کالابلدیاتی قانون: مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا، حافظ نعیم

261

کراچی:سندھ اسمبلی کے باہر پیپلزپارٹی کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنے کے پندرہویں روز 5دن کے تعطل کے بعد اسمبلی میں جماعت اسلامی اور صوبائی حکومت کی ٹیموں کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔

جماعت اسلامی کی مزاکراتی کمیٹی میں نائب امیر جماعت اسلامی کراچی نائب امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز، ڈاکٹر اسامہ رضی، ممبر سندھ اسمبلی و امیر ضلع جنوبی سید عبدالرشید اور امیر ضلع قائدین سیف الدین ایڈووکیٹ جب کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے سینئر صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ، وقار مہدی کے علاوہ سابق سٹی نائب ناظم طارق حسن بھی شامل تھے۔

حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد میڈیا کے نمائندوں اور دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مطالبات کی منظوری تک مذاکرات اور دھرنا جاری رہے گا اور شہر بھر میں تحریک چلتی رہے گی، اتوار16جنوری کو تمام اضلاع سے ریلیاں نکالی جائے گی اور شاہراہ فیصل پر بھرپور مارچ کیا جائے گا جس میں کراچی کی مائیں،بہنیں، بیٹیاں بھی بڑی تعداد میں شریک ہوں گی۔

 سندھ اسمبلی کا باہر دھرنے کا مرکز رہے گا جبکہ پورے کراچی میں ریلیاں نکالی جائے گی،جماعت اسلامی مذاکرات کے پوائنٹ آف نوریٹرن تک کے جانے تک مذاکرات جاری رکھے گی، حکومتی مذاکراتی ٹیم نے جماعت اسلامی کی تجاویز نوٹ کرلی ہیں،حکومتی مذاکراتی ٹیم نے بہت سی باتوں سے اتفاق بھی کرلیا ہے تاہم کچھ باتیں ابھی حل طلب ہیں۔

جماعت اسلامی نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے واضح بات کی کہ ہم کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی مطالبہ نہیں کررہے،ہم نے صوبائی حکومت کے وفد سے دوٹوک کہا تھا کہ عملی اقدامات تک دھرنا جاری رہے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ساڑھے تین کروڑ آبادی والے شہر میں بااختیار شہری حکومت قائم کی جائے،میئر اورڈپٹی میئر کا انتخاب براہ راست کیاجائے،دیہی و شہری آبادی میں یونین کمیٹی میں آبادی کا تناسب برابر ی کی بنیاد پر ہونا چاہیئے، کراچی کے تمام شہری محکمے بلدیاتی حکومت کے ماتحت کیے جائیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ  ہمارے مطالبات آئین کے آرٹیکل 140-Aکے عین مطابق ہیں،  کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کو صرف صوبائی حکومت ہی نے ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت نے بھی نظر اندا ز کیا ہے،17سال میں کراچی کے عوام کے لیے ایک بوند پانی میں بھی اضافہ نہیں ہوا،ماس ٹرانزٹ پروگرام پر عمل نہیں ہوا، پورے پاکستان میں آدھا ٹیکس کراچی اور بقیہ پورا پاکستان دیتا ہے۔

امیرجماعت اسلامی نے مزید کہاکہ میں دھرنے کے شرکاء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے اپنے عز م و حوصلے سے دھرنے کو جاری رکھا،آج  دھرنے کے شرکاء کی آواز پورے پاکستان میں گونج رہی ہے۔علاوہ ازیں سندھ اسمبلی باہر دھرنے میں شہر بھر سے خواتین کی شرکت وجوش وخروش میں مسلسل اضافے نے احتجاج کو ایک نیا جذبہ فراہم کردیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز بھی شہر کے مختلف علاقوں سے خواتین بچوں کے ہمراہ دھرنے میں اظہار یکجہتی کے لیے پہنچیں،دھرنے میں مختلف سیاسی،سماجی ودیگر پارٹیوں سمیت مختلف وفود نے شرکت کی۔ضلع ملیر،ضلع کورنگی سے آنے والے قافلے داؤد چورنگی لانڈھی اور ڈی سی آفس کورنگی سمیت مختلف چورنگیوں پر دھرنا دیتے ہوئے اسمبلی پہنچے۔دھرنے سے امیر ضلع ملیر محمد اسلام،امیر ضلع کورنگی عبد الجمیل و دیگر نے خطاب کیا۔جب کہ جماعت اسلامی ضلع شرقی کے تحت کل15جنوری کو6اہم شاہراہوں پر دھرنے دیئے جائیں گے۔