سندھ حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ احتجاج کا اعلان

133

 کراچی: سندھ کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوںنے اعلان کیا ہے کہ پیپلز پارٹی  کی سندھ حکومت کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف مشترکہ اپوزیشن ہفتہ کو فوارہ چوک پر تاریخ احتجاج کرے گی۔ اس بلدیاتی قانون کے خلاف اہم فیصلے کیے جائیں گے۔اگر اس بلدیاتی قانون کوفوری واپس نہیں لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کردیا جائے گا۔مشترکہ اپوزیشن وزیراعلی ہاوس پر دھرنا بھی دے سکتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار اپوزیشن رہنمائوں  سردار عبدالرحیم۔محمد حسین۔جاوید حینف۔بلال غفار۔حسینن مرزا اور عارف مصطفی جتوئی  نے  جمعہ کو مسلم لیگ فنکشنل ہائوس کراچی میں  مشترکہ اپوزیشن جماعتوں جی ڈی اے،پی ٹی آئی،اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں کے  اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔

اجلاس میں جی ڈی اے کے انفارمیشن سیکریٹری سردار عبدالرحیم، ایم پی اے حسنین مرزا،عارف مصطفی جتوئی، پی ٹی آئی بلال غفار،ایم کیوایم پاکستان کے محمد حسین، جاوید حنیف نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار عبدالرحیم نے کہا کہ کالے قانون کے خلاف 12 جنوری کو سندھ کے تمام اضلاع کے پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور 15 جنوری فوارہ چوک کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا،بلدیاتی اختیار اگر منتخب نمائندوں کو ملے اور پرائیس کنٹرول کا اختیار بھی دیا جائے تو مہنگائی ختم ہوسکتی ہے، تمام اختیارات ایک ایس او کو دیے گئے ہیں،تو پھر بلدیاتی انتخابات کا کیا فائدہ ہوگا،

انہوں نے کہا عوام کی طاقت سے یہ قانون ختم کرائیں گے، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرکے اس قانون کو ختم کرانے میں مدد لینگے، جی ڈی اے کا کسی سے تنازعہ نہیں ہے،جی ڈی اے تمام جلد آل پارٹیز منعقد کرے گی،جس میں تمام جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ اس احتجاج کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ہم وزیر اعلی ہاؤس بھی جاسکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پولیس گردی شروع ہوگئی ہے پی ایس 109 میں پولیس نے فنکشنل لیگ کی احتجاجی کیمپ اکھاڑ دی ہے،اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے محمد حسین نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے بلدیاتی ترمیمی بل کی صورت میں  لوکل باڈیز سے تمام اختیارات چھین لیے ہیں سندھ کی شہری اور دیھی عوام اس بات پر متفق ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں عوام کو تمام بلدیاتی سہولیات میسر نہیں ہونگی۔ اس سندھ دشمن بلدیاتی قانون کو ختم کیا جائے،

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی نے کبھی بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے،اور اب بھی بے اختیار بلدیاتی انتخابات کروارہی ہے جو سندھ کی عوام کو قابل قبول نہیں،تینوں جماعتوں نے ہفتہ کے احتجاج کے لیے بھرپور تیاری کی ہے،یہ احتجاج حکمرانوں کو سوچنے پر مجبور کرے گا،ہمیں عوام کی حمایت حاصل ہے،ہم نے 2019 میں بلدیاتی بل سندھ اسیمبلی میں جمع کروایا ہے مگر اسپیکر ڈکٹیٹرشپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بل پر بحث کرنے نہیں دے رہے ہیں،پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بلال غفار نے کہا کہ سندھ کا اہم مسئلا ہے،اس  احتجاج میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت شرکت کرے گی، پیپلز پارٹی جوائنٹ اپوزیشن کو احتجاج کرنے پر مجبور کررہی ہے،سندھ کے تمام اضلاع کی حالت بہت خراب ہے نہ پینے کا پانی ہے، گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ کالا سندھ دشمن بلدیاتی قانون ختم کیا جائے،

ایم کیو ایم کے جاوید حنیف نے کہا کہ اسپیکر اپنے مرضی کے بل پر بحث کرنے دیتے ہیں اپوزیشن کی نہیں سنی جاتی ہے۔جی ڈی اے رہنماء  حسنین مرزا اور عارف جتوئی اور دیگر نے کہا کہ یہ کالا بلدیاتی قانون ہے۔اس قانون کے خلاف ہرفورم پر احتجاج کریں گے۔