پرویز مشرف کی سزائے موت کالعدم کرنے کیخلاف جلد سماعت کی درخواست

51

اسلام آباد (آن لائن) ایڈووکیٹ حامد خان نے سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کے فیصلے کوکالعدم قرار دینے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں دائر  اپیل کی جلد سماعت کیلیے درخواست دائر کردی ۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی سزا کو کالعدم قرار دینے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل 2020 سے عدالت عظمیٰ میں زیر التواء ہے، 2020 ء کے وسط میں دائر کی گئی درخواست کو آج تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا، پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے فیصلے کے خلاف بھی اپیل دائر کی گئی تھی ، نوٹس کیے بغیر ہماری اپیل کو عدم پیروی پر خارج کردیا گیا، جس کے نتیجے میں سابق صدر پرویز مشرف ملک سے فرار ہوگئے اور اب تک مفرور ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف عدالت عظمیٰ میں دائراپیل جلد سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔ حامد خان کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیراعظم سے متعلق کیس نہ سننے کے فیصلے کے خلاف بھی اپیل سماعتکے لییمقرر نہیں ہوسکی۔ واضح رہے کہ خصوصی عدالت کی طرف سے سابق صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزا موت سنائی گئی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کو سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ 20 جنوری کو سماعت کرے گا،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان بھی بینچ میں شامل ہونگے۔ پرویز مشرف نے انتخابات 2013 ء میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔ اپیل پر گزشتہ سماعت 2018ء میں ہوئی تھی جس میں عدالت نے انہیں وطن واپسی کی ہدایت کی تھی۔اب عدالت عظمیٰ نے سابق صدر کے وکیل اقبال ہاشمی کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔