مہنگائی کی دیمک

143

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے گوادر کو حق دو تحریک سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا تھا کہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے مطالبات سے متفق ہونا وقت کا تقاضا ہے، سیاسی بحران پر قابو پانے کا واحد راستہ ہے اور بلوچستان کی حکومت نے اسی راستے کا انتخاب کیا، مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی مگر ابھی تک اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شراب کھلے عام کیوں فروخت ہو رہی ہے۔ حالانکہ شراب پینا اقلیتی مسلک میں بھی حرام ہے، ملازمتوں میں مقامی افراد پر حکمران طبقہ اپنے منظور نظر لوگوں کی تعیناتی کیوں کرتا ہے عوام کے حقوق پر سیاست کیوں غالب آجاتی ہے، امیر جماعت نے یہ بھی کہا تھا کہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ امریکا اور بھارت سی پیک کے مخالف ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان معاشی طور پر خود مختار ہو، بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان کی معیشت امریکا اور دیگر عالمی قوتوں کی محتاج رہے، گوادر کو حق دو تحریک کا اولین مقصد اسلامی احکامات کی پابندی بلوچ بچوں کو تعلیم کی سہولت اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ہے، انہوں نے حکمرانوں کو پیغام دیا تھا کہ بلوچستان میں زیادتی کا شرمناک اور ناانصافی کا کھیل ختم کیا جائے، یہ ملک وزیر اعظم صدر مملکت یا فوجی قیادت کے لیے معرض وجود میں نہیں آیا اس کے قیام کا مقصد اسلامی نظام پر عملد درآمد کرانا تھا، مگر بد نصیبی یہی ہے کہ با اثر بااختیار اور عالمی قوتوں کی سیاسی کٹھ پتلیوں نے اس مقصد کی تکمیل نہیں ہونے دی، یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ پاکستان کی اکثریت پر ایک چھوٹا سا گروہ قابض ہے، چند خاندانوں نے پاکستان کو اپنی جاگیر بنا لیا ہے۔
ہر ادارے کی ذمے داری دوسرے ادارے سے مختلف ہوتی ہے جب تک ہر ادارہ اپنے صفحے پر رہتا ہے ملک میں کسی بھی طرح کا بحران نہیں آتا، عوام کی بے چینی کا ایک بڑا سبب اداروں کا ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی ہے، سو اپنے اپنے صفحے پر رہنا ناگزیر ہوتا ہے، خان صاحب کا استفسار ہے کیا کوئی اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے، کہ شہباز شریف نے کرپشن نہیں کی خان صاحب انکار تو اس حقیقت سے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کے دور اقتدار میں کرپشن پہلے سے بھی زیادہ ہو رہی ہے، انہیں یہ گلا بھی ہے کہ حکومت کے اچھے کاموں کی تشہیر کے بجائے ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، اس کے باوجود تحریک انصاف کا ووٹ بینک برقرار ہے اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، سوچنے کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ووٹ بینک میں کوئی کمی نہیں آئی تو پھر خیبر پختون خوا کے بلدیاتی انتخابات میں رسوا کن شکست کیوں ہوئی، خان صاحب مہنگائی کی دیمک آپ کے ووٹ بینک کو کھا گئی اگر اس دیمک پر قابو نہ پایا گیا تو سارا ووٹ بینک مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گا اور عوام کو یقین ہو جائے گا کہ واقعی تبدیلی آگئی ہے اور اپوزیشن بھنگڑا ڈالے گی کہ تبدیلی چلی گئی ہے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا یہ کہنا حق پر مبنی ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے، المیہ یہ ہے کہ ایسے معاملات کو قابل توجہ ہی نہیں سمجھا جاتا اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ پنجاب کا منہ اژدھے کے منہ کی طرح ہمیشہ کھلا ہی رہتا ہے، دوسرے صوبے کے حقوق کو ہڑپ کرنا اس کا سیاسی مشغلہ ہے، کہ یہی اس کی توانائی کا ذریعہ ہے، کہنے والوں کا یہ کہنا درست ہے کہ جب تک اس اژدھے کے منہ کو چیر کر دوسرے صوبوں کے حقوق نہیں نکالے جاتے ملک میں سیاسی بحران اور انتشار بڑھتا ہی رہے گا، افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ پنجاب کو اصل پاکستان اور دیگر صوبوں کو اس کا باج گزار سمجھا جاتا ہے، عدلیہ کی ذمے داری ملک کے شہریوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے، وہی ان کے حقوق پر ڈکازنی کی مرتکب ہوتی رہتی ہے، خاص کر بہاول پور اس کا ہدف بنا ہوا ہے شاید اہل بہاول پور کو پاکستان کی بیساکھی بننے کی سزا دی جارہی ہے، ساری دنیا جانتی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اگر ریاست بہاول پور اس کا ہاتھ نہ پکڑتی تو پاکستان کبھی اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہو سکتا تھا اور جواہر لعل نہرو کی یہ پیش گوئی حقیقت بن چکی ہوتی کہ پاکستان چھے ماہ بعد ہندوستان کی جھولی میں آگرے گا۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ کسی بھی صوبے کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہوتا ہے مگر پنجاب بڑی ڈھٹائی اور دیدہ دلیری سے دوسرے صوبے کے عوام کا حق ہڑپ کرتا رہتا ہے اور اس معاملے میں اس نے فوج کو بھی اپنے جال میں پھنسا لیا ہے، جس کے نتیجے میں نوجوان طبقہ بے روزگاری کی دلدل میں دھنستا جارہاہے، یہ کیسی دل آزار روش ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں میں پنشن یافتہ فوجی جوانوں اور افسروں کا کوٹا مقرر ہے، حکومت پنجاب نے کئی برس قبل نوجوانوں کو ٹیوٹا سے سیکورٹی گارڈ کا کورس کرنے کی تلقین کی تھی اور یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ کورس کے اختتام پر ان نوجوانوں کو تعلیمی اور دیگر اداروں میں تعینات کر دیا جائے گا، مگر جب بھی سیکورٹی گارڈ کی آسامیاں نکلتی ہیں تو درخواست گزار کا سابق فوجی ہونا لازم قرار دیا جاتا ہے، اس اندھیر نگری کے باعث دیگر پاکستانیوں کے گھر اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں، اس کا ذمے دار کون ہے، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے اس معاملے میں اچھی روایت ڈالی ہے کہ وہ ٹیوٹا سے سیکورٹی گارڈ کا کورس پاس کرنے والوں کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ اب یہ ایک الگ بات ہے کہ سیاست دانوں کے دبائو کے نیچے آکر سسکنے لگتی ہے۔
یہ سوال ہر باشعور شخص کے ذہن کو کچوکے لگاتا رہتا ہے کہ جو شخص اپنی ملازمت کی مدت پوری کر چکا ہے گریجویٹی کی مد میں لاکھوںاور کروڑوں روپے حاصل کر چکا ہے اور ہر ماہ پنشن کی مد میں معقول رقم حاصل کرتا ہے اسے دوبارہ ملازمت دے کر مستحق اور ضرورت مند نوجوانوں کے حق پر ڈاکا زنی کیوں کی جارہی ہے، وطن عزیز میں وسائل کی کمی نہیں المیہ یہ بھی ہے کہ حب الوطنی کے ٹھیکیدار کسی دوسرے ملک سے آنے والے مسلمانوں کو ملازمت اور گھر کی ذمے دار حکومت وقت کو قرار دیتی ہے، اور اتنا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے حکومت وقت ان کو ملازمت دینے اور ان کے لیے رہائشی کالونی بنانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ اس نام نہاد حب الوطن جتھے کو کبھی یہ توفیق نہ ہوئی کہ وطن عزیز کے بے روزگار اور بے گھر لوگوں کے لیے بھی اسی تندہی اور فعالیت کا مظاہرہ کرے تاکہ اہل وطن بے روزگاری اور بے گھری کے عذاب سے نجات پاسکتے ہیں۔
ہم نے بارہا انہی کالموں میں کہا ہے کہ بے روزگاری کا خاتمہ کرنا ہے تو سابق ملازمین کے کوٹے کو ختم کرنا پڑے گا تاکہ ملک کے نوجوانوں کو بھی روزگار فراہم کیا جاسکے بصورت دیگر ایک مخصوص ادارے کے سابق ملازمین پنشن اور نئی ملازمت سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے اور نوجوان طبقہ ملازمت کے لیے دربدر کے دھکے کھاتا پھرے گا یا پھر روزگار کے حصول کی خاطر غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی سعیِ نامشکور کرتا رہے گا، یہاں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ ایسا کون کرے گا، کیونکہ حکمران تو اپوزیشن کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف عمل رہتے ہیں، ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ ملک اور قوم کے بارے میں سوچیں۔