پولیس ختم کر کے کیمرے لگا دیں

188

کراچی پولیس کے سربراہ عمران یعقوب نے شہر میں ڈکیتی و رہزنی کنٹرول کرنے کے لیے2لاکھ سی سی ٹی وی کیمروں کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس کی نفری دو گنا کرنے سے کچھ نہیں ہو گا ۔ جرائم پر قابو پانے کے لیے شہر میں ہر جگہ کیمرے لگانے ہوں گے ۔ کراچی پولیس کے اعلیٰ افسران کا اجلاس منعقد ہوا اور کراچی میں امن و امان کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی گئی ۔ سی سی ٹی وی کیمروں کا نظام پہلے کسی زمانے میں سوک سینٹر میں ہوتا تھا ۔ پھر ایم کیو ایم کے زمانے میں گورنر عشرت العباد نے اچانک کیمروں کا نظام گورنر ہائوس منتقل کر دیا تھا کیونکہ سوک سینٹر میں ان کیمروں کی نگرانی سٹی گورنمنٹ کر رہی تھی جس کے ما تحت پولیس تھی ۔ اس کے بعد گورنر ہائوس میں ایم کیو ایم ان کیمروںکی نگرانی کرنے لگی ۔ اب وزیر اعلیٰ ہائوس اور سوک سینٹر دونوں جگہ یہ نظام موجود ہے ۔ زیادہ دور نہ جائیں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی کراچی آمد پر ایم کیو ایم نے جو طوفان بد تمیزی مچایا تھا کھلم کھلا دہشت گردی کی تھی اس کے غنڈے جگہ جگہ فائرنگ کرتے نظر آئے ۔ سی سی ٹی وی فوٹیج ساری دنیا نے دیکھی ۔ عدالتوں میں مقدمہ چلا اور چلتا ہی رہا ۔ کیا ہوا اس ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کا ۔ کراچی میں ایسے سیکڑوں واقعات ہوتے ہیں جن میں قاتل چور ڈاکو وغیرہ کی شکل کے ساتھ سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج آ جاتی ہے ۔ کیا آج تک کوئی کارروائی ہوئی ۔ کسی قاتل کو سزا ہوئی ہے ۔ کچھ بھی نہیں ہوا ۔ کراچی پولیس تو اب پورے ملک میں جرائم پیشہ افراد کی سر پرستی کرنے اور خود جرائم میں ملوث ہونے کی شہرت میں سب سے آگے نکل چکی ہے ۔ یہ صرف شہرت نہیں بلکہ مصدقہ واقعات ہیں ۔ پھر لاکھ دو لاکھ پانچ لاکھ کیمرے لگا لیں ۔ عمران یعقوب صاحب نے ضرورکسی مصلحت کے تحت کیمروں کا مطالبہ کیا ہوگا ۔ لیکن اگر کیمرے جرائم پیشہ افراد یا ایسی ذہنیت والے پولیس افسروں کے ہاتھ میں ہوںگے تو امن کیسے ملے گا ۔ صرف لکیر پیٹنے کے لیے کیمرے بڑھانے ہیں تو پولیس ختم کر دیں کیمرے ہی کیمرے لگالیں۔