پاکستان سستا ملک اور منی بجٹ

348

وزیراعظم عمران خان اور دوسرے حکومتی اراکین مسلسل یہ بات کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اب بھی ایک سستا ملک ہے اور دوسرے قریبی ممالک میں مہنگائی زیادہ ہے جبکہ وفاقی حکومت ہی کا ایک ادارہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے اعداد و شمار اس سے مختلف ہیں۔ حال ہی میں راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام 14 ویں انٹرنیشنل سمٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سامعین کو بتایا کہ برآمدات اور ٹیکس میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، مہنگائی کی لہر پوری دنیا میں موجود ہے مگر پاکستان اب بھی ایک سستا ملک ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان نے 2020ء کے دسمبر کے مقابلے میں 2021ء کے دسمبر میں 12.28 فی صد مہنگائی ریکارڈ کی، اسی طرح پچھلے چھے ماہ جولائی تا دسمبر 2021-22ء میں 9.8 فی صد اوسط مہنگائی ریکارڈ کی ہے۔ جن اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ان میں کھانے کا تیل، دال مسور، گوشت، آٹا، بجلی کے نرخ، پٹرولیم مصنوعات، دودھ، دہی اور تعمیراتی سامان شامل ہیں۔ اس طرح کے بیانات سے لوگ ہنستے ہیں اور حکومت کی ساکھ خراب ہوتی ہے، ویسے اب ساکھ خراب ہونے میں کیا رہ گیا ہے۔
اسی طرح حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق 1170 قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین میں سے 161 ایسے ہیں جنہوں نے نہ تو انکم ٹیکس ادا کیا اور نہ ہی ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔ ان میں ایسے ارکان پارلیمنٹ بھی ہیں جن کی دولت 8ارب روپے سے زیادہ ہے، لیکن وہ ایف بی آر کی لسٹ میں نہیں ہیں۔ حکومت کو چاہیے سب سے پہلے ان ارب پتی لوگوں پر ہاتھ ڈالے تو ان سے اتنا ٹیکس جمع ہوجائے گا کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے جس منی بجٹ کا پورے ملک میں چرچا تھا وزیر خزانہ شوکت ترین جسے فنی مالیاتی بل کہتے ہیں قومی اسمبلی میں شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے بعد منظور ہوگیا۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا اور ٹیکس استثنیٰ ختم کرنا ہے جبکہ دوسری طرف تاثر یہ ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ مثلاً بچوں کے دودھ، ادویات، موبائل، درآمدی گوشت، سلائی مشین، پولٹری اور کھانے پینے کی تمام درآمدی اشیا پر 17 فی صد سیلز ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے جو ترامیم پیش کی گئی تھیں وہ مسترد کردی گئی ہیں۔
عالمی بینک جو مجموعی طور پر دنیا کی معیشت اور انفرادی ممالک کی معاشی صورت حال پر رپورٹ جاری کرتا رہتا ہے اس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2021-22ء میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح نمو 3.4 فی صد رہے گی جبکہ پاکستان نے 4.8 فی صد کا ہدف طے کیا تھا اور یہ شرح خطے کے زیادہ تر ممالک سے کم ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے مطابق پاکستان میں تمام نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے شرح نمو 7 سے 9 فی صد تک ہونی چاہیے، لیبر فورس سروے کے مطابق پاکستان میں 31 فی صد ڈگری یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں اور حکومت کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کی رفتار تیز کی جائے، کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں، ٹیکسوں کا نظام آسان بنایا جائے تاکہ بے روزگار لوگوں کو روزگار مل سکے۔