آسان ٹیکنالوجی سے معذور افراد کی مدد کی جا سکتی ہے، صدر علوی

56

اسلام آباد (صباح نیوز) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ترقیاتی شراکت داروں اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں نظر انداز کیے گئے ایک ارب معذور افراد کی ٹیکنالوجی معاونت کے ذریعے ضروریات پوری کرنے میں تعاون کرے، افراد باہم معذوری کی زندگیوں میں آسانی لانے کیلیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، پاکستان اس معاملے پر عالمی برادری کی توجہ دلانے کیلیے عالمی سطح پر کوششوں میں سب سے آگے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دوسرے معذوری سربراہ اجلاس کے تناظر میں معاون ٹیکنالوجی (اے ٹی) کو متحرک کرنے کے موضوع پر تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ 21ویں صدی میں دنیا کو ایک ارب معذور افراد کی ضروریات کو دیکھنا چاہیے جن کو نظر انداز کیا گیا اور ان کی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر معاونت کی ضرورت ہے، انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے اور بعض اوقات انہیں عینک جیسی سادہ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، آسان معاون ٹیکنالوجی کے ذریعے معذور افراد کو مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ 90 فیصد افراد باہم معذوری کی معاون ٹیکنالوجی تک رسائی نہیں ہے، ان افراد کی فلاح و بہبود اور معاون ٹیکنالوجی تک ان کی رسائی میں بہتری اہم معاملہ ہے، انہوںنے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی معذور افراد کے مسائل اور حقوق سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معذور افراد تک رسائی کیلیے کوششیں کر رہا ہے اور احساس پروگرام کے ذریعے انہیں امداد فراہم کی جا رہی ہے۔