ، بیروزگاری میں اضافہ، حکمرانی میں اضافہ اور لمبی لمبی تقریروں میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک دعویٰ اسٹیٹ بینک اور عالمی رپورٹ کے نتیجے میں بار بار ڈھول لٹکا کر پیٹا جارہا ہے کہ بیرون ملک سے پاکستانیوں نے ڈالروں کی ریکارڈ ترسیل کی ہے اس کو حکومت کی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے اسباب بہت سارے ہیں، بیرون ملک سے ترسیل کے لیے غیر ملکی اداروں کی شرائط، پاکستان میں استیٹ بینک کی سختیوں اور خوفزدہ کرنے والی دھمکی آمیز خبروں کے نتیجے میں لوگ قانونی طریقے سے رقم منتقل کرنے پر مجبور ہوتے جارہے ہیں۔ اسے حکومت پر اعتبار نہیں مجبوری کہا جاتا ہے۔ یہ شور شرابے اور ہنگامے کرکے قوم کو لوٹنے اور اس کے حقوق سے اسے محروم کرنے والا ٹولہ جب تک مسلط رہے گا اس وقت تک ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ یہ قوم کے ساتھ مسلسل دھوکا کررہے ہیں اور ہر وقت ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔