لانگ مارچ کے نام پر اپوزیشن ڈراما کررہی ہے

95

اسلام آباد (رپورٹ: میاں منیر احمد) کوئی لانگ مارچ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اس میں تشدد شامل نہ ہو‘ پر امن لانگ مارچ حکومت کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ہے‘ لانگ مارچ کی ٹائمنگ بہت اہم ہے کیونکہ لانگ مارچ کے ایک ہفتے کے بعد رمضان المبارک شروع ہوجائے گا‘ کیا لانگ مارچ کے شرکا رمضان المباک میں دھرنا دیے بیٹھے رہیں گے؟ یہ ایک ڈراما ہے۔ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار عظیم چودھری، تجزیہ کار فاروق عادل، جماعت اسلامی صوبہ پنجاب شمالی کے رہنما اقبال خان، ماہر حسابیات عبد الرب خان ، امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا حزب اختلاف کا لانگ مارچ حکومت تبدیل کرسکتا ہے؟‘‘ عظیم چودھری نے کہا کہ جو سیاسی جماعتیںلانگ مارچ کی بات کر رہی ہیں وہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ رائے عامہ کے دبائو کو استعمال کرکے جہاں جہاں موقع ملے شہروں کی میئر شپ حاصل کی جائے‘ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے الگ الگ لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے تاہم دھرنوں سے حکومتیں ختم نہیں ہوتیں‘ پیپلز پارٹی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے کیونکہ نواز شریف سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی‘ عمران خان سے حکومت نہیں چلائی جا رہی‘ پیپلز پارٹی پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ فاروق عادل نے کہا کہ اس ملک میں عمران خان اور طاہر القادری نے بھی دھرنے دیے ہیں مگر حکومت ختم نہیں ہوئی‘ حکومت ختم کرنے کے لیے جن عناصر کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان سیاسی جماعتوں کے پاس نہیں ہیں ‘عوام کی طاقت اگر کسی حکومت کا ناطقہ بند کردے تو حکومت ختم ہوجاتی ہے اور کیا پیپلزپارٹی اور جے یو آئی میں یہ صلاحیت ہے؟ پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ اصل میں اشتہار برائے ملازمت ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ نواز شریف تو بات ہی نہیں مان رہے لہٰذا خلا کو پورا کیا جائے مگر یہ بات مسلم لیگ (ن) کو بھی پتا ہے کہ پیپلز پارٹی میں حکومت چلانے کی صلاحیت نہیں ہے اور تحریک انصاف نے جیسی حکومت چلائی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے لہٰذا اسے اطمینان ہے کہ بات تو اسی کے ساتھ کرنا ہوگی۔اقبال خان نے کہا کہ ماضی کی حکمران جماعتیں عوام کے سامنے اپنے آپ کو حزب اختلاف بنا کر پیش کر رہی ہیں جبکہ اصل میں یہ جماعتیں بھی آج کے قومی اور ملکی مسائل کی اتنی ہی ذمہ دار ہیں جتنی موجودہ حکومت ہے‘ اس لیے عوام جس طرح موجودہ حکومت سے تنگ ہیں ‘ سابق حکمران جماعتوں سے بھی اتنے ہی نالاں ہیں‘ یہ جماعتیں صرف اپنی باری کے انتظار میں ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں رہنے کے لیے وقتاً فوقتاً اس طرح کے اعلان کرتی رہتی ہیں‘ انہیں خود بھی معلوم ہے کہ ایسی مہمات کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے‘ قوم جانتی ہے کہ وقت آنے پر اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل اور جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے لیے یہ ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کریں گی۔ عبد الرب خان نے کہا کہ فی الوقت کے حالات یہ بتاتے ہیں کہ شاید ایسا ممکن نہیںکیونکہ دراصل سارے حزب اختلاف کا ابھی اکھٹا ہونا ممکن نہیں ہے۔ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا مگر افسوس کہ آج ہمیں یہ نظریے پڑھانے کے بجائے پنجابی، سندھی، بلوچی اور پختون کی بنیاد پر لڑیا جا رہا ہے‘ نوجوانوں کو مذہب اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز راولپنڈی آرٹس کونسل میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایکسپو 2022ء میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی سید عارف شیرازی، ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حمزہ صدیقی، حسن بلال ہاشمی اور ناظم اسلامی جمعیت طلبہ راولپنڈی سیف اللہ بٹ نے بھی اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی اور اسلامی یونیورسٹی کے حالیہ واقعات کے پیچھے مافیاز کام کر رہے ہیں‘ الحمد للہ آج کا نوجوان باشعور ہے‘ اسلامی جمعیت طلبہ نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا اہتمام کرتی ہے‘دنیا میں جتنی بھی علمی ترقی ہوتی ہے‘ اس کے پیچھے اصل علم مسلمان سائنسدانوں کا تھا۔