پاکستان میں ذیا بیطس اور بلڈ پریشر کا مرض عام ہے ، ڈاکٹر عائشہ ولی

104

 

 

بدین(نمائندہ جسارت) انڈس اسپتال (ڈی ایچ کیو) بدین کے شعبہ گائنی کے زیر اہتمام حمل کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں اور ان کے علاج کے طریقوں سے متعلق 2 روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کی ماہر گائنالوجسٹ ڈاکٹر پشپا نے سمیت کراچی اور حیدرآباد کی سینئر گائناکالاجسٹ ڈاکٹرز نے بھی شرکت کی جنہوں نے نوجوان ڈاکٹروں کو لیکچرز دیے اور ان کو جدید طریقہ علاج کے بارے میں روشناس کروایا ورکشاپ کے پہلے روز حاملہ خواتین میں ذیابطیس کی بیماری سے متعلق ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ ولی نے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا مرض عام ہے، دوران حمل ذیابطیس کنٹرول میں نہ رہنے سے بچے کی موت بھی ہوسکتی ہے انہوںنے کہا کہ اکثر خواتین یا تو اس مسئلے سے بے خبر رہتی ہیں یا پھر شناخت ہونے کے بعد بھی ذیابیطس کو کنٹرول کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دیتی ہیں، اگر ذیابطیس کو بروقت کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ بچے اور ماں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ شیخ نے کہا کہ حاملہ خاتون کی میڈیکل ہسٹری بہت زیادہ اہم ہے حاملہ خاتون کو پہلے حمل میں جیسٹیشنل ذیابیطس رہی ہو تو وہ دوسرے حمل کے دوران خاتون کو دوبارہ ذیابیطس ہونے کا قوی امکان ہوگا۔ ڈاکٹر عائشہ نے کہا کے اسپتالوں میں حمل کی تصدیق کے ساتھ ہی مریضہ کی ہسٹری دیکھتے ہوئے ان کا گلوکوز ٹالرینس ٹیسٹ کیا جاتا ہے اگر اس وقت رزلٹ منفی آ جائے تب بھی مسلسل بنیادوں پر چٹھے سے ساتویں مہینے میں دوبارہ چیک کیا جاتا ہے کیونکہ حمل کا دورانیہ بڑہنے کے ساتھ ساتھ اس کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ورکشاپ کے دوسرے روز ملک کی معروف گائناکولوجسٹ ڈاکٹر پشپا نے ڈاکٹرز کو حاملہ خواتین کے علاج معالجہ، احتیاطی تدابیر اور زچگی میں پیچیدگیوں کے حوالے سے خصوصی لیکچر دیا۔ ڈاکٹر پشپا نے حمل کے دوران ماؤں کی صحت پر زور دیا اور کہا کہ خواتین کی صحت خصوصا حمل و زچگی کے معاملات کو سنجیدہ نہیں لیا جاتاجس سے پیچیدگیاں بڑہتی ہیں ڈاکٹر پشپا نے زچگی کے متعلق ڈاکٹرز کو مفید معلومات فراہم کرنے کے ساتھ رہنمائی بھی کی اور ڈاکٹرز کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ ڈاکٹر پشپا نے بتایا کہ ہر سال ہزاروں خواتین حمل و زچگی کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح نومولود بچوں میں بھی شرح اموات بہت زیادہ ہے لہذا ماؤں کی صحت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ڈاکٹر سامیا شجاع نے نوزائیدہ بچوں میں شرح اموات کم کرنے کے لئے بروقت طبی امداد اور مناسب طریقہ علاج پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق علاج کی سہولیات میں سندھ کے اضلاع آج بحی بہت پیچھے ہیں ورکشاپ کے شرکا کو عملی طور پر مختلف طبی طریقہ علاج بھی سکھایا گیا کے نوزائیدہ بچوں کو پیدائش کے فورا بعد کس طرح بروقت طبی امداد دی جائے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حرمت سیف نے کہا کہ ورکشاپ کا مقصد دوران زچگی ہونے والی پیچیدگیوں پر جدید طریقہ علاج پر تبادلہ خیال اور نوجوان ڈاکٹرز کو تربیت دینا تھا۔انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص اور بروقت علاج سے مریض کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے، سیمینار کا مقصد ماں اور بچے کو محفوظ بنانا ہے۔ اس موقع پر فیکلٹی چیئرمین انڈس اسپتال ڈی ایچ کیو بدین ڈاکٹر سنتوش کمار نے ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ گائنی کی اس کاوش کو سراہا اور اس امر پر زور دیا کہ ایسی ورکشاپس کا انعقاد ہسپتال میں جاری رہنا چاہیئے جو ہمارے ملک میں ماوں اور بچوں کی اموات کی شرح کم کرنے میں معاون ثابت ہو۔ ورکشاپ سے ڈاکٹر پشپا سریچند سمیت ڈاکٹر ثمیا شجاع، ڈاکٹر امبرین غوری، ڈاکٹر ماریہ ڈاہری، ڈاکٹر امبر نعیم اور ڈاکٹر سرور کمار نے زچگی سے متعلق تربیتی لیکچرز دیئے۔تقریب کے اختتام پر مہماں خصوصی ڈاکٹر پشپا اور دیگر مہمانوں کو اجرک شیلڈز پیش کی گئیں اور سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے۔