قوم کو نکلنا ہو گا

258

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے ملکی سیکورٹی پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔قومی سلامتی پالیسی کے عوامی حصے کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کاکہنا تھاکہ بڑی محنت سے نیشنل سیکورٹی پالیسی کومرتب کیا گیا ہے، جس میں قومی سلامتی کو صحیح معنوں میں واضح کیا گیاہے، کوشش ہے کہ ریاست اور عوام ایک راستے پر چلیں۔ وزیر اعظم کے بقول آزادی کے بعد ابتدائی دور میں ملک کا ارتقا غیر محفوظ ماحول میں ہوا، ہمارے اپنے سے کئی گنا بڑے پڑوسی ملک سے جنگیں ہوئیں، ہماری سوچ صرف ایک رخی تھی کہ ہمیں فوجی سیکورٹی کی ضرورت ہے لیکن نئی قومی سلامتی پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ سلامتی کی کئی جہتیں ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اگر ملکی معیشت ٹھیک نہ ہو تودفاع بھی کمزور ہوگا، خود زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ سکتے، ماضی میں ہم نے ملک کو معاشی طور پر مستحکم نہیں کیا، آئی ایم ایف سب سے سستے قرض دیتا ہے، مجبوری میں اس کے پاس جانا پڑتا ہے اور اس کی شرائط ماننا پڑتی ہیں اور عوام پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے، جب تک سب ترقی نہیں کریں گے قوم غیر محفوظ رہے گی، جب اجتماعی ترقی ہوگی تب ملک محفوظ ہوگا۔
یہ باتیں وزیر اعظم اس وقت کہہ رہے ہیں کہ جب دو دن قبل قومی اسمبلی نے منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بل منظور کرلیا ہے یوں وہ شرط پوری ہوگئی جو معیشت کو سہارا دینے کے لیے کئی دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے قرضے اور پیکیجز کے لیے مطلوب تھی یہ طے شدہ بات ہے کہ آئی ایم ایف جس ملک کو قرضہ دیتا ہے اس پر بہت سی شرائط بھی عائد کرتا ہے اور ان شرائط کے ذریعے وہ اس کی ملک کی آزادی اور خود مختاری پر اثر انداز ہونے کے علاوہ معاشی حوالے سے زیادہ تر فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھی اس نے ایسا ہی کیا اور ماضی میں قرضہ دیتے ہوئے کئی ایسی شرائط منوائیں جن سے حکمران اشرافیہ کو تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ان شرائط کی وجہ سے مہنگائی میں ہونے والے اضافے نے عوام کو بے حال کردیا۔ اب آئی ایم ایف نے پاکستان کو چھے ارب ڈالرز کا جو قرضہ دینا ہے اس کے لیے اس نے نئی شرائط بھی رکھی ہیں اور حکومت نے ان شرائط کو مان بھی لیا ہے لیکن ابھی تک پارلیمان سے منظوری نہ ہونے کی وجہ سے ان شرائط کا عملی طور پر نفاذ نہیں ہو پایا ہے۔آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 12 جنوری کو اپنے ایک اجلاس میں اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ پاکستان نے کس حد تک اس کی شرائط کو نافذ کیا ہے۔ اس جائزہ اجلاس کے بعد پاکستان کو ایک ار ب 5کروڑ ڈا لر کی قسط دینے سے متعلق فیصلہ کیا جانا تھا۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے درخواست کی کہ جائزہ اجلاس موخر کردیا جائے کیونکہ شرائط کے نفاذ کے لیے فنانس (ضمنی) بل یا منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل تاحال پارلیمان سے منظور نہیں ہوا پاکستان میں آئی ایم ایف کی ترجمان ایستھر پیریز نے میڈیا سے گفتگو کی کہ آئی ایم ایف پروگرام کے چھٹے جائزے پر غور پاکستان کی درخواست پر ملتوی کیا گیا۔ امکان ہے کہ اجلاس اسی مہینے کی 28 یا 31 کو ہوگا اور حکومت کی کوشش تھی کہ اس سے پہلے ہی بجٹ پاس کرالے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے 30 دسمبر کو قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کیا تھا قومی اسمبلی کے چالیسویں سیشن کے لیے جو 48 نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا تھا اس کے مطابق منی بجٹ کی منظوری کے حوالے سے اس اجلاس میں بات چیت ہونی تھی تاہم سانحہ مری کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ منی بجٹ کی منظوری سے متعلق ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اس بل کا جائزہ لے کر آئین کی شق 73 کے مطابق اپنی سفارشات مرتب کررہی ہے۔ قومی اسمبلی ان سفارشات کی پابند نہیں اور وہ ان پر غور کیے بغیر بھی منی بجٹ کی منظوری دے سکتی ہے۔ سینیٹ کسی بھی بل سے متعلق اپنی سفارشات مرتب کرنے کے لیے چودہ دن کا وقت لیتا ہے تاہم چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 4 جنوری کو ارکان سینیٹ سے کہا تھا کہ وہ تین دن کے اندر اس بل سے متعلق سفارشات تیار کریں جس پر ارکان نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اتنی کم مدت میں بل پر غور نہیں کرسکتے۔ قبل ازیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ارکان نے ایک گرما گرم بحث کے دوران متفقہ طور پر منی بجٹ کے بارے میں یہ رائے دی تھی کہ اس سے ٹیکسز بہت زیادہ بڑھ جائیں گے اور عوام کے لیے مہنگائی کا سونامی آ جائے گا منی بجٹ پارلیمان سے منظور ہوجانے کے بعد حکومت کو 343 ارب روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہوگی جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 0.6 فیصد بنتی ہے۔ منی بجٹ کے ذریعے حکومت ایم آئی ایف کے کہنے پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی چھوٹ ختم کررہی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ شوکت ترین نے منی بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ منی بجٹ کے تحت جو جی ایس ٹی نافذ کیا جارہا ہے وہ قابلِ واپسی ہوگا اور کاروباری حضرات سات دن کے اندر اس کی واپسی کے لیے کلیم داخل کرسکتے ہیں لیکن وزیر خزانہ نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ جی ایس ٹی کی رقم جب کاروباری حضرات کو واپس مل جائے گی تو ان کی جیبوں سے نکل کر وہ عوام تک کیسے پہنچے گی؟ حکومت اب تک اپنی طے کردہ قیمتوں پر ہی عمل درآمد نہیں کرا سکتی اور جہاں جس کا جی چاہتا ہے وہ سرکاری نرخوں سے ہٹ کر من مانی قیمت پر اشیاء بیچتا ہے تو اس بات پر عمل درآمد کو کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ جی ایس ٹی کی قابلِ واپسی رقم کا بوجھ عوام پر نہ پڑے؟ رقم کے قابلِ واپسی ہونے کا فائدہ کاروباری حضرات کو تو ہوسکتا ہے لیکن عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گاحزبِ اقتدار آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت منی بجٹ کو منظور کرانے کے لیے جتنی بے تاب تھی حزبِ اختلاف اتنا ہی بے نیاز بھی تھی اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ منی بجٹ سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا جسے وہ برداشت نہیں کرسکیں گے۔لیکن یہ سب باتیں وزیر اعظم عوام سے زیادہ جانتے اور وہ سب کچھ جان کر کررہے ہیں جو اجتماعی قومی مفادات کے خلاف ہے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر لینے کے لیے 22کروڑ عوام کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا، بے رحم حکومت غریب کش منصوبوں پر گامزن ہے،بیرونی قرضے عوام کے لیے نہیں حکمرانوں کی عیاشیوں کے لیے لیے جاتے ہیں۔ پاکستان کو استعمار کی غلامی میں دھکیل دیا گیا۔ ملکی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوگئی، تجارتی خسارے میں پچھلے 6 ماہ میں 25ارب ڈالر اضافہ ہوا۔ بجلی اور گیس کا ٹیرف بڑھانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ حکومت نے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لیے۔ ملک کے وسائل پر چند خاندانوں کا قبضہ ، سود سمیت قرضوں کی قسطوں کی ادائیگیوں کے لیے غریبوں کا خون چوسا جاتا ہے۔سودی معیشت کو خیرآباد کہنا ہوگا، ارب پتی حکمرانوں کے بچے اور جائداد باہر مگر ملک کے کروڑوں باسی دو قت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔پی ٹی آئی نالائقوں کا ٹولہ ثابت ہوئی، دعوے کرنے والے آج عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں۔ سابق حکمران جماعتیں بھی ملک کی تباہی کی برابر کی ذمے دار ہیں۔ وڈیروں ، کرپٹ سرمایہ داروں نے ملک کو جاگیر سمجھا ہوا ہے۔ یہ لوگ ملک کے بینکوں سے اربوں کے قرضے لیتے ہیں اور بعد میں ایک کوڑی واپس نہیں کرتے۔ کرپٹ سرمایہ دارانہ نظام اور اسلامی پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی جمہوری انقلاب برپا کرے گی۔ عوام ساتھ دیں۔
قوم سے اپیل ہے کہ اپنے حق کے لیے کھڑی ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم سراج الحق کی اپیل کو سنجیدہ لے اور مصنوعی حکمرانوں کے خلاف کھڑی ہوجائے۔اسی میں نجات ہے۔