جماعت اسلامی کی پیش قدمی

326

’’گوادر کو حق دو‘‘ کی کامیابی تحریک چلانے کے بعد جماعت اسلامی نے کراچی کو حق دو کی تحریک شروع کررکھی ہے۔ گوادر کے حوالے سے ایک عرصے سے یہ شکایت اور مطالبہ پایا جاتا تھا کہ مقامی آبادی کو گوادر کی ترقی اور خوشحالی میں شامل کرنے کے بجائے نظر انداز کیا جارہا ہے۔ روزگار اور رہائش سے لے کر اپنے گھروں اور گلیوں میں داخل ہونے تک بلوچستان حکومت، سول انتظامیہ اور سیکورٹی اہلکاروں نے جس طرح کی پابندیاں اور رویہ اختیار کررکھا تھا وہ گوادر کے عوام کو مشتعل کرنے کا سبب بنا جس کے بعد ’’گوادر کو حق دو‘‘ تحریک اُبھر کر سامنے آگئی۔
گوادر کو حق دو تحریک میں مقامی آبادی کی شمولیت اور ردعمل اس قدر شدید تھا کہ اس کے مزید بھڑکنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لیا اور گوادر کو حق دو تحریک چلانے والی قیادت کے ساتھ وعدے اور معاہدے کرلیے گئے جن میں وزیراعلیٰ بلوچستان بزنجو صاحب بھی براہ راست شامل رہے تاہم اب تک دعوئوں اور معاہدوں پر مکمل عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ امید ہے وفاقی اور صوبائی حکومت اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گی۔
اسی طرح سے گزشتہ ماہ حکومت سندھ کی ایک سازش اور شرارت کے نتیجے میں سندھ اسمبلی نے ایک ایسا بلدیاتی قانون پاس کیا ہے کہ جسے پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے نہ صرف مسترد کردیا بلکہ اسے ’’کالا قانون‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ جماعت اسلامی نے اس کالے قانون کی منسوخی کے لیے سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دے رکھا ہے تادم تحریر اس دھرنے کو 15 روز گزر چکے ہیں۔
ہمارے نزدیک پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے طرز حکمرانی یا اقتدار میں کوئی فرق نہیں، ان تمام سیاسی جماعتوں کا اقتدار اپنے اپنے دور میں کسی نہ کسی ظلم، ناانصافی اور زیادتی کا سبب بنتا رہا تاہم سردست ہمارے سامنے PTI اور PPP کا اقتدار زیر بحث ہے۔ پی ٹی آئی کا اقتدار مجموعی طور پر پورے ملک کے اندر قابل نفرت بن چکا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کا اقتدار بھی صوبہ سندھ کے اندر مسلسل ناکام جارہا ہے جس کا اظہار عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس صاحب بھی کئی مرتبہ کرچکے ہیں۔
جماعت اسلامی جمہوریت، انتخابات اور آزادی رائے پر یقین رکھتی ہے۔ ناکام حکومتوں کا بوجھ بھی جماعت اسلامی نے برداشت کیا مگر کسی بھی طرح سے کبھی بوکھلاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا کیونکہ جماعت اسلامی قانون کی بالادستی اور آئینی حدود کا احترام کرتی ہے۔ مخالف کے اقتدار کو کسی سازش کے ذریعے ختم کرنے یا کرانے کو مناسب خیال کرتی۔ سول آمریت یا فوجی ڈکٹیٹر شپ کو کبھی تسلیم نہیں کیا ان کے خلاف قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے پرامن احتجاج کے ذریعے تبدیلی اقتدار کے لیے کوشاں رہی۔
جماعت اسلامی کے نزدیک ملک کے اندر سرگرم تمام دینی و سیاسی جماعتوں کی قیادت اور کارکنان قابل احترام ہیں تاہم ملک کی نظریاتی اور دفاعی سرحدوں کو آج جس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے اس پر جماعت اسلامی اپنے نقطہ نظر (قرآن و سنت کی روشنی میں) کے ساتھ متحرک اور سینہ سپر ہے۔ جماعت اسلامی اداروں کے درمیان ٹکرائو یا یہ کہ ان کے بے اختیار ہونے کو ملکی استحکام کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے اسی خیال سے جماعت اسلامی نے عوامی مسائل کو حل اور بنیادی حقوق کے تحفظ جمہوری انداز سے پرامن جدوجہد شروع کررکھی ہے جبکہ جماعت اسلامی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکن کو کبھی بھی خوفزدہ اور پسپا نہیں کیا جاسکا۔
جماعت اسلامی کا احتجاج، مظاہرہ یا جلوس و دھرنا وغیرہ ہمیشہ بڑے غور و فکر کے بعد ایک طے شدہ منصوبے کے ساتھ ہی سامنے آتا ہے۔ گوادر کو حق دو تحریک کے بعد ہر طرح کے ممکنہ نتائج کا تجزیہ کیا جاچکا ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ تیر اور تلوار سے یا بندوق اور گولی سے جماعت اسلامی کے دھرنے کو اٹھا دیا جائے گا۔ ایسا کبھی ممکن نہیں ہوگا۔ دبائو جتنا بڑھے گا دھرنا اتنا ہی زیادہ ردعمل دے گا۔ حکومت سندھ دھرنے کے شرکا کے تھک جانے کا انتظار کرنے کے بجائے خود نیند سے بیدار ہو اور حالات کا جائزہ لے۔ تحریک انصاف کی طرح پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت بھی ناکام اور بدنام ہوچکی ہے۔ کراچی کے دھرنے کو نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ کے عوام کی اخلاقی حمایت حاصل ہے جبکہ جماعت اسلامی کراچی خود اپنے اندر اتنی طاقت اور وسائل رکھتی ہے کہ وہ ایک اللہ کے بھروسے پر جب تک چاہے دھرنا برقرار رکھ سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ جناب مراد علی شاہ صاحب یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ کراچی کو نظرانداز کرکے سندھ کے اندر بلدیاتی انتخابات کروانا ممکن نہیں جبکہ جماعت اسلامی کو نظر انداز کرکے اہل کراچی کو مطمئن کرنا بھی خام خیالی ہوگی۔ بہتر ہوگا کہ حکومت سندھ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے نیا بلدیاتی قانون (کالا قانون) واپس لے لے اور بلدیہ کراچی سمیت جہاں جہاں بھی میئر ہوں گے انہیں بااختیار بنانے کے لیے نئے سرے سے قانون سازی کرے۔ بصورت دیگر یاد رکھا جائے کہ جماعت اسلامی کی پیش قدمی اگر جاری رہی تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ جماعت اسلامی کراچی بڑی سے بڑی قربانی دے کر بھی اپنا ہدف حاصل کرے گی ان شاء اللہ۔
بہرحال اگر مذکورہ کالے بلدیاتی قانون کو زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے ردعمل میں جماعت اسلامی کی جدوجہد اور پیش قدمی حکومت سندھ کی نمبر پلیٹ بھی تبدیل کرسکتی ہے۔
اللہ پاک ہم سب کی مدد و رہنمائی فرمائے۔ آمین ثم آمین۔